سوتے میں ہی جاگتے رہنا


حالانکہ ملیحہ لودھی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیرِ خارجہ سوشما سوراج کے تابڑ توڑ حملوں کا خاصا مدلل دفاع کیا اور ’’ پاکستان دہشت گردوں کی فیکٹری ہے ‘‘ کے جواب میں ’’ بھارت دہشت گردی کی ماں اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نہیں بلکہ سب سے بڑی منافقت ہے‘‘ جیسے جملے استعمال کر کے حساب چکتا کر دیا۔کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کی بھی بہت موثر تصویر کشی کی اور بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے آہنی ٹکڑوں سے داغدار ایک بچی کے چہرے کی تصویر بھی لہرائی مگر ملیحہ کے ڈیڑھ ہوشیار سفارتی عملے کی ایک ذرا سی غفلت کے سبب اثر پذیر تقریر کے بجائے بیشتر عالمی توجہ کشمیر اور بھارتی منافقت پر دھیان دینے کے بجائے زخمی  بچی کی تصویر کی جانب مڑ گئی۔

دراصل یہ تصویر جولائی دو ہزار چودہ میں معروف جنگی فوٹو گرافر ہیڈی لیون نے غزہ پر اسرائیلی بمباری کے دوران ایک اسپتال میں کھینچی تھی جہاں ایک سترہ سالہ فلسطینی لڑکی راویا لائی گئی کہ جس کا چہرہ اسرائیلی بم کے ٹکڑے لگنے سے اسی طرح چھلنی ہوا تھا جیسا کشمیر میں بھارتی عساکر کی جانب سے متنازعہ پیلٹ گن کے استعمال سے سیکڑوں بچوں اور بڑوں کا ہوا اور ان میں سے چالیس سے زائد مستقل نابینا ہو گئے۔

یہ کوئی معمولی تصویر نہیں تھی۔دو ہزار چودہ میں عالمی ذرایع ابلاغ میں اسرائیلی دہشت گردی کے استعارے کے طور پر بیسیوں بار شایع اور نشر ہوئی۔اخبار گارڈین کی ویب سائٹ پر فوٹو گیلری میں بھی شامل ہے۔اگر کروڑوں افراد کے ذہن میں یہ رہ گئی تو اربوں ایسے بھی ہیں جنھوں نے یہ تصویر کبھی نہ دیکھی ہو۔

مگر یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مندوب کے دفتر میں عزت ماآب ملیحہ لودھی سمیت جتنے بھی دگج سفارتکار ہیں ان میں سے کسی نے یہ تصویر کبھی نہ دیکھی ہو۔یہ تو ایسا ہے گویا گھوڑا گھاس کو نہ پہچانے۔ایسا بس ایک صورت میں ممکن ہے کہ پورا عملہ صرف پاکستانی اخبار ( غیر انگریزی ) پڑھتا ہو اور پاکستانی چینلز ہی دیکھتا ہو۔

یہ غفلت درگزر ہو سکتی تھی اگر ایسی کسی تصویر کو  پاکستانی مندوب جنرل اسمبلی کی کسی عمومی ڈبیٹ میں لہرا کے دکھا دیتیں۔مگر یہاں تو معاملہ بھارت کو ترکی بہ ترکی جواب دینے کا تھا۔ایسے اہم مواقع پر جو تقریر سوچی جاتی ہے اس میں ایک ایک جملہ ناپ تول کر احتیاط سے لکھا جاتا ہے اور کئی نگاہوں سے گذرنے کے بعد حتمی مسودہ تیار ہوتا ہے بلکہ مسودے میں آخری وقت تک موقع محل کی نزاکت کے اعتبار سے تبدیلیاں جاری رہتی ہیں۔لیکن جس نے بھی ملیحہ کو مشورہ دیا کہ ’’ سر جی ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے‘‘ اس مشیر کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے تھا کہ کرتب الٹا پڑ جائے تو ساری محنت پر کیسے پانی پھر جاتا ہے۔

کیا کسی کو پانچ فروری دو ہزار تین یاد ہے جب عراق پر حملے کی راہ ہموار کرنے کے لیے جارج بش کے وزیرِ خارجہ کولن پاول نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں زوردار تقریر کرتے ہوئے وسیع تر تباہی پھیلانے والے عراقی ہتھیاروں کی تیاری کے بارے میں ایک تصویری  پلندہ پیش کیا۔اس پلندے میں چند دیو ہیکل ٹرالرز کی بھی تصاویر تھیں جن پر ایک فولادی کمرہ سا بنا دکھایا گیا تھا۔ کولن پاول نے کہا ’’یہ ہے صدام حسین کا اصل چہرہ۔یہ ٹرالرزدراصل جراثیمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے موبائل لیبارٹریاں ہیں‘‘۔

کولن پاول کو یہ تصاویر وائٹ ہاؤس نے فراہم کیں اور وائٹ ہاؤس کو یہ تصاویر سی آئی اے کے ڈائریکٹر جارج ٹیننٹ نے بھجوائیں۔مگر جان ٹیننٹ کو جس ذریعے سے یہ تصاویر موصول ہوئیں اس کی شہرت سے سی آئی اے کا معمولی سیکشن افسر بھی واقف تھا اور سب اس سورس کو ’’ جھوٹوں کے پیغمبر ’’ کے نام سے جانتے تھے۔آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ جراثیمی ہتھیار ساز یہ موبائل لیبارٹریز کہاں ہیں ؟ کولن پاول بہت اچھے جنرل اور سفارتکار تھے مگر ان تصاویر نے ان کا تعارف ہی بدل ڈالا۔’’ اچھا تو یہ ہیں مسٹر پاول جنھوں نے سلامتی کونسل کو تصویری چونا لگایا تھا ‘‘۔

مجھے میڈم ملیحہ لودھی کے بارے میں بھی یہی خدشہ ہے۔زبردست صحافی ، تجزیہ کار اور سفارت کار۔مگر آیندہ کا تعارف شائد یہ بن گیا ’’اچھا تو یہ ہیں مس ملیحہ لودھی جنھوں نے جنرل اسمبلی میں اس فلسطینی لڑکی کی تصویر کشمیری کہہ کر لہرائی تھی‘‘۔

ظاہر ہے  بھارتی میڈیا اس فاش غلطی کو لے اڑا اور پاکستانی نشریاتی میڈیا اس غلطی کو خاموشی سے پی جانے کے بجائے اس کا دفاع کر کے اور مشتہر کر رہا ہے۔اور دفاع بھی کچھ یوں کیا جا رہا ہے کہ ٹھیک ہے غلط تصویر دکھا دی گئی مگر بھارت کشمیر میں کیے جانے والے مظالم عالمی برادری سے کیسے چھپا سکتا ہے۔بھارت کا عریاں پن پوری دنیا کے سامنے عیاں ہے وغیرہ وغیرہ۔

کوئی سوال نہیں کر رہا کہ کشمیر میں پیلٹ گن کے بہیمانہ استعمال کی سیکڑوں تصاویر پچھلے ایک برس سے موجود ہیں اور اقوامِ متحدہ کے پاکستانی سفارتخانے کے چپراسی سے لے کر سفیر تک کسی ایک کو ان میں سے کوئی ایسی تصویر دکھائی نہ دی جو جنرل اسمبلی میں دکھانے کے قابل ہو۔ فی زمانہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے کسی بچے کو بھی معلوم ہے کہ جعلی تصاویر کتنی بڑی تعداد میں شئیر کی جا رہی ہیں۔برما کے روہنگیاز کی مظلومیت بیان کرنے والی اوریجنل تصاویر بھی وافر مقدار میں سوشل میڈیا پر ہیں مگر ہمارے لال بجھکڑوں کی تسلی نہیں ہو رہی لہذا وہ مصالحہ اور تیز کرنے کے لیے دھڑا دھڑ فوٹو شاپنگ کر رہے ہیں اور اس بات سے شائد بے خبر ہیں کہ ایسی درجنوں ویب سائٹس ہیں جہاں کسی بھی تصویر کا شجرہ ڈال کر اس کی اصلیت اور پس منظر معلوم کرنا اب کوئی راکٹ سائنس نہیں۔معلوم نہیں پاکستانی دفترِ خارجہ اور سفارت خانوں میں اس وقت انٹرنیٹ خواندہ افراد کی تعداد کیا ہوگی؟

کیا ملیحہ اور ان کے عملے کی نظر سے ترک نائب وزیرِ خارجہ مہمت سمسک کے انتیس اگست کے ٹویٹ کی خبر بھی نہیں گذری۔اس ٹویٹ میں روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت پر عالمی ضمیر جھنجوڑنے کے لیے چار تصاویر پوسٹ کی گئیں۔مگر تین دن بعد یہ ٹویٹ واپس لینی پڑ گئی۔کیونکہ ایک تصویر مئی دو ہزار آٹھ کے سمندری طوفان نرگس کے متاثرین کی تھی۔

دوسری تصویر جون دو ہزار تین میں انڈونیشیا کے صوبہ آچے میں رائٹرز کے ایک فوٹو گرافر نے کھینچی تھی۔اس تصویر میں ایک شخص درخت کے تنے سے بندھا ہے اور مر گیا ہے اور ایک عورت بین کر رہی ہے۔تیسری تصویر میں دو بچے اپنی ماں کی لاش پر رو رہے ہیں ( کسی نے ترک سفارتکار کو نہیں بتایا کہ برما میں سیاہ فام نہیں رہتے )۔یہ تصویر جولائی انیس سو چورانوے میں روانڈا میں کھینچی گئی۔اور چوتھی تصویر میں بہت سے لوگ  پانی میں بے آسرا کھڑے ہیں۔یہ تصویر نیپال میں آنے والے حالیہ سیلاب کی ہے۔

ملیحہ لودھی گذرے فروری میں بھی مشکل میں پڑ چکی ہیں۔جب سیاہ فام مہرشالا علی کو ’’ مون لائٹ‘‘میں بہترین اداکاری پر آسکر انعام ملا اور یہ خبر آئی کہ وہ آسکر جیتنے والے پہلے مسلمان اداکار ہیں۔عالمِ اسلام کے طول و عرض میں متحرک ڈجیٹل دنیا اور سوشل میڈیا نے اس خبر کا زبردست خیرمقدم کیا۔ملیحہ نے بھی ایک ٹویٹ میں مہرشالا علی کو مبارک باد دی۔پھر کسی نے ملیحہ کو بتایا بہن یہ تو احمدی ہے۔چنانچہ ملیحہ نے مبارک باد کا ٹویٹ ڈیلیٹ کر کے اپنے ہی ٹویٹ کو ایک عالمی خبر بنا دیا۔یوں توجہ مہرشالا علی کے آسکر سے ہٹ کر پاکستان میں اقلیتوں کی حالتِ زار کی جانب ہوگئی۔اب میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس مضمون کا اختتام کن الفاظ میں کروں۔میرا تو خیال ہے کہ ’’ اخیر ہو گئی ‘‘…


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔