ملیحہ لودھی کی غلطی اور اقوام متحدہ کی قرارداد


ملیحہ لودھی کی تقریر کیا مکمل ہوئی، ہر جانب ایک کہرام مچ گیا۔ قوم کو بتایا گیا کہ سشما سوراج کو ایک منہ توڑ جواب دے دیا گیا ہے۔ یہ مژدہ بھی عنایت ہوا کہ کشمیر پر عالمی ضمیر کو برسوں بعد یوں جھنجھوڑا گیا ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ ظلمت شب کے سپیدہ سحر میں بدلنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ دہشت گرد بھارت کا چہرہ بے نقاب کر دیا گیا ہے، بھارتی سفارت کار منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ کشمیر پر اب ایک نئے دور کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔

افسوس یہ خوشی حباب آسا نکلی۔ اور عالمی ضمیر کی جھیل کی سطح پر چند لمحے بھی نہ تیر پائی کہ پھوٹ گئی۔ جس بات کو لے کر سب سے زیادہ غلغلہ مچا وہ ہماری نگاہ میں تو ثانوی اور ضمنی تھی پر اس سے ہونے والا نقصان شاید ناقابل تلافی ہے۔ تقریر کے دوران ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بھارت کی بربریت کے ثبوت کے طور پر ایک تصویر لہرائی ۔ تصویر میں پیلٹ گن کی تباہ کاری کا شکار ایک نوجوان لڑکی کا چہرہ ہر کسی کو متاثر کر گیا۔ تصویر چند لمحوں میں وائرل ہو گئی پر اس سے پہلے کہ اس سفاکیت پر بھارت کو مطعون کرنے کا سلسلہ شروع ہو پاتا، یہ حقیقت سامنے آ گئی کہ یہ تصویر نہ کشمیر کی ہے نہ کسی کشمیری لڑکی کی۔ یہ تصویر نکلی راویہ ابوجما کی۔ 22 جولائی 2014 کو ایوارڈ یافتہ فوٹوگرافر ہائیڈی لیوائین نے یہ تصویر غزہ کے الشفاء ہسپتال میں لی تھی۔ راویہ کے گھر  پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے اس کی بہنیں جاں بحق ہو گئی تھیں اور راویہ کو شدید زخم آئے تھے۔ اس کے چہرے پر موجود زخم پیلٹ گن کے چھروں کے نہیں بلکہ اس کے گھر پر گرنے والے بموں سے نکلنے والے باریک شظایا کے باعث تھے۔ اسرائیل کے 2014 میں غزہ پر کیے گئے حملے میں 2000 سے زائد لوگ اپنی جان سے گئے تھے اور راویہ جیسے لاتعداد شدید زخمی ہوئے تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال نہیں کر رہا؟ تو اس کی کئی ناقابل تردید شہادتیں موجود ہیں کہ اس غیر انسانی ہتھیار کا عام شہریوں پر استعمال ہو رہا ہے۔ اگست 2016 میں نیویارک ٹائمز میں ایلن بیری کا چشم کشا مضمون شائع ہوا تھا۔ نومبر 2016 میں گارڈین نے اسے رپورٹ کیا۔ ہندوستان کے اندر بہت سے صحافیوں اور دانشوروں  نے اس پر آواز اٹھائی۔ 2016 میں ہی دی ہندو اخبار نے یہ انکشاف کیا کہ  پیلٹ گن کے متاثرین میں سے 14 فی صد کی عمریں 15 سال سے کم ہیں۔ 2017 میں بھی اس حوالے سے بھارتی اور بین الاقوامی پریس میں کئی رپورٹس شائع ہوئیں۔ بے شمار تصاویر منظر عام پر آئیں پر ہمارے دفتر خارجہ کو ان میں سے ایک بھی دستیاب نہ ہو سکی۔ ہماری قومی سرشت کا ایک لازمہ شاید بے ایمانی ہے جس سے ہم کبھی نہیں چوکتے۔ میانمار میں روہنجیا کے حوالے سے ہم  اور تو کچھ کر نہ سکے پر فیس بک پر پے در پے ہم نے ایسی تصاویر اور ویڈیوز ڈالنا شروع کر دیں جن کا روہنجیا سے دور دور تک تعلق نہیں تھا۔ یہی حرکت ہم نے حلب کے حوالے سے کی۔ بہت سی ایسی تصاویر ہندوستان سے منسوب ہوئیں جن کا کھرا بعد میں لاطینی امریکا جا کر ملا۔ ایسی تمام حرکتوں سے صرف وہ مقدمہ کمزور ہوا جسے دنیا کے سامنے لانا مقصود تھا۔ لیکن چلیے۔ کی بورڈ مجاہدین سے ایسی توقع کی جا سکتی ہے پر دنیا کے سب سے موقر فورم پر کروڑوں روپے خرچ کر کے اور دفتر خارجہ کے سینکڑوں ملازمین اور افسران کی مشینری کو دن رات چلا کر تجربہ کار سفارت کاروں اور ان کے سہولت کاروں سے ایسی فاش غلطی کا ہونا کمال ہے۔ اب آپ نکو بنیں گے، بھد اڑے گی اور اس بیچ کشمیر کے تباہ چہرے اور بے نور آنکھیں اس دھول میں اوجھل ہو جائیں گی جسے اڑانے کا موقع آپ نے خود پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا ہے۔

لیکن میرے لیے یہ غلطی ایک ضمنی مسئلہ ہے۔ میرے لیے وہ جھوٹ زیادہ اہم ہے جو 1948 سے اب تک ہمیں سنایا جا رہا ہے۔ اسی جھوٹ کی گردان جب اقوام متحدہ میں دہرائی جاتی ہے تو کیا وہ ہمیں سنانے کے لیے ہوتی ہے یا تجربہ کار سفارت کاروں کو قائل کرنے کے لیے۔ چلیے ہم تو پھر مان لیں گے کہ خالص دودھ کی طرح خالص سچ بھی  ہمیں نصیب ہوتا ہے نہ ہضم ہوتا ہے پر سفارت کاری کی دنیا میں تو لوگ صرف منہ چھپا کر ہنس دیں گے۔

ہم ہر چند ماہ بعد اقوام متحدہ کی قراردادوں کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اقوام متحدہ پر “دباؤ” ڈالتے ہیں کہ وہ اپنا “وعدہ” نبھائے۔ بھارت پر زور ڈالتے ہیں کہ وہ کشمیر پر اپنا “غیر قانونی قبضہ” ختم کرے اور کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے کشمیریوں کو “استصواب رائے” کا حق دے۔ یہی پاٹھ ہمارے سکولوں اور کالجوں حتی کہ یونیورسٹیوں میں بھی پڑھایا جاتا ہے۔ کشمیر کی اصل تاریخ جو ہمیں بتائی نہیں جاتی، وہ انتہائی دلچسپ ہے۔ تین جون کا منصوبہ کیا تھا؟ کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہونے میں کیا اڑچن تھی۔ مہاراجہ کے ساتھ ہمارے مسائل کیا تھے؟ کشمیر کی آزاد حیثیت کو سبوتاژ کس نے کیا؟ قبائلی لشکر کشی کا اصل مقصد کیا تھا؟ جنگ میں کس نے کس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا؟ یہ ساری کہانی پھر سہی۔ ابھی ہم 1948 کی جنگ بندی سے بات شروع کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں ہمارا مقدمہ وہیں سے شروع ہوتا ہے اور وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ بات سمجھنا  کوئی مشکل نہیں ہے ۔ اس میں کوئی سربستہ راز نہیں۔ کوئی سازشی مفروضے نہیں۔ بس چھوٹی سی زحمت کیجیے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 47 کا اصل متن پڑھ لیجیے۔ اس کے بعد سر پیٹنے کو دل نہ کرے تو ہم سے گلہ کر لیجیے گا۔

آئیے دیکھیں قرارداد نمبر 47 ہے کیا؟ پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ یہ قرارداد اقوام متحدہ کے باب ششم کی ذیل میں آتی ہے جو کہ باہمی جھگڑوں کے پرامن حل کے بارے میں ہے۔ اس باب کے تحت منظور ہونے والی قرارداد محض ایک مشورہ سمجھی جاتی ہے اور اقوام متحدہ اس کے نافذ کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔ ہمارا آدھا مقدمہ تو یہیں فوت ہو جاتا ہے کہ ہم پھر اقوام متحدہ سے ستر سال سے مطالبہ کس بات کا کر رہے ہیں۔ پر یہ بات درسی کتب آپ کو نہیں بتائیں گی کہ ان کے مطابق تو ہندوستان اقوام متحدہ کی قرارداد کے راستے کی دیوار ہے وگرنہ تو اقوام متحدہ نے کبھی کا کشمیر کا مسئلہ حل کر لینا تھا۔

چلیے آگے بڑھتے ہیں۔ قبائلی لشکر کے حملے کے بعد مہاراجہ کشمیر نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کر لیا۔ اس کے بعد یکم جنوری 1948 کو ہندوستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا کہ پاکستانی شہری اور قبائلی جموں و کشمیر پر حملہ آور ہیں جو کہ اب ہندوستانی علاقہ متصور ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تجویز بھی ہندوستان کی طرف سے آئی کہ اگرچہ وہ الحاق کے بعد کشمیر کو ہندوستانی ریاست سمجھنے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں دیکھتے مگر پھر بھی وہ کشمیر میں استصواب رائے کرانا مناسب گردانتے ہیں۔ اور اس کے ہر نتیجے کو تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔ اس کے جواب میں پاکستان نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ کشمیر میں ملوث ہیں بلکہ یہ کہ ہندوستان نے یہ الحاق دھوکے بازی اور جبر سے کرایا ہے اور ہندوستان مسلمانوں کے کشمیر میں قتل عام کا ذمہ دار ہے۔ پاکستان نے اس امر کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ یہ الزامات کس بنیاد پر ہیں۔ جنوری سے مارچ تک اقوام متحدہ اور ہندوستان و پاکستان مسئلے کا حل نکالنے کی ناکام کوشش کرتے رہے اور محدود پیمانے پر جنگ جاری رہی۔

مارچ میں ہمارے ہمالہ اور بحیرہ عرب والے اونچے اور گہرے دوست چین نے سہ جزوی قرارداد پیش کی جس کا مقصد امن کی بحالی اور جنگ بندی تھا۔ اس کے پہلے حصے میں پاکستانی شہریوں کے کشمیر سے مکمل انخلا کی تجویز تھی۔ اور دوسرے میں استصواب رائے کا مشورہ۔ استصواب رائے کے کمیشن کی تشکیل کی ذمہ داری ہندوستان کو سونپے جانے کا کہا گیا۔ تیسرے حصے میں ایک عبوری حکومت کی کشمیر میں تشکیل کا عندیہ دیا گیا۔ (کچھ حیرانی تو نہیں ہوئی؟)

21 اپریل 1948 کو یہ قرارداد منظور ہوئی جس کا سنتے سنتے پاکستان اور ہندوستان کی تین نسلیں جوان ہو گئی ہیں۔ قرارداد کا متن اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کا لنک یہ ہے

http://www.un.org/en/ga/search/view_doc.asp?symbol=S/RES/47(1948)

جس کو شک ہو وہ خود بھی پڑھ سکتا ہے۔ بس آنکھیں کھلی رکھنے کے ساتھ دل مضبوط کرنا پڑے گا۔

قرارداد میں یہ اتفاق کیا گیا کہ مسئلے کا حل جمہور کی رائے سے ہی ممکن ہے جس کے لیے ایک پانچ رکنی کمیشن کی فوری تشکیل کی جائے گی جو پاکستان اور ہندوستان میں مبصر اور ثالثی مشن کے دفاتر بنائے گا۔ ایک آزادانہ اور غیر جانبدار استصواب رائے کے انعقاد کے لیے ہندوستان اور پاکستان درج ذیل تجاویز پر اسی ترتیب سے عمل پیرا ہوں گے

1۔ پاکستان اپنے تمام شہریوں اور قبائلیوں کو جموں اور کشمیر کی سرحدوں سے باہر نکالے اور تمام ایسے عناصر کی پشت پناہی ختم کرے جو کسی بھی طرح جنگ میں ملوث ہیں (ہم نے آج تک اس شرط پر عمل نہیں کیا۔ اور اس وجہ سے آگے کی تمام شرائط بذات خود کالعدم ہو گئیں)

2۔ جب اقوام متحدہ کا کمیشن اس بات پر مکمل مطمئن ہو جائے کہ کشمیر میں کوئی پاکستانی شہری یا قبائلی موجود نہیں رہا تو کمیشن ہندوستانی حکومت کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنائے جس کے تحت اس کی افواج کا کشمیر سے مرحلہ وار انخلا اس حد تک مکمل کیا جائے کہ ان کی صرف انتہائی ضروری تعداد وادی میں باقی رہے جو کہ صرف سول حکومت کی رٹ قائم کرنے کے لیے لازم ہو۔ (اب کوئی بتائے کہ ہم ہندوستانی فوج کے انخلا کی بات کون سی قرارداد کے تحت کرتے ہیں اور اپنی فوج وادی میں کس قرارداد کے تحت رکھے ہوئے ہیں)

3۔ استصواب رائے کمیشن اور ہندوستانی ذمہ داران کے زیر نگرانی ہو گا۔ (اس کے آگے پھر تفصیلات ہیں کہ اس کا طریقہ کار کیا ہو گا پر ادھر تو ریل پہلے ہی اسٹیشن پر رکی کھڑی ہے تو آگے کا سفر کیا ہو گا؟)

اب جب ملیحہ لودھی جوش خطابت میں اقوام متحدہ کو اس کے وعدے یاد کراتی ہیں تو کارپرداز ناطقہ سر بگریباں ہو جاتے ہیں یا پوچھتے ہوں گے کہ یہ مناقشہ ہے کس حساب میں۔ سفارت کاری کی بزم میں سب جانتے ہیں کہ ہاتھی کے بس دکھانے کے ہی دانت ہیں اس لیے خفیف مسکراہٹوں کے ساتھ ہر کچھ ماہ بعد وہ یہ تماشہ دیکھتے ہیں اور پھر اپنی اپنی راہ لگتے ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان دونوں کشمیر کے لیے لڑتے ہیں۔ سچ ہے۔ پر یہ بھی سچ ہے کہ دونوں کشمیریوں کے لیے نہیں لڑتے۔ اس لیے ستر سال بعد بھی لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف ناچتی غربت، وحشت، بھوک اور موت عام کشمیریوں کا مقدر ٹھہری ہے۔ جھوٹ کے سہارے سبز باغ دکھانا ممکن ہے پر سبزہ حیات کی نمو ممکن نہیں۔ جس دن سچ بولنا سیکھ لیں گے، شاید کوئی حل نکل ہی آئے تب تک آپ تقاریر اور قراردادوں سے دل بہلائیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 94 posts and counting.See all posts by hashir-irshad