پھر بھی دل ہے پاکستانی!


گزشتہ شام ایک پنجابی دوست کے ساتھ خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود تک کا سفر کیا۔ پشاور اور خیبر ایجنسی کے سنگھم پر واقع کارخانو یعنی باڑہ مارکیٹوں سے لے کر تاریخی باب خیبر تک جگہ جگہ مختلف مقامات کو قبائلی عوام نے سبز ہلالی پرچموں اور برقی قمقموں سے سجایا تھا جو قابل دید تھا۔ میرا دوست یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ فاٹا کے لوگ تو پنجابیوں سے بھی زیادہ وطن عزیز سے محبت کرتے ہیں۔ میں نے کہا جی ہاں!درست فرمایا آپ نے۔

اس کے بعد میرے دوست نے کہا کہ سڑک تو بہت پائیدار ہے، اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر اداروں کی حالت کیسی ہے یہاں؟ میں نے جواب دیا کہ اسپتالوں کی عمارتیں بھی بہت شاندار اور خوبصورت ہیں لیکن ان میں نہ تو بنیادی سہولیات ہیں اور نہ ہی ڈاکٹرز اس لئے غریب قبائلی عوام کو معمولی علاج کے لئے بھی پشاور جانا پڑتا ہے۔ اسکولوں کی حالت یہ ہے کہ69سال گزرنے کے باوجود آج بھی قبائلی بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور موسم کی شدت برداشت کرنے کے لئے بھی وہاں کوئی سہولت نہیں ہے جبکہ پانی اور بجلی بھی ان کو میسر نہیں ہے جبکہ قبائلی خواتین میلوں دور بھاری بھاری بالٹیوں میں چشموں اورندیوں سے اپنے سروں پر پانی لایا کرتی ہیں اور مقامی لوگ بجلی کی ایک جھلک کے لئے بھی ترس رہے ہیں۔

یہ سن کر میرے دوست بولے کہ یہ جو باب خیبر پر سجائے گئے لائٹس آن ہے کیا یہ بجلی نہیں ہے؟ میں نے جواب دیا کہ یہ بجلی ہی ہے چاہے ٹیسکو والی ہو اور یا جنریٹر والی ہو اور یہ تو آزادی کی خوشی والی بجلی ہے لیکن باقی پورے علاقے میں تاریکی ہے۔ اس کے بعد میرے دوست فیس بک پر اپنی باب خیبر والی تصویر اپلوڈ کرنا چاہتے تھے لیکن ناکام رہے اور سوال کیا کہ یہاں تو تھری جی انٹرنیٹ سروس بھی نہیں ہے؟ میں نے کہا کہ یہ سہولت حکام نے دو ماہ پہلے معطل کی ہے؟ دوست نے پوچھا کیوں اور میں خاموش ہوگیا۔

جمرود بازار میں خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں کے پاس کلاشنکوف دیکھ کر میرے دوست نے حیرانی کے عالم میں پوچھا کہ یہاں پولیس کی وردی مختلف کیوں ہے؟ میں نے کہا یہ پولیس نہیں ہے بلکہ ہماری مقامی فورس ہے جس کے بعد انہوں نے سوال کیا کہ یہاں پولیس کیوں نہیں ہے؟ میں نے جواب دیا کہ فاٹا میں پاکستانی قوانین لاگو نہیں ہوتے ہیں۔ دوست نے پوچھا کہ پھر یہاں کون سا قانون ہے؟ میں نے جواب دیا کہ قبائلی علاقوں میں انگریزوں کا بنایا ہوا قانون ایف سی آر چل رہا ہے۔ دوست نے کہا کہ انگریز تو چلے گئے ہیں اور ہم تو اب آزاد قوم ہیں لیکن یہاں گوروں کا نظام اب تک کیوں چل رہا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ شاید وفاقی حکومت نہیں چاہتی کہ یہ قانون ختم ہوجائے اور اس لئے آج تک یہ نظام زندہ ہے۔

میرے دوست نے صحافت کے بارے میں سوال کیا کہ خیبر ایجنسی سے کوئی مقامی اخبار شائع ہوتا ہے؟ میں نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کرسکتے ہیں؟ دوست نے کہا کیوں؟ میں نے جواب دیا کہ فاٹا میں پیمرا کے قوانین اور پبلیکیشن ایکٹ لاگو نہیں ہوتے اس لئے یہان کوئی بھی شخص اخبار، میگزین اور رسالہ وغیرہ چھاپ نہیں سکتے ہیں۔

اس دوران ہم باتوں باتوں میں ایک دکان سے چپلی کباب خریدنے چلے گئے جہاں کباب پکانے کے لئے لکڑیوں سے آگ لگی ہوئی تھی۔ میرے دوست نے یہ دیکھ کر میری طرف دیکھا اور کہا کہ یہاں گیس کی سہولت بھی نہیں ہے؟ میں نے کہا جی ہاں! قبائلی عوام گیس کی نعمت سے بھی محروم ہیں۔ میرے پنجابی دوست نے حیران ہوکر کہا کہ قبائلی عوام کمال کے لوگ ہیں، نہ یہاں پاکستانی قوانین لاگو ہیں، نہ بجلی ہے، نہ گیس ہے اور نہ ہی پانی ہے، یہاں پر اداروں کی حالت بھی خراب ہیں اور زندگی کی دیگر سہولیات بھی ناقص ہیں لیکن ان تمام مسائل اور محرومیوں کے باوجود بھی قبائلی عوام پاکستان سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں اور جشن آزادی کو نہایت حب الوطنی اور جوش و جذبے سے منا رہے ہیں۔ میں نے کہا جی ہاں! نہ گیس ہے، نہ بجلی اور نہ ہی پانی لیکن پھر بھی دل ہے پاکستانی۔ یہ سن کر میرے دوست نے پاس والی دکان سے پاکستان کا جھنڈا اٹھایا اور میرا ہاتھ تھام کر زور سے نعرہ لگایا کہ غیور قبائلی عوام کو ہزاروں سلام کے ساتھ پاکستان زندہ باد! قبائلی عوام پائندہ باد!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

راحت شنواری کی دیگر تحریریں
راحت شنواری کی دیگر تحریریں