یعقوب کایوسف: بھٹکا ہے دل ہوا کی طرح منزلوں سے دُور


مسٹربُکس ، اسلام آباد میں کتابوں کی ایک ایسی دکان جہاں کتابوں سے محبت کرنے والوں کوکتابوں کے ہمراہ یوسف بھائی کی دلدار مسکراہٹ بھی میسر تھی۔ یوسف بھائی اور مسٹر بُکس ہمزاد تھے جو ایک دوسرے کے لیے جیتے اور ایک دوسرے پر مرتے تھے یوسف بھائی کیلئے مسٹر بکس ایک ایسی تصویرتھی جس کے نین نقش وہ تمام عمر سنوارتے رہے۔دونوں نے جیسے اکٹھے جینے مرنے کی قسم کھائی تھی لیکن وہ جوعبیداللہ علیم نے کہاہے:
محبتوں میں عجب ہے دلوں کو دھڑکا سا!
کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے
ایک دن بیٹھے بٹھائے نجانے یوسف بھائی کے دل میں کیا آیا کہ انہوں نے اپنا راستہ بدل لیا۔مسٹربکس، دنیا اور ہم سے منہ موڑلیا۔
یوسف بھائی کاسفرِ زندگی تمام ہوا ،یہ سفر خواہشوں، خوابوں ،امیدوں، وسوسوں، جد و جہداور کامیابیوں کاسفر تھا۔اس طویل سفر کی دھوپ چھائوں کے کچھ منظر میرے دل کے آئینے میں ابھی تک روشن ہیں۔اس سفر کی ابتدا کب کیسے اورکہاں سے ہوئی یہ جاننے کیلئے ہمیں وقت کی طنابوں کوسمیٹنا ہوگا۔
یوسف بھائی کے والد یعقوب صاحب فوج میں تھے ان کی تبدیلی ایبٹ آباد ہوئی اوروہیں ان کی ریٹائرمنٹ ہوئی۔ایبٹ آباد کے شہرِخوش رنگ نے ان کو اپنا اسیربنالیا۔ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے وہیں رہنے کافیصلہ کرلیا۔یعقوب صاحب کومعلوم تھا ریٹائرمنٹ کے بعد وہ فارغ نہیں بیٹھ سکتے۔چھ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں پرمشتمل ایک بڑے کنبے کی پرورش کیلئے انہیں کچھ کرناہوگا۔ بہت سے خواب ان کی آنکھوں میں جاگے ہوں گے۔ ان ہی خوابوں میں ایک خواب کتابوں کی دکان کھولنے کاتھا۔یہ1950کے لگ بھگ کا ذکرہے یعقوب صاحب نے محدود وسائل کے ساتھ ایبٹ آباد میں ورائٹی بک سٹال کاآغاز کیا۔اس وقت ان کے حاشیہ ٔ خیال میں بھی نہیں ہوگا کہ اس چراغ سے اورکتنے چراغ جلیں گے۔اس دکان میں یعقوب صاحب کے بیٹوں ایوب اوریونس نے بھی ان کاہاتھ بٹاناشروع کردیا۔اب اس دکان کوقائم ہوئے دس برس ہوچکے تھے۔ ایوب اور یونس کاروبارکی نزاکتوں کوسمجھنے لگے تھے۔ وقت آگیاتھا کہ وہ کارزارِحیات میں اپناراستہ خودبنائیں۔یعقوب صاحب کو اپنے بیٹوں کوالوداع کہناتھا ا ن کے جذبات مِلے جُلے تھے۔ خوشی اس بات کی تھی کہ دونوں بیٹے اس قابل ہوگئے تھے کہ اپنے کاروبار کاآغاز کرنے جارہے تھے لیکن دل کے کسی گوشے میں ان سے جداہونے کادردبھی تھا۔
چکور خوش ہیں کہ بچوں کو آ گیا اُڑنا
اُداس بھی ہیں کہ رُت آ گئی جدائی کی
ایوب اوریونس کو اپنے والدصاحب کے ساتھ کام کرنے کاتجربہ تھا۔ اعتماد کے اسی سرمائے کے ساتھ انہوں نے1960میں راولپنڈی کے بینک روڈ پرکتابوں کی نئی دکان ورائٹی بک سٹال کاآغاز کیا۔بعدمیں یعقوب صاحب کے دواوربیٹے ادریس اوریوسف بھی اس دکان پراپنے بھائیوں کاہاتھ بٹانے لگے ۔1970 میں ایوب بھائی نے راولپنڈی میں کیپری بک سٹور کے نام سے نئی دکان کاآغاز کیا۔اسی طرح 1970کی دہائی کے آخرمیں ادریس بھائی نے بینک روڈ پر سٹوڈنٹس بک کمپنی کی بنیادرکھی۔ ان دنوں میں گورڈن کالج میں ایم اے انگلش کاطالب علم تھا ۔کالج کے بعد تقریباََ ہر روز سٹوڈنٹس بک کمپنی جاتا اس میں کتابوں کی کشش کے علاوہ ادریس بھائی کی ہنس مکھ شخصیت کابھی ہاتھ تھا۔ یوسف بھائی ورائٹی بک سٹال کے علاوہ کبھی کبھی سٹوڈنٹس بک کمپنی بھی آجاتے ۔ یہیں ان سے ملاقاتوں کاآغاز ہوا ۔یوسف بھائی کوکتابوں کے اسرار ورموز سے آگاہی ہوچکی تھی۔ وقت آگیا تھا کہ یعقوب صاحب کاسب سے چھوٹا اورہونہار بیٹایوسف چراغوں کے اس سلسلے کوآگے بڑھائے۔ یوسف بھائی نے راولپنڈی سے نکل کر اسلام آباد کاانتخاب کیا۔1982 میںمسٹربکس کی بنیاد رکھی گئی۔ مسٹربکس کانام کچھ ہی عرصے میں اسلام آباد کے ادبی وثقافتی افق پرجگمگانے لگا۔ اس نام کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ یوسف بھائی نے مسٹربکس نام تورکھ لیالیکن کچھ دوستوں نے کہا گرامرکی رُوسے یہ نام ٹھیک نہیں کیونکہ بکس جمع کاصیغہ ہے جبکہ مسٹر واحد کا صیغہ ہے لیکن یوسف بھائی نے مسٹر بکس کانام چلنے دیااورپھر یہ نام زبان زدِخاص و عام ہوگیا۔
1980 کی دہائی میں یعقوب صاحب کے دو اوربیٹوں نے جناح سپرمارکیٹ میں بک فیئرکے نام سے کتابوں کی نئی دکان کھولی ۔ادھرادریس بھائی نے راولپنڈی کے بینک روڈ پرادریس بک بینک کاآغاز کیا۔ بعدمیں رئیس بھائی نے اسلام آباد میں آئی ایٹ میں نیوبک فیئر کے نام سے ایک نئی دکان کی بنیاد ڈالی۔اسی طرح پی ڈبلیوڈی میں ورائٹی بک سٹال اورادریس بک بینک کی برانچز کھل گئیں۔یوں یعقوب صاحب کے بیٹوں کی راولپنڈی اور اسلام آباد میں اب کتابوں کی دس دکانیں ہوچکی ہیں۔1950 میں ایبٹ آباد کے افق پرچمکنے والاستارہ اب ستاروں کی کہکشاں بن چکاہے۔
یوسف بھائی اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے لیکن قدرت نے ان کے مقدرمیں خاندان کاسب سے درخشندہ ستارہ ہونا لکھا تھا، بہت محنتی اور ملنسار تھے کتابوں اورکتابیں لکھنے والوں سے محبت کرتے تھے۔ جب تک میں اسلام آباد میں تھا یوسف بھائی سے اکثر ملاقات رہتی پھر ملازمت کے سلسلے میں کراچی اورلاہور میں قیام رہا۔ اس دوران کبھی کبھار فون پربات ہوجاتی ایک بار انہوں نے لاہورفون کیا اپنی بیٹی کی تعلیم کے حوالے سے مشورہ کیا۔ اس دوران دوبڑی تبدیلیاں آئیں ایک تومسٹربکس پرانی عمارت سے نئی عمارت میں منتقل ہوگئی اور دوسرے یوسف بھائی بیماریوں کی زدمیں آگئے۔ ایک طویل عرصے کے بعد جب میں اسلام آباد واپس آیا اوریوسف بھائی سے ملاقات ہوئی تودل دھک سے رہ گیا ان کی بینائی خطرناک حدتک متاثرہوچکی تھی۔ پھربیماری اس حدتک بڑھی کہ ڈاکٹرنے ان کی ٹانگیں کاٹنے کامشورہ دیا ۔یوسف بھائی نے سب آزمائشوں کا جرات سے سامنا کیا۔
یوسف بھائی سے میر ی آخری ملاقات مسٹربکس میں ان کے آفس میں ہوئی میرے ساتھ میرا چھوٹا بیٹا شعیب تھا ،جوکتابوں کارسیاہے۔یوسف بھائی ہمیشہ کی طرح بہت محبت سے ملے، چائے کادورچلا ،کتابوں کی باتیں ہوئی۔ اس دور کی یادوں کوتازہ کیا جب وہ راولپنڈی میں ورائٹی بک سٹال اورسٹوڈنٹس بک کمپنی میں ہوتے تھے۔ معلوم نہیں تھا کہ یوسف بھائی سے یہ میری آخری ملاقات ہوگی۔جب یوسف بھائی کی ناگہانی موت کی خبر ملی تونصف صدی کاسفر میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔یعقوب بھائی کے چھ بیٹوں میں اب صرف رئیس بھائی باقی رہ گئے ہیں۔ اللہ ان کی عمردراز کرے۔یوسف بھائی کے رخصت ہونے کے بعدمیں مسٹربکس گیا تودل کی عجیب کیفیت تھی۔ اُن کے آفس میں ان کے بیٹے سعد اور عبداللہ سے یوسف بھائی کی باتیں ہوتی رہیں ان کے ناتواں کندھوں پر اچانک بھاری ذمہ داری آن پڑی تھی۔ میں نے دیکھا ان کی آنکھوں میں وہی چمک اور چہرے پرویسی ہی مسکراہٹ تھی جویوسف بھائی سے وابستہ تھی۔مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے قابلِ فخروالد کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔
چھوٹے بیٹے عبداللہ نے بتایا کہ کیسے عید کے دوسرے روز یوسف بھائی نے اچانک نتھیاگلی جانے کاپروگرام بنالیا،ہم سب منع کرتے رہے لیکن کوئی شے تھی جوانہیں اپنی جانب کھینچ رہی تھی یوسف بھائی ضدکرکے بچوں اوربیگم کے ہمراہ نتھیاگلی کونکل گئے۔ گھر کی دہلیز کے اُس پار موت اُن کا انتظارکررہی تھی۔ انہوں نے گھبراہٹ کی شکایت کی توبچوں کولگا انکی شوگرکم ہورھی ہے ۔ لیکن یوسف بھائی کویقین ہوگیاتھاکہ آخری وقت آپہنچا ہے، انہوں نے کلمہ پڑھا اور اپنے پیاروں کوچھوڑ کر اُس دیس چل دیئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ لیکن مجھے یقین ہے اس دیس میںان کی ملاقات اپنے والد یعقوب صاحب سے ضرور ہو گی ۔ یعقوب صاحب ! اب آپ کاانتظارختم ہوتا ہے آپ کا سب سے ہونہار اورسب سے لاڈلا بیٹا آپ سے ملنے آرہا ہے۔ وہ کاروبارِزندگی کے ہنگاموں سے تھک گیا تھا اور اب چین کی لمبی نیند سونا چاہتا تھا آپ سے ملاقات ہوتو اس کی پیشانی پر بوسہ ضرور دیں کہ اُس نے آپ کے جلائے ہوئے ننھے سے چراغ کی روشنی کوچراغاں میں بدل دیاہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 8 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui