شاہین قریشی، جواد نظیر اور جنگ کی چند دیگر یادیں


سنہ 95 کے آس پاس جنگ لاہور میں ہمارا بہت زیادہ اٹھنا بیٹھنا تھا۔ ادھر کمپیوٹر کے شعبے کا انچارج ایک قریبی دوست طاہر تھا۔ یوں اکثر ایسا ہوتا کہ شام سات بجے ادھر جاتے اور پھر رات دو تین بجے تک روزنامہ پاکستان ٹائمز کے چیف ایڈیٹر شاہین قریشی یا آواز کے چیف ایڈیٹر جواد نظیر صاحب کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملتا۔ دونوں ہی ہمیں اپنا چھوٹا بھائی سمجھتے تھے اور برخورداروں والا سلوک کرتے تھے۔ ہم تازہ تازہ کالج سے نکلے تھے اور اک حیرت کے عالم میں عملی دنیا کو دیکھ اور سمجھ رہے تھے۔

ہمارے لئے وہ اخباری دنیا کا پہلا تعارف تھا۔ شاہین قریشی صاحب اور جواد نظیر صاحب سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا۔ شاہین صاحب کے توسط سے ہی میر شکیل الرحمان صاحب سے بھی کمپیوٹر کمپوزنگ اور ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں کے بارے میں چند ملاقاتیں رہیں۔ منو بھائی اور دوسرے بڑے لکھنے والوں سے وہاں ہمارا تعارف ہوا۔ ان دنوں ہم پڑھنے والوں میں سے تھے اور لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔

وہاں دنیا کے رنگ بھی بہت دیکھے۔ مختلف معاملات میں صحافیوں کو لوگوں کی مدد کرتے پایا۔ خاص طور پر پولیس کو صحافیوں کی موجودگی میں ظلم و زیادتی سے تائب ہوتے پایا اور یہ بھی دیکھا کہ خبر لگنے کے خوف سے ہی کرپٹ ترین سرکاری افسران کیسے انصاف پسند اور ایماندار ہو جاتے ہیں۔ اندازہ ہوا کہ آزاد پریس عام آدمی کی داد رسی کے لئے کیوں ضروری ہے۔ ساتھ ساتھ ایسے صحافیوں کو بھی دیکھا جو اپنے زورِ بازو سے سیاہ کو سفید کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔ اخباری دنیا میں خبر لگوانے اور رکوانے والوں کا حال بھی دیکھا۔

ان دونوں شاہین قریشی صاحب خوب بولتے تھے۔ کبھی کوئی موضوع چھیڑتے تھے کبھی کسی شخصیت کے بارے میں بتاتے تھے۔ خاص طور پر جنگ لاہور کے آغاز کے دنوں کی کہانیاں سنایا کرتے تھے جو ہمارے لئے حیرت کا ایک جہان تھیں۔ ان کے دفتر میں ہی رنگ رنگ کے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے ساتھ گزارے وقت نے دنیا کے بارے میں بہت کچھ سکھایا۔

جواد نظیر صاحب کی شخصیت مختلف تھی۔ وہ حال ہی میں حکومتی ناراضگی کے سبب راولپنڈی سے ٹرانسفر ہو کر لاہور آئے تھے اور روزنامہ آواز کے پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے تھے۔ کم گو۔ سٹریٹ فارورڈ۔ لیکن برے بھلے وقت میں سینہ تان کر دوستوں کے ساتھ کھڑے ہونے والے۔ کوئی کام پڑے تو پہلے مشورہ دیتے تھے کہ ایسا کرنا بہتر ہے اور اس کے بعد ان کا دوست جو بھی فیصلہ کرے اس کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے اور برا بھلا خود سہنے کو تیار ہوتے تھے۔

ہم نے صدیق سالک صاحب کے ناول پریشر ککر کا ذکر کرتے ہوئے یاد کیا تھا کہ اپنی ذاتی اخلاقیات دوسروں پر نافذ کرنے کی وبا صرف مڈل کلاس میں پھیلی ہوتی ہے۔ غریب اور امیر کلاس کو اس کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ دوسرے بندے کا رہن سہن وغیرہ کیا ہے اور ذاتی زندگی وہ کیسے بسر کر رہا ہے۔ ان معاشی طبقات کے دنیا دیکھنے کا انداز کچھ اور ہوتا ہے۔ جنگ کے ان دنوں کی یاد بھی اسی ذکر سے در آئی۔

جنگ کے اس تکنیکی مرکز میں دوستوں کا تھانے سے لے کر گاڑی کی مرمت تک ہر معاملہ حل کیا جاتا تھا۔ اس پنچایت کے حکم سے باغبانپورہ کا ارشاد نامی مکینک ادھر قابل اعتماد اور ماہر قرار پایا تھا۔ وہ دو نمبری نہیں کرتا تھا اور مناسب ریٹ میں بہترین مرمت کر دیتا تھا۔ ہم سب کیرئیر کے ابتدائی درجوں میں تھے اور جس طرح آج کل ہماری اپنی طبیعت خراب رہتی ہے ویسے ان دنوں گاڑی کی طبیعت اکثر ہی خراب رہتی تھی۔ ایک دن ارشاد سے گاڑی ٹھیک کرا رہا تھا تو اس نے غصے میں اپنے دس سالہ چھوٹے کو پانا کھینچ مارا۔ حرکت کی بے ساختگی سے لگ رہا تھا کہ یہ اس کی روٹین ہے۔ پھر اسے ہماری موجودگی کا خیال آیا تو نہایت خفیف ہو کر ہمیں دیکھا۔ پانا نشانے پر نہیں لگا تھا اس لئے اسے ہلکا پھلکا ہی کہا کہ بچے کو چوٹ بھی لگ سکتی تھی، ایسا کام مت کیا کرو۔

ادھر جنگ میں طاہر کا نائب دلاور نامی ایک لڑکا تھا۔ عمر کوئی پچیس برس ہو گی۔ بہت سیدھا سادا اور مخلص سا شخص۔ بلاوجہ ہی اپنے باس کی گرمی سردی سہتا رہتا تھا۔ کمپیوٹر سے لے کر موسم کی خرابی تک ہر شے کا ذمہ دار اسی کو قرار دیا جاتا تھا۔ ایک دن اچانک اطلاع ملی کہ وہ ہسپتال میں ایڈمٹ ہے اور کومے میں ہے۔ جوانعمری میں ہی اس کے سر میں ٹیومر کی اچانک تشخیص ہوئی تھی اور بس چٹ پٹ ہو گیا۔ ارشاد مکینک سے دلاور کا اچھا تعلق تھا، وہ بھی اسے ہسپتال کے آئی سی یو میں دیکھنے گیا۔ واپس آیا تو نہایت ہنس ہنس کر بتانے لگا کہ دلاور کی شکل تو دیکھنے والی ہے، اس کا سر سوج کر ڈبل ہو گیا ہے۔ پھر ہمارے چہروں پر لہراتے دکھ کے گہرے سائے دیکھ کر وہ خود ہی شرمندہ ہو گیا کہ ان مڈل کلاسیوں کی سوچ مختلف ہے جو اس کے ساتھ ہنسنے کی بجائے رونے والے ہو گئے ہیں۔

کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایک طبقے کے تمام لوگ ایک ہی طرح سوچتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ غریبوں کے لئے موت اتنی سستی اور عام ہو جاتی ہے کہ وہ ان میں سے بعض کے لئے روٹین کا ایک منظر بن جاتی ہے۔ ہر طبقہ اپنے حالات کے مطابق زندگی برتنے کا سلیقہ سیکھ جاتا ہے۔ افسوس تو ظاہر ہے ارشاد کو بھی ہوا تھا۔ مگر اس کا زندگی کو دیکھنے کا انداز مختلف تھا۔ اس کے ذہن کے کسی گوشے میں یہ احساس ضرور ہو گا کہ ہسپتال میں دلاور کی جگہ وہ بھی پڑا ہو سکتا تھا مگر پھر بھی وہ ہنس رہا تھا۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 691 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar