جناب خورشید ندیم کی خدمت میں


آپ کا کالم پڑھ کر میں یہ سمجھ نہ پایا کہ ارتکاز اقتدار از خود ایک بڑا مسئلہ ہے یا مسئلے کا حل ہے۔ ہمارے ملک کی تاریخ میں خود ساختہ اہل خرد نے بزعم خویش ہمیشہ مطلق العنان آمروں کو یہ شہ دی کہ وہ طاقت کو اپنی ذات میں مرکوز کرکے ہی اپنا نام تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے لکھوا سکتے ہیں، لیکن ہمیشہ یہ تدبیر الٹی ہوگئی ہے۔ ایسے ہی دانشوروں نے ایوب خان کو بھی قائل کیا تھا کہ یہاں صرف صدارتی نظام ہی بہتر رہے گا کیونکہ ایوب جیسے دبنگ صدر کو ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کرتے ہوئے کسی پارلیمنٹ یا کسی کابینہ کا محتاج نہیں ہونا چاہیئے۔ پھر کیا ہوا، بہتیرے فیصلے بھی ہوئے، اسلام آباد کا دارالخلافہ بھی بن گیا، ملک میں صنعتی ترقی بھی ہوئی، فی کس آمدنی میں اضافہ بھی ہوا، ٹرکوں کے پیچھے ان کی تصویریں بھی پینٹ ہوئیں مگر ملک نہ رہا۔ اس ملک کے آدھی سے زیادہ آبادی نے خود کو اس ملک میں چلنے والے شخصی نظام میں خود کو اجنبی سمجھ کر اس سے الگ ہونے کو ترجیح دی۔

ضیاالحق کو بھی مشیروں نے یہی سمجھا دیا کہ اسلامی مملکت میں ایک مطلق العنان خلیفہ ہی صحیح حکومت چلا سکتا ہے۔ ضیاالحق بغیر کسی آئینی جواز کے خود ہی امیرالمومنین کے درجہ پر فائز ہوئے۔ پھر کیا ہوا۔ جب تک ضیاالحق رہے سندھیوں نے ملک میں چلنے والے نظام سے بغاوت کئے رکھی۔ کتنے لوگ مارے گئے اور کتنے جیلوں میں رہے اس کی ایک الگ داستان ہے۔ اگر بے نظیر نے لولے لنگڑے پارلیمانی نطام کو سہارا نہ دیا ہوتا تو آج اس ملک کا نقشہ شاید بدل گیا ہوتا۔

مشرف کو بھی چیف ایکزیکٹیو اور پھر صدارت پر فائز کرنے والوں کا بھی استدلال یہی تھا کہ جب واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا سربراہ ہندوستان سے آئے اپنے ہی پارلیمنٹ کے محتاج وزیرا عظم سے آگرہ میں بات کرے تو وہ اپنے ملک کے لامحدود اختیارات کا سر چشمہ ہو اور سیاہ و سپید کا مالک ہو۔ پھر کیا ہوا ؟ مشرف کے نو سال تک بلا شرکت غیرے حکومت کرتے رہنے کے بعد بلوچستان میں مسلح بغاؤت شروع ہو چکی تھی اور فاٹا میں پاکستان کے شہری داخل نہیں ہو سکتے تھے۔

ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم مسلمانوں کی تاریخ سے اس قدر متاثر ہیں کہ آج بھی ایک مطلق العنان خلیفہ کی تلاش میں رہتے ہیں جس کے ارد گرد پورا نظام چلتا ہو۔ اس کی شخصیت کے چرچے ہوں، اس کی شجاعت اور بہادری کا ذکر زبان زد عام ہو اور اسی کے حرم کا تذکرہ ہم اپنے بچوں کو تاریخ کی کتابوں میں پڑھائیں اور اس پر فخر کریں۔ ہم عباسی خلافت، عثمانی سلطنت اور مغل بادشاہت کو اسلامی قرار دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں انھوں نے اپنی مطلق العنانی کے لئے اپنے سگے بھائیوں کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کیا تھا اور اپنے بوڑھے والدین کی انکھیں نکال کر داخل زندان کردیا تھا۔ ہم آج بھی اسی نظام کی واپسی کے متمنی ہیں جس میں بادشاہت خاندانی میراث بن جائے اور رعایا غلام۔ آپ جس نظام کی بات کر رہے ہیں وہ شخصی اجارہ داری کی طرف لے جائے گا اور پورا ملک خاکم بدہن ایک اندھیرے کنویں کی مانند ہوگا۔

اسی بارے میں: ۔  سکول کا طالب علم… مستقبل کیا ہے؟

اس ملک میں ہر شخص کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ کوئی بھی مذہب اختیار کرے۔ وہ اپنے عقیدے کے مطابق کسی بھی آسمانی یا غیر آسمانی کتاب پر عمل کرسکتا ہے۔ اس سے کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ وہ کس آسمانی یا غیر آسمانی کتاب کو کیوں مانتا ہے۔ مگر ملک کے آئین کی کتاب کو بلا شک کے ماننا سب پر لازم ہے۔ جو کوئی اس کتاب کو نہیں مانتا یا اس پر عمل نہیں کرتا ہے اس کے خلاف انضباطی کاروائی ریاست کا استحقاق ہے۔ ہمارا آئین ایک مقدس دستاویز ہے جو ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان تعلق کو بیان کرتا ہے کہ اپنے ریاست کے نظام کو چلانے میں کیسے شریک ہوں۔ اس دستاویز سے ہی مختلف اداروں کی تشکیل ہوتی ہے اور ان کے حدود کا تعین ہوتا ہے۔ اگر کوئی ادارہ اپنے حدود کا احترام نہیں کرتا تو اس میں اس مقدس دستاویز کی غلطی نہیں ہے بلکہ اس ادارے کو چلانے والوں کی نیت کا مسئلہ ہے۔ قانون کے ہوتے ہوئےاگر لوگ قانون توڑ دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ قانون کو ختم کر دیا جائے۔

آئین سب سے پہلے ریاست کی حدود کا تعین کرتا ہے کہ یہ کن علاقوں اور لوگوں پر مشتمل ہوگا۔ پھر لوگوں کے آپس میں بیٹھ کر امور مملکت چلانے کے دائرہ کار کا احاطہ کرتا ہے۔ ہمارے پارلیمانی نظام میں اگر کوئی قانون آبادی کی بنیاد پر قائم قومی اسمبلی سے منظور بھی ہوجائے تو سینٹ کے انتظامی اکایئوں کی بنیاد پر بننے والے ایوان میں اس پر نظر ثانی ہوسکتی ہے۔ ایسے کئی قوانین ہیں جو ایک ایوان سے منظور ہوکر دوسرے میں رک جاتےہیں۔ ایسا ہونا اس نظام کی نااہلی نہیں بلکہ چیک اینڈ بیلنس ہے جس کی وجہ سے کسی گروہ، جماعت یا صوبے کو دوسرے سے خطرہ کم سے کم رہتا ہے۔

اداروں کی من مانی کے لئے نظام میں تبدیلی کوئی دیر پا اور مستحسن اقدام اس لئے بھی نہیں کہ انتظامی سائنس میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ ادارے ایک امیبا کی طرح ہوتے ہیں جو ٹوٹ جاتے ہیں اور ان کے ہر ٹکڑے سے ایک نیا امیبا پیدا ہوتا ہے پھر وہ ٹکڑے ٹوٹ کر اور امیبا پیداکرتے ہیں۔ اگر ہر نئے پیدا ہونے والے امیبا کے کئے تالاب میں تبدلی کردی جائے تو آخر اس کی حد کیا ہوگی۔

جہاں جہاں پارلیمانی جمہوریت ہے وہاں مسائل بھی ہیں۔ ایک وزیر اعظم کو بر سر اقتدار رہنے کے لئے دوسری جماعتوں اور گروہوں کو ساتھ لیکر چلنا ہوتا ہے۔ ہندوستان میں کانگریس کے لئے بھی یہی مجبوری تھی جس کی وجہ سے اس کے اتحادیوں نے کرپشن کی اور دوسری بار انتخابات میں کانگریس کو بد ترین شکست کا سامنا ہوا۔ انگلستان، کنیڈا اور جاپان کا حال اس سے مختلف نہیں۔ جاپان میں جس تیزی سے وزیر اعظم بدلتے ہیں اتنے کہیں اور نہیں بدلتے۔ کنیڈا میں موجودہ وزیر اعظم سے پہلے کئی برے لوگ بھی آچکے ہیں۔ پارلیمانی نظام میں تو کسی وزیر اعظم کو روکنے کے لئے ایک پارلیمنٹ بھی ہوتی ہے مگر صدارتی نظام میں کسی ڈونلڈ ٹرمپ کو کیسے روکا جائے؟ قذافی، صدام، بشار الاسد، کم جونگ ان اور محمد بن سلیمان کو کوئی کیسے روک سکتا ہے؟

اسی بارے میں: ۔  جنرل کیانی کی کہانی

تبدیلی کا مخالف کون ہوسکتا ہے مگر تبدیلی پارلیمنٹ کے زریعے سے آئے جو معاشرے کے اجتماعی شعور کی آئینہ دار ہو نہ کہ چند دانشور اپنے مقالوں سے لائیں اور متنازعہ ہو۔ ایسی دانشورانہ منطق پر مبنی تبدیلیاں پہلے بھی ناکام ہو چکی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کا کوئی حلقہ نیابت نہیں بنتا اور جو عام لوگ اپنی حق رائے دہی سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں وہ لوگ ہمارے دانشوروں کی نظر میں کم عقل اور بیوقوف ہیں۔ ہم کراچی اور لاہور میں بیٹھ کر حیران ہیں کہ سندھ کے دیہاتوں میں رہنے والے زرداری اور پیپلز پارٹی کو ووٹ کیوں دیتے ہیں۔ ہم اس بات پر غور ہی نہیں کرتے کہ سندھ میں سیاسی بصیرت کسی بھی صوبے سے کم نہیں، وہاں اخبار بینی دوسرے صوبوں سے زیادہ اس لئے ہے کہ سندھی زبان میں چھپنے والے اخبار ات اور ان کے پڑھنے والے زیادہ ہیں۔ سندھی ٹی وی چینلز تیسرے درجے کی تفریح کے بجائے سنجیدہ موضوعات پر گفتگو سب سے زیادہ کرتے ہیں۔ کیا اس صوبے کے لوگ اپنے مفادات کو نہیں سمجھتے؟ یہ ایسی بات ہے کہ جس طرح ایک مذہب کے ماننے والا دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو ہمیشہ کم عقل اور بیوقوف سمجھتا ہے اور خود کو راہ راست پر۔ کبھی کسی نے تحقیق کرنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ سندھ میں لوگ پیپلز پارٹی کے ساتھ کیوں ہیں۔ میں آپ کو بتاتا ہوں وہ کیوں ہیں۔ ضیاءلحق کی اپنے خلاف ریاستی جبر کو آج تک سندھی نہیں بھولا ہے جس کے وجہ سے وہ پیپلز پارٹی کو ہی نجات دھندہ سمجھتاہے۔ سندھیوں کو آج بھی اپنے صوبے کی تقسیم اور کالا باغ ڈیم کا خطرہ ہے ان کی نظر میں اس خطرے کو پیپلز پارٹی اور زرداری نے رو ک رکھا ہے۔ آپ نظام میں مجوزہ تبدیلی میں سندھیوں کو یہ یقین کیسے دلائیں گے کہ ان کے مفادات کا تحفظ ہوگا؟

نظام میں کسی قسم کی تبدیلی سے اس ملک کی کی اکائیوں کا بہت مشکل سے قائم ہونے والے اعتماد کو دھچکا لگے گا جس سے ملک کے وجود کو خطرات درپیش ہونگے۔ 1973 میں بے آئینی اور بے یقینی کے ہاتھوں ملک ٹوٹ جانے کے بعد یہ آئین بن سکا تھا۔ اب اس آئین کی بے توقیری سے ملک ایک دفعہ پھر بے یقینی میں چلا جائیگا اور اس کا انجام برا ہو سکتا ہے۔ کسی ملک کو اسلحہ، بندوق اور فوجیں بیرونی خطرات سے تو بچا سکتی ہیں لیکن اندرونی دفاع آئین اور قانون کی بالادستی، سماجی انصاف اور اور معاشی عدل سے ہی ممکن ہے۔ اگر طاقت کے ارتکاز، طاقتور اداروں کی بالادستی اور اسلحے کے زور پر ملک یکجا اور مظبوط ہوتے تو سویت یونین کا شیرازہ کبھی نہ بکھرتا۔ کیا تاریخ کا یہ سبق ہمارے لئے کافی نہیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔