نواز شریف کے خلاف گھیرا تنگ، ’ڈیل‘ کی خبریں پھر گرم


آصف فاروقی۔ بی بی سی اردو، ڈاٹ کام، اسلام آباد۔

سابق حکمران خاندان کے خلاف قانون کا گھیرا تنگ ہوتے ہی ایک بار پھر وفاقی دارالحکومت کے سیاسی، صحافتی اور افواہی حلقوں میں ’ڈیل‘ کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ منتخب وزیراعظم کے ایوان اقتدار سے نکل کر قانون کے شکنجے میں پھنستے ہی ڈیل کی خبریں گردش کرنے لگی ہوں۔ ماضی میں بھی ایسے مواقعوں پر ڈیل کی افواہیں گرم ہوتی رہی ہیں۔
ڈیل کی موجودہ افواہوں کو تقویت اس حقیقت سے ملتی ہے کہ ماضی میں بھی ڈیل کی افواہیں جب چلی ہیں، وہ بلآخر سچ ہی ثابت ہوئی ہیں۔

1999 میں جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں ایوان اقتدار سے بے دخلی کے بعد جب ان کا کوئی اہم رہنما فوجی سربراہ کے خلاف احتجاجی مہم کی سربراہی کرنے کے لیے دستیاب یا تیار نہیں تھا، نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز سامنے آئیں اور مسلم لیگ کی احتجاجی مہم کی سربراہی کا بیڑا اٹھایا۔
عین اس وقت جب یہ احتجاجی مہم کچھ زور پکڑ رہی تھی، اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہونے لگیں کہ پرویز مشرف اور نواز شریف کے درمیان ’ڈیل‘ ہونے جا رہی ہے اور شریف خاندان کو معافی ملنے والی ہے۔
کئی بار ایسا بھی ہوا کہ اخبارات میں ایک طرف نواز شریف کی ہوائی جہاز ہائی جیکنگ مقدمے کے دوران استغاثہ کے دلائل پر مبنی خبر چھپتی جس میں بتایا جاتا کہ کس طرح نواز شریف نے فوجی سربراہ کے طیارے کو بھارتی ہوائی اڈے پر اترنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر کے ملک دشمنی اور غداری کے مرتکب ہوئے اور اس کے ساتھ ہی کسی غیر ملکی شخصیت کی پرویز مشرف سے ٹیلی فونک گفتگو کی خبر بھی کہیں دکھائی دیتی جس میں شریف خاندان کی رہائی کے لیے ’ڈیل‘ کا ذکر ہوتا۔
بیگم کلثوم اور نواز شریف کے کئی دیگر ساتھی ان خبروں کی مسلسل تردید کرتے رہے اور پھر ایک رات اچانک ڈیل ہو گئی۔

آج کی صورتحال ذرا مختلف ہے، یا یوں کہیے کہ ڈیل کی افواہیں یا خبریں ابھی نومولود ہیں۔ اس لیے اس کے نین نقش واضح نہیں ہیں۔
بات شہباز شریف اور چوہدری نثار کے رابطوں سے شروع ہوتی ہے اور مریم نواز کے یوٹرن تک پہنچتی ہے۔
یو ٹرن ان معنوں میں کہ انہوں نے این اے 120 کا انتخابی معرکہ سر کرنے کے فوراً بعد لندن میں اترتے ہی ٹویٹ کی کہ نواز شریف نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔

پھر شہباز شریف لندن جاتے ہیں اور چند گھنٹے بعد ہی نواز شریف نیب مقدمات کا سامنا کرنے اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں۔
اسلام آباد پہنچتے ہی سابق وزیراعظم جس فرد سے تنہائی میں ملاقات کرتے ہیں وہ ہیں چوہدری نثار۔ وہی چوہدری نثار جنہوں نے ایک ہفتہ قبل ہی نواز شریف کی پالیسیوں اور ان کی سیاسی جانشین بیٹی کو ٹیلی وژن انٹریو میں تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ اور اس کے اردگرد کچھ اور دیکھے اور ان دیکھے واقعات بھی ہو رہے ہیں جنہیں بعض با خبر حلقے ڈیل کے اشارے قرار دے رہے ہیں۔
یہ ڈیل کیا ہے؟ کس کے ذریعے ہو رہی ہے؟ اور کن شرائط پر ہو رہی ہے؟ اس بارے میں کچھ زیادہ افواہیں دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم بات نواز شریف کے انداز بیان میں نرمی، شہباز شریف کی ترقی اور آئندہ انتخابات میں برابر کا موقع ملنے کی ہو رہی ہے۔

ایک طرف تو اس ڈیل کے موجود یا غیر موجود ہونے کی بحث ابھی مکمل نہیں ہوئی تو دوسری طرف اس کی کامیابی اور ناکامی کے بھی چرچے ہونے لگے ہیں۔
پاکستان کے سب سے زیادہ با خبر سمجھے جانے والے صحافی حامد میر کا خیال ہے کہ یہ ڈیل ناکام ہو گی۔ ان کا لکھنا ہے ’ایک دفعہ پھر کسی خفیہ این آر او کی کوشش جاری ہے لیکن کامیابی کا امکان معدوم ہے۔ ‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 597 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp