مفتی سعد الحجری کی عظیم سائنسی دریافت


جاپان کے نقشے کو غور سے دیکھیں تو یہ جنوب مغرب سے شمال کی طرف بڑھتی ہوئی لمبوتری سی ایک شکل ہے۔ شمال مشرق کے آخری کنارے پر واقع جزیرے کا نام ہکیڈو ہے۔ اس دور افتادہ جزیرے پر، مزید دور افتادہ ایک جگہ جس کا نام کامی شراتا ہے۔ یہاں ایک چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن ہے، ریل یہاں رکتی تھی۔ 2012ء میں ریل کمپنی نے نوٹ کیا کہ مسافروں کی تعداد یہاں تقریباً صفر ہے، یہاں تک ریل کا آنا اور پھر واپس جانا نِرا گھاٹے کا سودا ہے۔ کیوں نہ یہ ریلوے اسٹیشن بند کر دیا جائے۔ ریلوے کمپنیوں کے لیے اس طرح کے فیصلے معمول کی کارروائی ہیں۔ چنانچہ انتظامیہ نے متعلقہ عملے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کامی شراتا کے اسٹیشن پر صرف اور صرف ایک لڑکی آتی ہے۔ صبح ٹرین پر سوار ہوتی ہے۔ سہ پہر کو واپس اترتی ہے۔ مزید تفتیش کی تو پتا چلا کہ یہ لڑکی کانا کسی دوسرے قصبے میں ٹرین کے ذریعے سکول میں تعلیم حاصل کرنے جاتی ہے، ٹرین بند ہو گئی تو اس کا جانا ناممکن ہو جائے گا۔ کمپنی نے فیصلہ کیا کہ جب تک لڑکی اپنی پڑھائی مکمل نہیں کر لیتی، ریل سروس بند نہیں کی جائے گی- تین سال۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ پورے تین سال ریل اس اسٹیشن پر صرف کانا کے لیے آتی رہی، صبح سات بجے کانا ٹرین پر سوار ہوتی تھی،شام کو پانچ بجے ٹرین اسے واپس چھوڑنے آتی تھی۔ برف سے اٹے اسٹیشن پر لڑکی اترتی تھی۔۔۔ اکیلی! اور اپنے گھر کو روانہ ہو جاتی تھی۔

گھاٹے کا یہ کارو بار تین سال جاری رہا۔

مارچ 2016میں کانا نے ہائی سکول مکمل کر لیا، اور ریل نے بھی یہاں سے رختِ سفر باندھ لیا۔ جن دنوں کانا کو سکول سے چھٹیاں ہوتی تھیں، ٹرین یہاں نہیں رکتی تھی۔ اتوار کے دن بھی رکے بغیر گزر جاتی تھی۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ اس ریلوے کمپنی نے گھاٹے کا یہ کاروبار تین سال کیوں جاری رکھا؟۔۔۔ لاکھوں روپوں کا نقصان کیوں برداشت کیا؟ اس کی واحد وجہ جاپان کی خاص طور پر اس ریلوے کمپنی کی جہالت تھی،جہالت میں ڈوبی ہوئی جاپانی قوم اگر مسلمانوں سے تازہ ترین علوم حاصل کرتی تو کانا کو اتنی اہمیت بھی نہ دیتی جتنی گھاس کے سوکھے تنکے کو دی جاتی ہے اول اس لیے کہ کانا عورت ذات تھی۔ دوم اس کے دماغ میں اتنی اہلیت ہی نہیں تھی کہ وہ پڑھ سکے اور علم حاصل کر سکے۔ جاپان کے جہلا کو معلوم ہونا چاہیے کہ کانا کے سر میں موجد مغز مرد کے دماغ کا نصف تھا، جب وہ بازار شاپنگ کے لیے جاتی تھی تو اس نصف کا نصف رہ جاتا تھا، باقی کتنا بچا؟

ایک چوتھائی! ایک چوتھائی دماغ کے ساتھ کانا نے کیا علم حاصل کرنا تھا، گنجی نہائے گی اور نچوڑے گی کیا؟ افسوس! ریل کمپنی نے جو تین سال گھاٹے کا کاروبار کیا،اس سے کوئی علمی فائدہ حاصل نہ ہوا۔  تفصیل اس حیران کن اجمال کی یہ ہے کہ اس مقدس مملکت میں جو ہم مسلمانوں کا روحانی دینی و شرعی مرکز ہے، ایک ممتاز عالم دین جناب مولانا سعد الحجری نے جو عیسر کے صوبے میں علما کونسل کے رکن ہیں، فتویٰ دیا ہے کہ عورتوں کا دماغ مردوں کی نسبت آدھا ہے۔ بازار میں خریداری کے لیے نکلتی ہیں تو اس میں بھی آدھا رہ جاتا ہے۔ باقی ایک چوتھائی سے وہ ڈرائیونگ کیسے کریں گی؟ یہ ہے وہ ٹیکنیکل وجہ جس کی بنا پر عورتوں کی ڈرائیونگ منع ہے۔

اس جدید ترین سائنسی ایجاد سے فائدہ اٹھانے کے بجائے صوبے کے گورنر نے حضرت سعد الحجری کو امامت، خطابت اور تبلیغ سے روک دیا ہے۔ غالباً اس اقدام کی وجہ یہ ہوئی کہ سوشل میڈیا میں اس سائنسی دریافت سے طوفان آ گیا۔ فیس بک اور ٹویٹر پر لاکھوں کے حساب سے لوگوں نے یہ خبر پڑھی۔ خود مقدس مملکت میں حضرت کا مذاق اڑایا گیا اور خوب اڑایا گیا۔

مسلمان شروع ہی سے سائنس کے دشمن ہیں۔ چنانچہ اس روایت کے تسلسل میں حضرت سعد الحجری پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ خدا کے بندو، پابندی لگانے کی بجائے پوری دنیا کے ماہرین دماغ کو چیلنج کرتے کہ عورت کے دماغ کی اس نئی دریافت کا جواب دے کر دکھاؤ۔

حضرت مولانا سعد الحجری نے میڈیکل سائنس کا علم کہاں حاصل کیا؟ یہ تو معلوم نہیں مگر ان کے لائق فخر اساتزہ کو تمغہ دینا چاہیے کہ کیا جوہر قابل پیدا کیا ہے انہوں نے، سبحان اللہ! پوری دنیا کے ڈاکٹروں کا بوتھا حضرت نے ایک ہی ضرب سے توڑ کر رکھ دیا، بدبخت! نیورو سرجن! آج تک یہ حقیقت دنیا سے چھپائے بیٹھے تھے کہ موئی عورتوں کا دماغ آدھا ہے۔

ان نابغہ روزگار اساتذہ نے صرف ایک سعد الحجری تو نہیں پیدا کیا ہوگا۔۔۔ آخر ان کے اور بھی شاگر د ہوں گے، ایسی نابغہ پیداوار صرف ایک سکالر تک تو محدود نہیں ہو سکتی، باقی موتی اور ہیرے جانے کہاں کہاں سائنس کی کرامات پھیلا رہے ہوں گے۔ ان سب کو یکجا کرکے ایک “مرکزِ علوم دماغ ” بنانا چاہیے، جس کے باہر پتھر نصب ہو اور اس پر یہ عبارت کندہ ہو،

“یہ سعد الحجری تھا جس نے 2017 میں دنیا کو پہلی بار آگاہ کیا کہ عورت کا دماغ آدھا ہے اور خریداری کے دوران ایک چوتھائی رہ جاتا ہے۔” ساتھ حضرت کی تصویر لگانا ہوگی اور ان کے اساتذہ کی بھی۔ مفتیان کرام اجازت دیں تو ان کے مجسمے بھی نصب کرنے چاہئیں۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ انہی حضرت نے ایک تقریر کرتے ہوئے عورتوں کی ڈرائیونگ کے بیس نقصانات گنوائے۔ اس سے پہلے ایک صاحب جن کا تعلق اسی مقدس اقلیم سے ہے، عورتوں کی ڈرائیونگ کا ایسا میڈیکل نقصان بتایا جسے لکھنے کی قلم اجازت نہیں دیتا، کیوں کہ یہ اخبار بچے اور لڑکیاں بھی پڑھتی ہوں گی۔

آقائے نامداررﷺ پر یہ وحی تو آگئی تھی کہ آج کے دن ہم نے تم پر تمھارا دین مکمل کردیا ہے، مگر علما کرام کو عملاً اس سے شدید اختلاف ہے۔ ملائشیا میں فتویٰ دیا گیا کہ غیر مسلم “اللہ ” کا نام استعمال نہیں کر سکتے۔ 14 سو سال میں کسی صحابی، کسی تابعی، کسی محدث، کسی مفسر، کسی فقیہہ نے ایسا حکم نہ دیا بلکہ کلام پاک میں یہ حقیقت موجود ہے کہ مشرکین “اللہ” کا لفظ باری تعالیٰ کے لیے استعمال کرتے تھے۔”اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو کہیں گے اللہ نے” ،(سورہ زخرف) یہی حقیقت سورہ زمر، سورۃ یونس اور سورۃ مومنون میں بیان کی گئی ہے۔

بنگلہ دیش کے علما نے بیماروں،اپاہجوں اور بوڑھوں کو کرسی پر نماز پڑھنے سے منع کردیا ہے، کہ کھڑے ہوئے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ آج تک تو یہی سنتے آئے ہیں کہ نماز مجبوری میں بستر پر لیٹ کر اشارے سے بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ ایران میں صرف اس لیے ہنگامہ ہوا کہ وہاں کے وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب سے یا شاید امریکی صدر سے مصافحہ کرلیا تھا۔

مسجدوں میں کثیر تعداد میں سُترہ رکھا جانے لگا ہے، 14 سو سال میں تو اس کا رواج نہ تھا۔ بچہ بچہ جانتا ہے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنا منع ہے۔ ہر شخص اس ضمن میں مکمل اختیار برتتا ہے مگر ایک اضافی شے کا التزام ہونے لگا ہے۔ ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے،جس میں “کھیرا ” کاٹنے کا شرعی طریقہ بتایا جا رہا ہے۔ کیا کسی مسلک کی کسی کتاب میں ایسا مسئلہ ہے؟ ہوتا تو بہت سوں کو معلوم ہوتا۔

اس طرح کے بہت سے مسائل کھڑے کرکے ان پڑھ سادہ لوح عوام کو، جنھیں دین کے مآخز کا کچھ پتا نہیں، بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ ان کی زندگی میں سہولت پیدا کرنے کے بجائے پیچیدگیاں بڑھائی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی مذہب کو تجارت کے لیے خوب خوب استعمال کیا جا رہا ہے۔ کلونجی، شہد اور عجوہ کھجور کے حوالے سے کروڑوں روپے کمائے جا رہے ہیں، “اسلامی شہد” کے بورڈ جگہ جگہ نظر آرہے ہیں۔ کیا کوئی شہد غیر اسلامی بھی ہے؟ مگر پوچھیں گے تو پتھر پڑیں گے۔ کیا عجب کافر کہہ کر مار ہی دیے جائیں۔

اب یہ جو فرمان ہے حضرت سعد الحجری کا روزنامہ ٹائمز آف اسرائیل سے لے کر گارڈین اور رائٹر تک سب نے مزے لے لے کر سنایا ہے،آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ یہود و نصاریٰ کی سازش ہے، مگر اس کا کیا کیجئے کہ یہ خبر عرب نیوز اور دیگر عربی اخبارات نے شائع کی ہے۔ کیا اس نام نہاد عالم کے لیے یہ سزا کافی ہے کہ اسے تبلیغ، امامت اور خطابت سے روک دیا جائے؟ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کی مراعات اور تنخواہ بھی روک دی گئی ہے یا وہ جاری رہے گی۔۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ اس سے کہا جائے کہ اپنا بیان دلیل سے ثابت کرو،اس علم کا ریفرنس کہاں ہے؟ کس سائنسدان یا ڈاکٹر نے اس کی تصدیق کی ہے؟ اگر سعد الحجری کے پاس ثبوت ہے نہ گواہی نہ سائنسی شہادت تو اسے قید کی سزا دینے کے علاوہ کوڑے بھی مارے جانے چاہئیں جب کہ وہاں بات بات پر کوڑے مارنے کی سزا دی جاتی ہے۔ شورش کاشمیری نے کہا تھا

جن کا دل خوف سے خالی ہے بہ ایں ریش دراز

ایسے الزام تراشوں پہ خدا کی پھٹکار!

ضرورت ان فیکٹریوں کو بند کرنے کی ہے جہاں سے سعد الحجری جیسے پرزے اور آلات بن بن کر نکل رہے ہیں اور معاشرے میں پھیل رہے ہیں،یہ فیکٹریاں بند کیجئے،خدا کے لیے یہ فیکٹریاں بند کیجئے!

(بشکریہ روزنامہ 92 نیوز)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔