بولان سے جمنا تک (چوتھا حصہ)


usman Qaziاگلے روز جوکہ بھوپال میں ہمارا آخری دن تھا۔ دوپہر کے قریب ہم کمرے میں بیٹھے تھے کہ دو عدد پشتون بھائی شلوار قمیص پہنے، کندھے پر رومال ڈالے آپہنچے۔ پشتو میں سلام دعا کے بعد ہم ان کے ہمراہ کھلی جیپ میں بیٹھ کر پرانے بھوپال میں موتی مسجد کے پیچھے واقع مدرسے کی جانب روانہ ہو گئے جہاں ہمیں ساتھ لانے والے دوست عبدالمجید سالار کے عزیز ، اس مدرسہ کے مہتمم مولانا عبدالرزاق چند دیگر دین دوست لوگوں کے ہمراہ اپنے حجرے میں تشریف فرما تھے۔ آپ ہماری حیرت اور ذہنی کیفیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ یہاں تمام تر بات پشتو میں ہو رہی تھی۔ کبھی تو گمان گزرتا تھا کہ یہ سب کہیں پشاور یا مردان کا ماجرا ہے یا بھوپال کا؟

ایں کہ مے بینم بہ بیداریست یا رب یا بخواب

(جاگتا ہوں کہ خواب کرتا ہوں )

اتنے میں عبدالرحمن کے بڑے بھائی عبدالوحید ایڈووکیٹ بھی آگئے۔ جواں عمر، تعلیم یافتہ اور جدید ذہن کے مالک ، پشتو ذخیرہ الفاظ اور لہجہ اس قدر اچھا کہ گویا ابھی ابھی مردان سے آرہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ کہ ان سمیت کمرے میں موجود اکثر لوگ زندگی میں کبھی پاکستان یا افغانستان نہیں گئے تھے اور بھوپال کی پیدائش اور پرداخت ہیں۔ مفتی صاحب کے والد محترم علاقہ گندف حال واقع صوابی سے بھوپال آئے تھے۔ عبدالوحید ایڈووکیٹ صاحب ذات کے صافی ہیں اور اباو اجداد کنڑ واقع افغانستان کے تھے۔ ہم نے پشتو زبان کے اگلی نسلوں تک منتقل ہونے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تو عبدالوحید صاحب نے فوراً کہا کہ جب تک گھروں میں خواتین پشتو بولتی رہیں گی زبان زندہ رہے گی۔ معلوم ہوا کہ آس پاس کے کئی گاﺅں ایسے ہیں جہاں آج تک تمام تر مقامی آبادی کی زبان پشتو ہے۔ یہ پشتون لوگ ہماری خدمت نہ کر پانے پر بہت خفا تھے مگر ہماری گاڑی کے جانے کا وقت قریب آرہا تھا۔ ہم نے رخصت ہوتے وقت ان پیارے لوگوں سے دوبارہ ملنے کا وعدہ تو کیا مگر دل کہتا تھا کہ آنا جانا تو خداوندان اقتدار کے وقتی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ نہ جانے 01آشتی کی یہ فضا کب تک قائم رہے اور کب ان بچھڑے بھائیوں سے ملاقات نصیب ہو۔

زہ ہجری پہ بیجا پور او یار پہ روہ دی عاشقی مو سرہ ھڈ د ہندو بار شوہ

(ہجری بیجا پور میں ہے اور محبوب وطن میں. ہماری محبت تو اباسین پار کے سفر سے بھی زیادہ کٹھن ہو گئی)

اڑھائی بجے کی شتابدی سے ہم پھر ہمراہ دوستان عازم دہلی ہوئے اور قریباً گیارہ بجے رات پھر اپرنا شری واستو کے گھر پر دستک دی۔ ان کے تمام اہل خانہ ہمارے انتظار میں چشم براہ تھے۔ اندازہ ہوا کہ اتنے روز تک ان کی زندگی میں دخل اندازی کے باوجودابھی تک ہم مہمان تھے۔ بلائے جان نہیں بنے تھے۔ ثابت ہوا کہ اچھائی برائی، کمینگی ، انسان دوستی، خود غرضی مہمان نوازی ہر قوم و ملت میں پائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ چار دن کی شناخت کے باوجود بعض برسوں پرانے ملنے والوں سے بازی لے گئے۔ ہمارے ہاں بچپن ہی سے تعلیمی نصاب میں نظریہ پاکستان کی بنیاد نفرت انگیز مواد پر رکھی جاتی ہے مثلاً قارئین میں سے اکثر کو بتایا گیا ہو گا کہ ہندومن حیث القوم تنگ دل ہوتے ہیں۔ چھوت چھات پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ مسلمان کا سایہ ان پر پڑ جائے تو اشنان کرتے ہیں۔ مطالعہ پاکستان کے نصاب میں حقارت سے لکھا گیا ہے کہ ہندو کی تنگ دلی اس کے مندر کے طرز تعمیر سے ظاہر ہوتی ہے جو تنگ و تاریک ہوتا ہے جبکہ مسلمان کشادہ دل ہوتا ہے۔ صفائی اس کا نصف ایمان ہوتا ہے۔ مساوات اس کے رگ و پے میں سمائی ہوتی ہے وغیرہ۔

ہم نہایت ادب و معذرت کے ساتھ عرض کرنے کی جرا¿ت کریں گے کہ یہ سب تعمیمات یعنی Generalisation ہیںاور مخصوص مقاصد کے تحت تاریخ اور علم انسان کو مسخ کرنے کی کوشش ہیں۔

ذرا اپنے گریباں میں جھانکئے اور اطراف پر نگاہ دوڑائیے . کیا ہم مملکت خداداد کے رہنے والے جدی پشتی مسلمان، نسل پرستی ، ذات پات، تنگ نظری جیسے عیوب سے پاک ہیں؟ بین الصوبائی اور بین القومیتی تعصب کو تو چھوڑئیے، ہمارے وطن بلوچستان کے سب سے ترقی پسند خطے مکران میں بلوچ، نقیب، درزادے اور غلام کے مابین سماجی بعد کو کس کھاتے میں
02ڈالیں گے؟ ہم کشادہ مساجد اور وسیع و عریض دالانوں والے امام باڑوں کے متولیوں نے انسانوں کو خون میں نہلا کر کس رواداری کا ثبوت دیا؟ کیا پشتونوں کے کچھ علاقوں میں بے زمین دہقان آج بھی خان کی موجودگی میں چارپائی الٹی بچھا کر بیٹھنے پر مجبور نہیں ہے؟ مہمان نوازی کا دعوی کرنے والے اہل بلوچستان کے بعض علاقوں میں ہمیں خود ایسا سلوک دیکھنے کا موقع ملا کہ… کسی بت کدے میں کروں بیاں، تو کہے صنم بھی ہری ہری..

ہمیں سوامی شردھا نند، بال ٹھاکرے، اڈوانی، نریندر مودی کا تو خوب پتا ہے، مگر کتنوں کو یاد ہے کہ گاندھی جی کے قتل کا سبب ان کی مبینہ مسلمان نوازی تھی۔ کیا کسی نصابی کتاب میں درج ہے کہ تقسیم کے وقت کتنے کمیونسٹ سکھ مسلمان مہاجرین کو ہندو اور سکھ بلوائیوں سے بچاتے ہوئے تہ تیغ ہوئے ؟ کیا کسی استاد نے کبھی ادھم سنگھ عرف رام محمد سنگھ آزاد کا ذکر شاگردوں کے سامنے کیا جس نے برطانیہ جا کر جلیانوالہ باغ کے قتل عام کے ذمہ دار جنرل ڈائر کو قتل کر کے ابنائے وطن کی بے بسی کا انتقام لیا تھا؟

دوسری بات یہ کہ اگر بھارت میں وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل اور بھارتیہ جنتا پارٹی وغیرہ مسلمانوں کے دشمن ہیں، تو خیر سے ہمارے ہاں بھی قسما قسم کے لشکر، جیش، سپاہ ہیں جو ہندو تو ہندو، اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کے قتل عام پر کمر بستہ ہیں۔ مانا کہ ہندوستان میں امن، رواداری اور سیکولرزم کی حامی قوتیں گزشتہ دہائیوں میں کمزور ہوئی ہیں، مگر ہم نے اپنی نصف صدی کی تاریخ میں کتنے لوگ باچا خان، میاں افتخار الدین، سی آر اسلم اور پروفیسر عبداللہ جان جمالدینی کی سطح کے پیدا کیے ہیں؟

خیر، یہ تلخی کلام تو تلخی مے ایام کی بدولت لب پر آ گئی۔ ذکر دہلی کی سیاحت کا ہو رہا تھا. اگلے روز اپرنا، ان کے بیٹے منن اور بھابھی شکن کے ہمراہ ہم اور ہماری بیگم پرانی دلی کی جانب روانہ ہو گئے۔ یہ علاقہ مشہور عالم لال قلعے کے بالمقابل واقع، چاندنی چوک کے آس پاس طول طویل، تنگ اور ٹیڑھی میڑھی گلیوں کے وسیع و عریض گورکھ دھندے پر مشتمل ہے۔ ہمارے ہم
راہی دلی کی مشہور چاٹ، کچوریوں اور پراٹھوں سے دل بہلاتے رہے اور ہم صدیوں پر محیط تاریخ کی گواہ ان گلیوں اور دیواروں سے ہم کلامی کی کوشش کرتے رہے. چلتے چلتے ہم کوچہ 04بلی ماراں میں آنکلے جس کی گلی قاسم جان کی ایک حویلی میں ہمارے پیرومرشد ، عامیوں کے حلقہ میں برگزیدہ، عندلیب گلشن ناآفریدہ، مرزا اسد اللہ خان غالب نے زندگی کا آخری حصہ گزارا تھا۔ دہلی سرکار نے اس حویلی کے سامنے کے کچھ حصے کو حاصل کر کے تھوڑا بہت اس دور کا ماحول بنانے کی کوشش کی ہے۔یہاں آکر ایک عجیب پراسرار سی کیفیت ہم پر طاری ہو گئی۔ چشم تصور نے وہ نقشہ کھینچ دیا جب بال بال قرض میں جکڑا، ستم ہائے روزگار کا رہن غالب ان تنگ و تاریک کوچوں میں مستقل اہمیت کے حامل، آفاقی سچائیوں پر مبنی سخن تخلیق کر رہا تھا۔

آپ نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہو گا ۔ ’نکل لے، پتلی گلی سے….‘ اپرنا بی بی کی بدولت ہم نے وہ ضرب المثل پتلی گلی بھی دیکھ لی۔ یہ دو متوازی چلتے ہوئے بازاروں کو ملانے والا واحد ’شارٹ کٹ‘ ہے جس میں سے ہم جیسی صحت والا آدمی بھی ایک وقت میں ایک ہی گزر سکتا ہے۔ ہمارے دوست اسرار افغان یا ناصر پہلوان کے لیے تو شاید اکیلے گزرنا بھی مشکل ہو۔ گلی کے دونوں سروں سے آر پار دیکھا جا سکتا ہے لہٰذا تھوڑی تھوڑی دیر بعد گزرنے والے ، باہمی رضامندی کی بنیاد پر ایک یا دوسری سمت سے ٹریفک کو یک طرفہ کر لیتے ہیں۔

اگلے روز ہم کیمرہ اٹھائے اپرنا کے والد صاحب کے تجویز کردہ راستے کے مطابق سب سے پہلے آئی ٹی او نامی عمارت کے برابر واقع ’گڑیوں کے عجائب گھر‘ پہنچے۔ یہ عجائب گھر شنکر نامی صاحب نے غالباً ساٹھ کی دہائی میں قائم کیا تھا۔ دنیا کے بیشتر ممالک کے سربراہان یا خواتین اول نے اپنے اپنے وطن کی ثقافت سے بھارتی عوام کو روشناس کرانے کے لیے بڑی تعداد میں گڑیا گڈے بطور تحفہ اس عجائب گھر کو عطیہ کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے ہر کونے اور ہر مذہب، ہر ثقافت کی گڑیا موجود ہیں۔ پاکستان کے نام پر بھی دو عدد گڑیا ہیں مگر قریب سے دیکھنے پر بھی پتہ نہیں چلتا کہ یہ پاکستان کے کس علاقے کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ اب اللہ جانے اس میں عجائب گھر کی انتظامیہ کی بدنیتی کارفرما ہے یا ہمارے سفارت خانے کے اہل کاروں کی بے حسی۔

02یہاں سے ایک زیرزمین راستے سے سڑک پار ک کرکے قریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر، ماتا سندری کے آخر میں ’ایوان غالب‘ نامی ادارے کی عظیم الشان عمارت واقع ہے۔ یہ عمارت ایک آڈیٹوریم، لائبریری اور چھوٹے سے عجائب گھر پر مشتمل ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اردو زبان و ادب کا فروغ ہے۔ عجائب گھر میں مرزا غالب کے زمانے کے ملبوسات، برتن ، قلمی مخطوطات وغیرہ موجود ہیں جوکہ اکثر خاندان لوہارو کا عطیہ ہیں جوکہ غالب کے قرابت دار اور قدردان تھے۔ لائبریری بھی بہت قرینے کی اور ہزاروں کتابوں پر مشتمل تھی۔ چند ایک طلبا و طالبات یہاں مطالعے میں مصروف تھے۔ ہم نے بھی چند ادبی جریدوں اور کتب کی ورق گردانی کی اور باہر آگئے۔ یہ ادارہ سابق بھارتی صدر فخر الدین علی احمد نے قائم کیا تھا اور اس کے سرپرستوں میں اندرا گاندھی، اندر کمار گجرال، وشواناتھ پرتاب سنگھ شامل رہے ہیں۔

اگلی منزل پرانی دلی کی مشہور جامع مسجد تھی جس کا ذکر ہمارے ماضی پرستانہ اردو ادب میں جا بجا ملتا ہے۔ یہ ایک اونچے پلیٹ فارم پر واقع سنگ سرخ کی بنی ہوئی وسیع و عریض مسجد ہے۔ نقشہ وہی مغلیہ دور کی مساجد کا جیسے لاہور کی بادشاہی مسجد۔ اندر داخل ہو کر جیسے ہی ہماری بیگم نے کیمرا نکالا، ایک میاں بھائی دوڑتے ہوئے آگئے کہ اس کا ٹکٹ سو روپے ہیں۔ اس سے قبل ہم ہر جگہ، مساجد، مندروں اور گرجوں میں جا چکے ہیں مگر ایسا نامعقول مطالبہ کہیںنہیں کیا گیا چنانچہ ہمیں بڑا تاﺅ آیا۔ چار و ناچار سو روپے دیے۔ رسید طلب کرنے پر ان صاحب نے بڑبڑاتے ہوئے ایک جیب سے بغیر نمبر کا ایک چھپا ہوا پرزہ نکالا جس پر صرف ’سو روپیہ۔ جامع مسجد دہلی‘ درج تھا۔ مسجد کے سامنے لال قلعہ ہے مگر وہ یوم آزادی کی پریڈ کی تیاریوں کے لیے بند تھا۔ لہٰذا ہم ہرے بھرے پیر کی درگاہ میں ایک نظر ڈالتے ہوئے مینا بازار سے ہوتے ہوئے جنوبی سمت میں اردو بازار آگئے۔ مینا بازار کسی دور میں شاہی حرم کی بیگمات کی خریداری کے لیے بنا ہوا چھت والا بازار ہے مگر اب تو سستی چینی اور تائیوانی مصنوعات کے سوا کچھ دستیاب نہیں تھا۔

(جاری ہے )


Comments

FB Login Required - comments