چینی خواتین کا خوبصورتی کے لیے کوسمیٹالوجی پر بڑھتا انحصار


شُن یان کی عمر 35 برس ہے اور انھیں خوف ہے کہ وہ اپنی ادھیڑ عمری میں داخل ہو چکی ہیں، سو وہ اپنی ساری سہیلیوں طرح کاسمیٹک سرجری کو اس کا حل سمجھتی ہیں۔ یہ نئی ناک بنوانے کا وقت ہے۔

چین میں پلاسٹک سرجری کے بڑھتے ہوئے رجحان میں تنخواہوں میں اضافے، مغرب کا غلبہ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اچھا دکھائی دینے کی خواہش کا خاصا عمل دخل ہے۔

چند والدین تو اپنے نوجوان بچوں کے لیے پیسے خرچ کرکے یہ کام کرواتے ہیں تاکہ ان کی ملازمت کے مواقع روشن ہوں۔

شُن کہتی ہیں ‘ہم چینی یہ سمجھتے ہیں جب آپ کی شادی ہو جائے، ایک بچہ پیدا ہوجائے اور آپ کی عمر 30 برس ہو جائے تو آپ کو ادھیڑ عمر عورت کہا جاتا ہے۔ میں اتنی جلدی ادھیڑ عمر عورت نہیں بننا چاہتی۔’

ایک دکان کی مالکن چین کے وسطی صوبے ہنان سے سفر کر کے شنگھائی کے ایک نجی اسپتال ہومی میڈیکل کاسموٹولوجی ہسپتال آتی ہیں اور 52515 ین خرچ کرتی ہیں تاکہ وہ ایک خوبصورت ناک بنوا سکیں۔

چار منزلوں پر محیط اور پرسکون ہسپتال کی آخری منزل پر باغ کی طرز پر ایک چائے خانہ بنا ہے اور نچلی منزلوں میں زیادہ تر جو لوگ چھری تلے آ رہے ہیں ان میں نوجوان خواتین کی اکثریت ہے۔

یہاں پر مختلف کام کیے جاتے ہیں جن میں چھاتی بڑھانا، کان کی شکل درست کرنا، ہڈی کی تراش خراش، زیر ناف بالوں کی پیوندکاری اور دیگر آپریشن جن میں بغل کی بدبو کم کرنا شامل ہیں۔

ہسپتال کے اندر داخل ہونا ایسا ہے جیسے کسی فائیو سٹار ہوٹل میں قدم رکھ رہے ہیں۔ بہترین داخلی راستے میں قدم رکھتے ہی مریضوں کو دھاری دار بلاؤز اور سیاہ سکرٹ میں ملبوس اونچی ہیل پہنے ایک خاتون جھک کر خوش آمدید کہتی ہے اور مدھم موسیقی بجائی جاتی ہے۔

سرجن لی جیاں کہتے ہیں کہ ان کے 90 فیصد مریض خواتین ہیں جن کی عمریں 16 سے 70برس تک ہیں۔ ان کے مطابق 40 سال سے کم عمر کی خواتین زیادہ خوبصورت جبکہ اِس کے زیادہ عمر کی خواتین جوان دکھائی دینا چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ جس آپریشن کی خواہش ظاہر کی جاتی ہے وہ چہرے اور جسم سے چربی ختم کرنےاور ناک کی بناوٹ ہے۔ چین کی خواتین ستواں اور مغربی خواتین کی طرز پر ناک بنوانا چاہتی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  میں، محبت اور ٹھنڈا گوشت

کاسمیٹکس کی صنعت کی ایک ایپ سو یانگ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ توقع کی جا رہی ہے کہ رواں سال ایک کروڑ 40 لاکھ چینی خواتین کاسمیٹک سرجری کروائیں گی جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ ہے۔

شنگھائی کلینک میں موسم گرما خاصا مصروف ہوتا ہے کیونکہ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلبا یہ سمجھتے ہیں کہ بہتر شکل، بہتر ملازمت کے مواقع کا سبب بنتی ہے خاص کر انٹرٹینمینٹ کی دنیا میں ایسا ہے۔

نوجوانوں میں پلاسٹک سرجری کا رجحان بڑھ رہا ہے حالانکہ ہسپتال 16 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کا بلا اجازت علاج نہیں کرتے اور اِس عمر کے لوگوں کو والدین سے رضامندی حاصل کرنی پڑتی ہے۔

لی کہتے ہیں ‘چینی یہ سمجھتے ہیں کہ جتنا اُن کی ناک یا چہرہ پتلا لگے گا وہ اتنے خوبصورت لگیں گے۔’

اُن کے مطابق ‘چند لوگ اپنے آپ کو اس لیے بھی خوبصورت بنانا چاہتے ہیں کہ جب وہ تصویریں لیں تو زیادہ اچھے لگیں اس لیے وہ زیادہ یورپی دکھائی دینا چاہتے ہیں۔ ایک پلاسٹک سرجن کی حیثیت سے میں نہیں سمجھتا کہ یہ درست ہے، کم ازکم یہ چینی انداز نہیں ہے تو میں نے کئی ایسی لڑکیوں کو منع کر دیا جنہوں نے وہ انداز چنا تھا۔’

چین میں صارفین کو اس بات کا ڈر ہے کہ بڑھتے کاروبار کا فائدہ اٹھانے کے لیے ایسے سرجرن بھی ماکٹ میں نہ آجائیں جو تربیت یافتہ نہ ہوں

سن یبنگ 22 سال کی ہیں، اُنھوں نے اپنا پہلا آپریشن 17 سال کی عمر میں کرایا تھا اور اس کے بعد سے وہ ایک مشہور شخصیت بن گئی ہیں کیونکہ وہ 12 مرتبہ چھری تلے آ چکی ہیں۔

انھیں سکول میں ان کے وزن اور شکل کی وجہ سے مذاق کا نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے اپنی آنکھوں،ناک، جبڑوں اور کنپٹی کی سرجری کرائی اور اب وہ ناک اور جبڑے کی ہڈی کے سلسلے میں آئی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ‘مجھے سرجری کی لت لگی ہے اور اب تک میں اپنے آپ سے مطمئن نہیں ہوئی۔ میں پلاسٹک سرجری کے خلاف نہیں لیکن آپ کو اپنے اصل میں رہنا چاہیے بجائے اس کے کہ آپ دوسروں کی شکل اختیار کر لیں۔’

سن جزوی طور پر ان کم عمر سلیبرٹیز کو اس بات کا قصوروار ٹھہراتی ہیں جنھوں نے چین میں انٹرنیٹ پر لائیو سٹریمنگ کر کے، رقص کر کے اور اپنی پلاسٹک سرجری کے بارے میں بات کر کے نام کمایا۔

اسی بارے میں: ۔  ”کک “کا سیکوئل: جیکولین کی جگہ دیپیکا

انھیں اس بات کا ڈر ہے کہ صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے لیے ایسے سرجنوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو تربیت یافتہ نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘چند سال قبل تک لوگ کاسمیٹک سرجری کرانے کے بارے میں خاصے تنگ نظر تھے، لیکن اب مجھے ڈر ہے کہ پلاسٹک انڈسٹری اب گند بن گئی ہے جہاں اچھے اور برے کلینکس موجود ہیں اور صارفین کو پتہ ہی نہیں کون کیا ہے؟’

چند چینی خواتین ‘وی شیپ’ چہرے کی خواہشمند ہوتی ہیں لیکن سرجری کے بعد ان میں انفیکشن یا چہرے کی معزوری جیسی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے

ہسپتال میں ایک خاتون انتظار گاہ میں اپنی آنکھوں کے پپوٹوں پر لگی پٹی کے پیچھے سے دیکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک اور خاتون سرجری کے بعد درد کی حالت میں اپنا سر پکڑے بیٹھی ہیں۔

شُن نے پہلے ہی اپنی ناک کی چھوٹی سی سرجری کروا لی ہے اور ان کی آنکھ کے پپوٹوں میں ایک تہہ داخل کی گئی ہے جس کا مقصد زیادہ گول اور زیادہ مغربی طرز کی آنکھیں بنانا ہے جو کہ چین میں مقبول ہیں۔

لیکن شُن کو ناک کی سرجری کرانے کی ہمت کرنے میں چھ سال لگے، آخر کار انھوں نے اپنی سہیلی کی دیکھا دیکھی ہمت کر ہی لی۔

سرجری کے بعد ہسپتال نے انھیں ہڈی کی تراش خراش کا مشورہ دیا تاکہ ان کی داڑھ کو ‘سرجیکل ڈرل’ کے ذریعے پتلا کیا جائے۔

چند چینی خواتین ‘وی شیپ’ چہرے کی خواہشمند ہوتی ہیں لیکن سرجری کے بعد ان میں انفیکشن یا چہرے کی معذوری جیسی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

شُن ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائی ہیں کہ ہسپتال کے مشورے پر عمل کریں یا نہیں لیکن کہتی ہیں ‘میں بس اپنے آپ کو زیادہ خوبصورت بنانا چاہتی ہوں، عورت کی عمر جتنی بھی ہو، کوئی بات نہیں، اُسے اپنے آپ کو خوبصورت بنانا چاہیے۔’


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 852 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp