ٹرانس جینڈر، جنسیات اور سائنس


“میں‌ اس بات پر یقین رکھتی ہوں‌ کہ اگر پہیہ ایجاد ہو چکا ہو تو اس کو دوبارہ ایجاد کرنے کی کوشش محض وقت کا زیاں‌ ہے۔ مندرجہ ذیل مضمون ڈاکٹر خالد سہیل نے لکھا تھا اور اس میں‌ معمولی ردوبدل کے ساتھ اس کو ٹرانس جینڈر سیریز کا حصہ بنانے کے لئے شامل کر رہی ہوں۔ اس کے لئے ڈاکٹر سہیل کی اجازت لے لی گئی ہے اور یہ ان کے شکریہ کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ ان کے مضمون میں ٹرنر سنڈروم کا ذکر ہے جو بہت عام نہیں‌ ہے۔ میرے تقریباً پانچ مریض ہیں‌ جن کو یہ سنڈروم ہے اور ٹرنر سنڈروم کی اینڈوکرائن بیماریوں‌ کا علاج ایک الگ سے اہم موضوع ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر ٹرنر (1892-1970) چونکہ یونیورسٹی آف اوکلاہوما میں بھی پڑھاتے تھے، وہاں مجھے چلتے پھرتے اچھا لگتا تھا کہ یہاں سے یہ ہستیاں گذر چکی ہیں جنہوں نے غور وفکر سے ان بیماریوں‌ کو سمجھا اور آج ان کی وجہ سے ہم ان مریضوں کا اچھی طرح سے خیال رکھ سکتے ہیں۔ “

آئیے، ڈاکٹر خالد سہیل کا  مضمون پڑھتے ہیں

بیسویں صدی میں ڈاکٹروں، سائنسدانوں اور ماہرینِ جنسیات کی تحقیق سے ہم پر انسانی جنس کے بہت سے راز فاش ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ہم بہت سے ایسے جنسی مسائل کی تشخیص اور علاج کر سکتے ہیں جو اس تحقیق سے پہلے ممکن نہ تھا۔ اگرچہ یہ موضوع بہت پیچیدہ اور گنجلک ہے لیکن میں مضمون میں انسانی جنسیات کے بارے سائنسی معلومات کو آسان زبان میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔

انسانی بچہ حمل سے بلوغت تک جنسی ارتقا کے جن مراحل سے گزرتا ہے انہیں ہم افہام و تفہیم کے لیے چار مراحل میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ان میں سے ہر مرحلہ اپنی جداگانہ خصوصیات کا حامل ہوتا ہے اور ہمارے لیے ہر مرحلے کو سمجھنا انسان کی جنسی زندگی سے پوری طرح واقفیت کے لیے ضروری ہے۔

Henry Hubert Turner

پہلا مرحلہ۔۔۔GENETIC SEX

انسانی بچہ اپنی ماں کے ovum اور باپ کے sperm کے ملاپ سے معرضِ وجود میں آتا ہے اور ان میں سے ہر ایک میں کروموسومز chromosomes کے تئیس(۲۳) جوڑے ہوتے ہیں۔ ان تئیس میں سے بائیس (۲۲) جوڑے اوٹوسوم auto-some کہلاتے ہیں جو انسان کی باقی خصوصیات کا فیصلہ کرتے ہیں اور ایک جوڑا جنسی کروموسوم sex chromosome کہلاتا ہے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ بچہ لڑکا ہوگا یا لڑکی۔

ماں کے ovum کے جنسی کروموسوم ہمیشہ (xx) ہوتے ہیں لیکن باپ کے sperm میں آدھے جنسی کروموسوم (x) ہوتے ہیں اور آدھے (y) ۔ اس لیے بچے کی پیدائش کے لیے ماں کی طرف سے تو ہمیشہ (x) کروموسوم ہی ملتا ہے لیکن باپ کی طرف سے کبھی (x) ملتا اور کبھی (y) ۔ اگر باپ کی طرف سے (x) کروموسوم ملے تو بچہ لڑکی پیدا ہوتا ہے اور اگر باپ کی طرف سے (y) کروموسوم ملے تو بچہ لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ بچے کی جنس کا فیصلہ ماں کرتی ہے طبی اور سائنسی نقطہِ نگاہ سے درست نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  فروٹ بائیکاٹ مہم کی ناکامیوں اور کامیابیوں کا تجزیہ

بعض بیماریوں میں اس انتظام میں خلل پیدا ہو جاتا ہے اور انسانی بچہ 46 کروموسومز کی بجائے یا تو 45 کروموسومز سے معرضِ وجود میں آتا ہے یا 47 سے۔ اگر بچے میں 45 کروموسومز ہوں (xo) تو اسے ہم ٹرنر سنڈروم Turner Syndrome کہتے ہیں۔ اگر بچے میں47 کروموسومز ہو جائیں تو یا وہ (xxx) ہوتے ہیں اور بچہ سوپر فیمیلsuper female  کہلاتا ہے اور اگر xyy ہوں تو بچہ super male کہلاتا ہے۔ اگرچہ نام میں سوپرsuper  کا لفظ آتا ہے لیکن ایسے بچے بہت سے جسمانی اور ذہنی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ صحت مند بچے میں 46 کروموسومز ہوتے ہیں چاہے وہ بچہ لڑکا ہو یا لڑکی۔

دوسرا مرحلہ۔۔ANATOMIC SEX

ماں کے رحم میں انسانی بچے کی پرورش کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسانی بچہ بنیادی طور پر لڑکی ہوتا ہے لیکن اگر اس بچے کے کروموسز میں (Y) کروموسوم شامل ہے تو چھ ہفتوں کی پرورش کے بعد مردانہ غدودوں کا عمل دخل شروع ہو جاتا ہے اور انسانی بچے میں مردانہ جنسی اعضا کی پرورش شروع ہو جاتی ہے۔

اگر بچے میں (xx) کرموسومز ہیں تو اس کے جنسی اعضا میں ovaries, uterus, vagina شامل ہوں گے اور اگر بچے میں (xy) کروموسومز ہوں گے تو اس کے جنسی اعضا میں testicles, penis شامل ہوں گے۔

وہ انسانی بچے جن میں جنسی اعضا کی پرورش میں کمی رہ جاتی ہے ان میں نہ تو مردانہ جنسی اعضا پایہِ تکمیل تک پہنچتے ہیں اور نہ زنانہ جنسی اعضا۔ ایسے بچے پیدائش کے وقت پہچانے نہیں جاتے کہ وہ لڑکا ہین یا لڑکی۔ ایسے بچے intersex یا hermaphrodite کہلاتے ہیں۔ ایسے بچے باقی ہر لحاظ سے صحتمند ہوتے ہیں لیکن ان کے جنسی اعضا کی تکمیل میں کمی رہ گئی ہوتی ہے چنانچہ انہیں بڑے ہو کر بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض علاقوں میں ایسے لوگ ہیجڑے کہلاتے ہیں۔

تیسرا مرحلہ۔۔۔SEXUAL…GENDER..IDENTITY

اکثر محققین کا خیال ہے کہ انسانی بچے جب تین یا چار سال کی عمر تک پہنچتے ہیں تو انہیں یہ شعور پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ لڑکے ہیں یا لڑکی، یہ مرحلہ شناخت کا مرحلہ کہلاتا ہے اسی لیے اسے IDENTITY کا نام دیا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کی تحقیق نے اس حقیقت کی طرف ہماری توجہ دلائی ہے کہ انسانی بچے کی شناخت کا لازمی تعلق جنسی اعضا سے نہیں ہے اسی لیے وہ لفظ GENDER کو لفظ SEX پر ترجیع دیتے ہیں۔۔ سائنسدان ابھی اس عقدے کا حل تلاش نہیں کر سکے یہ شناخت کا شعور کیسے پیدا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  قراقرم ہائی وے۔۔حرامی پتھر گرتے ہیں!

اگرچہ اکثر اوقات وہ بچے جن کے کروموسز XX ہوتے ہیں اور جو زنانہ جنسی اعضا رکھتے ہیں وہ اپنے آپ کو لڑکی سمجھتے ہیں اور وہ بچے جن کے کروموسومز XY ہوتے ہیں اور جو مردانہ جنسی اعضا رکھتے ہیں وہ اپنے آپ کو لڑکا سمجھتے ہیں لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ بعض بچے مستثنیات میں شامل ہیں۔

وہ بچے جو دیکھنے میں لڑکا نظر آتے ہیں اور ان کے والدین اور رشتہ دار انہیں لڑکا سمجھتے ہیں جب اپنے آپ کو لڑکی سمجھتے ہیں اور مصر ہوتے ہیں کہ ان کی ذات غلط جسم میں قید ہو گئی ہے تو ایسے بچے MALE TO FEMALE TRANSGENDER  کہلاتے ہیں۔ ایسے بچے مصر ہوتے ہیں کہ وہ لڑکیوں کی طرح کپڑے پہنیں گے، لڑکیوں کی طرح زندگی گزاریں گے اور اگر ممکن ہو تو جوان ہو کر اپنے جسم کو آپریشن کے ذریعے عورت میں تبدیل کرا لیں گے۔

ان کے مقابلے میں وہ بچے جو دیکھنے میں لڑکی نظر آتے ہیں اور سب لوگ انہیں لڑکی سمجھتے ہیں لیکن وہ مصر ہوتے ہیں کہ وہ لڑکا ہیں۔ ایسے بچے FEMALE TO MALE TRANGENDER کہلاتے ہیں۔ ایسے بچے لڑکوں کا لباس پہنتے ہیں، لڑکوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں اور جوان ہو کر مصر ہوتے ہیں کہ ایک دن وہ جسمانی طور پر آپریشن کروا کے مرد میں تبدیل ہونے کی کوشش کریں گے۔

چوتھا مرحلہ۔۔SEXUAL ORIENTATION

انسانی بچے جب سنِ بلوغت تک پہنچتے ہیں تو وہ دوسرے انسانوں کو رومانوی اور جنسی طور پر پرکشش پاتے ہیں اور ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ جب محبت اپنے عروج پر پہنچتی ہے تو وہ ان کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ بعض انسان محبت کے بغیر شادی کرتے ہیں اور جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں۔

اکثر نوجوان جنسِ مخالف کے افراد کو(عورتیں مردوں کو اور مرد عورتوں کو) جنسی اور رومانوی طور پر پرکشش پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہم ہیٹروسیکشول HETEROSEXUAL کہتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنی ہی جنس کے لوگوں کے ساتھ (مرد مردوں کے ساتھ اور عورتین عورتوں کے ساتھ) رومانوی اور جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں۔ ایس ے لوگوں کو ہم ہوموسیکشول HOMOSEXUAL کہتے ہیں اور وہ لوگ جو دونوں جنسوں کے افراد سے رومانوی تعلقات قائم کرتے ہیں بائی سیکشول BISEXUAL کہلاتے ہیں۔

جدید سائنس اور نفسیات نے ہمیں انسانی جنسیات کو بہتر سمجھنے میں مدد کی ہے۔ اب ماہرینِ نفسیات، سرجن، ماہرِ جنسیات اور اینڈوکرنالوجسٹ بہت سے ایسے مریضوں کا علاج کر سکتے ہیں جو چند دہائیاں پہلے ممکن نہ تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔