ہندوستانی فلم انڈسٹری کا محسن…. اردشیر ایرانی


zulfiذوالفقار علی زلفی

2013 کو ہندی سینما نے اپنے سو سال مکمل کیے ،سال کے بارہ مہینے مختلف پروگرامز کیے گیے ،آرٹیکلز لکھے گئے ، باتیں ، انٹرویوز اوڑ یادیں شائع اور نشر کی گئیں۔ اس دوران ایک یہ مباحثہ بھی سامنے آیا کہ ہندوستانی سینما کا حقیقی بانی کون ہے ،دادا صاحب پھالکے یا اردشیر ایرانی؟ اس میں کوئی شک نہیں متحدہ ہندوستان کی پہلی فیچر فلم بنانے کا سہرا دادا صاحب کے سر جاتا ہے ،دادا صاحب ہی نے ہندوستان کو فلم انڈسٹری سے روشناس کروایا۔ 1913 ء ہندوستانی فلم انڈسٹری کا جنم سال ہے اور جنم دینے والے دادا صاحب مگر اردشیر ایرانی نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے انہوں نے آگے چل فلم انڈسٹری کو انڈسٹری کا درجہ دلانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اردشیر ایرانی نے محض فلمیں نہیں بنائیں انہوں نے فلموں کو گویائی دی، موضوعات دیے ، تکنیک دی، باصلاحیت افراد دیے ، ادارے قائم کیے، پلے بیک گیتوں کا آئیڈیا دیا، اور سب سے بڑھ کر سینما کا تصور پیش کیا.

آج ہندی فلمیں اربوں کا بزنس کرتی ہیں۔گوکہ دادا صاحب پھالکے کی فلمیں بھی اس زمانے میں اتنا بزنس کرتی تھیں کہ رقم لانے کے لئے بیل گاڑی اور حفاظت کے لئے پولیس اسکواڈ استعمال کیا جاتا تھا مگر ایرانی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے خالصتاً فلمی کاروبار کی داغ بیل ڈالی ،وہ پہلے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر ہیں جن کی فلموں کے ٹکٹ بلیک میں فروخت ہوئے یعنی ٹکٹ بلیک کرنے کی روایت بھی انہی کی فلموں سے شروع ہوئی.

irani05 دسمبر 1886 کو پونا ( مہاراشٹر) کے ایک پارسی گھرانے میں آلات موسیقی کے تاجر مروان ایرانی کے ہاں اردشیر ایرانی کا جنم ہوا۔ ابتدائی تعلیم پونا میں حاصل کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے لئے ممبئی کے جے.جے آرٹس کالج بھیج دیے گئے۔ وہاں سے اردو اور انگریزی کی ڈگریاں لینے کے بعد آبائی شہر میں چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے لگے۔ کہا جاتا ہے کچھ عرصے پولیس نیکر پہن کر ڈنڈا بردار بھی رہے مگر طبعیت میں چین نہیں تھا۔ تھک ہار کر والد کے کاروبار میں شامل ہو گئے۔ آرٹسٹ تھے سو یہاں بھی جی نہ لگا۔ والد سے اجازت لے کر ممبئی سدھارے۔ ممبئی تھیٹروں کا مرکز تھا ،معروف اردو ڈرامہ نگار آغا حشر کاشمیری کا طوطی بول رہا تھا۔ وہ بھی اس قافلے کے ساتھ ہولیے ،اداکاری کا پیشہ اپنا لیا۔

اس زمانے میں مغربی خاموش فلمیں بھی ہندوستان کا راستہ دیکھ چکی تھیں ،یہ فلمیں خیمہ لگا کر دکھائی جاتی تھیں۔ کاروباری خاندان سے تعلق ہونے کے باعث وہ سمجھ گئے کہ یہ مستقبل کا بڑا کاروبار بننے جارہا ہے اسی دوران ان کی ملاقات ایک اور تاجر عبدالعلی یوسف علی سے ہوگئی ،دونوں نے مل کر اس کاروبار میں کودنے کا منصوبہ بنایا.توقع کے عین مطابق نہ صرف کاروبار نے ترقی کی بلکہ ان کا رابطہ امریکی فلموں کے ڈسٹری بیوٹر یونیورسل پکچر سے بھی ہوگیا ،یونیورسل پکچر نے ایرانی کو ہندوستان میں اپنا نمائندہ مقرر کردیا.

1913 ء ہندوستان کی فلمی تاریخ کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ دادا صاحب پھالکے نے ہندوستان کی پہلی مکمل فیچر فلم ’راجہ ہریش چندر‘ بناکر انقلاب بپاکردیا۔ ایرانی دادا صاحب سے شدید متاثر ہوئے۔

ardeshir-iraniان پر بھی فلمیں بنانے کا جنون سوار ہوگیا مگر وہ دادا صاحب کی طرح جذباتی نہ تھے بلکہ ان کے برعکس ٹھنڈے اور دھیمے مزاج کے کاروباری شخص تھے اس لیے سب سے پہلے انہوں نے فلموں کی تقسیم کاری کے نظام کا جائزہ لیا۔ ہندوستان میں فلموں کی تقسیم کاری انتہائی غیر منظم تھی۔ ان کی دور رس نگاہیں بھانپ گئیں کہ اس کو ٹھیک کرنا منفعت بخش ہوسکتا ہے۔ انہوں نے امریکی یونیورس ڈسٹری بیوٹر کے نام سے اپنی ایک ذاتی ایجنسی بنائی۔ یہ فلموں کی تقسیم کا پہلا ہندوستانی ادارہ ہے۔ اس ادارے کے ذریعے انہوں نے غیرملکی سمیت ہندوستانی فلموں کی تقسیم کا کام بھی شروع کردیا.دادا صاحب بھی اپنی فلمیں انہی کو دینے لگے.

اب ان کی نظریں فلم دکھانے کے نظام پر ٹک گئیں.اس زمانے میں فلمیں یا تو خیمہ لگا کر دکھائی جاتیں یا کوئی کلب یا تھیٹر کرائے پر لے کر دکھانے کا انتظام کیا جاتا ،یہ دونوں طریقے مسائل خیز تھے کیونکہ اس سے نہ صرف دیگر تیکنیکی مسائل پیدا ہوتے تھے بلکہ پروجیکٹر اور پردے کا تال میل بھی بگڑ جاتا تھا.ان کے دماغ میں سینما کا آئیڈیا ابھرا.ایک بار پھر عبدالعلی کو پارٹنر شپ پر آمادہ کیا اور ہندوستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ سینما کو شامل کردیا ،دونوں نے مل کر 1914میں ممبئی میں ’میجسٹک‘ سینما بنایا۔ آج یہ سینما صرف تاریخ میں محفوظ ہے ،ممبئی شہر کے پھیلاﺅ نے اس سینما کو اس طرح نگلا کہ آج اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا۔ تاریخ دشمنی کوئی ہم سے سیکھے.

Alam_araڈسٹری بیوشن اور سینما جیسے جدید اقدام سے فارغ ہونے کے بعد وہ فلمسازی کی طرف متوجہ ہوئے.عبدالعلی گوکہ ان کے ساتھ تھے مگر اس کام کے لئے انہوں نے ایک گجراتی تاجر بھوگی لال دوبے کو چنا۔ دوبے کے ساتھ پارٹنر شپ کرکے انہوں نے 1920 ءمیں اسٹار فلم کمپنی بنائی اس کمپنی کے بینر تلے ان کی پہلی فلم “ویرا بھی مینی” منظر عام پر آئی جس کو انہوں نے خود پروڈیوس کیا مگر فلم اپنے ساتھ کمپنی کو بھی لے ڈوبی.

اس ناکامی سے وہ دلبرداشتہ ہرگز نہ ہوئے ،اسی سال قسمت آزمانے مدراس چلے گئے.تھوڑی سی تگ و دد کے بعد مدراسی تاجر رگھو پتی وین کیا نامی تاجر سے پارٹنر شپ کرکے ایک نئی فلم کمپنی اسٹار آف دا ایسٹ کی بنیاد رکھی.اس کمپنی کے ساتھ رسم دنیا اور دستور کے مطابق متعدد دھارمک فلمیں بنائیں مگر مدراس بھی ان کو راس نہ آیا یکے بعد دیگرے تمام فلموں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا.چٹان کی طرح مضبوط اردشیر ایرانی کے ارادے پہلی دفعہ متزلزل ہوئے ،مایوس ہوکر ممبئی لوٹ آئے تاہم نچلا بیٹھنا ان کے لیے ممکن نہ تھا جلد ہی حواس مجتمع کرکے اپنی ذاتی فلم کمپنی “امپریل فلمز” کی بنیاد رکھی اور فلم بنانے کیلئے ایک تاریخی موضوع چنا اور موہن بھونانی کی ہدایت میں شیواجی کی زندگی پر مبنی فلم “میواڑ سنگھ” کو پروڈیوس کیا مگر نتیجہ وہی ڈاک کے تین پات ،یہ فلم بھی بری طرح پٹ گئی..

پے در پے ناکامیوں نے انہیں رک کر سوچنے پر مجبور کردیا.انہوں نے تمام تر ناکامیوں کا بے لاگ تجزیہ کرکے ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ ایک بار پھر میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا.معروف اردو ادیب آغا حشر کاشمیری کو دعوت دی اور اور ان کے ڈرامے “خواب ہستی” کو فلمانے کی خواہش ظاہر کی جسے آغا نے قبول کرلیا ،اسکرپٹ لکھنے کی ذمہ داری بھی آغا حشر کو دی گئی.یہ مسلم معاشرے پر مبنی کہانی تھی ،ایرانی نے اس فلم پر جم کر محنت کی.فلم کامیاب رہی اور کمپنی ڈوبنے سے بچ گئی ،اہم ترین بات ان کے حوصلے آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگے.اب “نورجہاں” بنانے کا منصوبہ بنایا.

مغلیہ سلطنت کے دربار ،بادشاہ جہانگیر اور ملکہ نورجہاں کو پردے پر پیش کرنا خوشگوار تجربہ ثابت ہوا.عوام نے اس فلم کو خوب سراہا۔ 1927ءمیں انہوں نے معروف اردو ڈرامہ نگار امتیاز علی تاج کو شہزادہ سلیم اور انارکلی کی رومانوی داستان پر مبنی اسکرپٹ لکھنے کی ذمہ داری سونپی ،اس فلم سے متعلق دو چیزیں کافی اہم ہیں ،ایک فلم کی ہیروئن روبی میئر جو انارکلی کا کردار ادا کررہی تھیں بعد ازاں “سلوچنا” کے نام سے مشہور ہوکر ہندی سینما کی معروف اداکارہ بنیں اور دوسری یہ کہ فلم کی شوٹنگ مختلف تاریخی مقامات پر محض سات دن کے اندر اندر کی گئی.فلم “انارکلی” نے بھی باکس آفس پر جھنڈے گاڑے۔

1929 کو امریکہ اور یورپ خاموش فلموں سے نکل کر بولتی فلموں کی دنیا میں داخل ہورہے تھے.اس کے اثرات ہندوستان بھی پہنچنے لگے مگر ہندوستان تاحال اس ٹیکنالوجی اور اس تکنیک سے آشنا افراد سے محروم تھا.ایرانی نے ہندوستانی فلموں کی بے زبانی کو شدت سے محسوس کیا.

0r2hhkakانہوں نے فلموں کو گویائی دینے کی ٹھانی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے وہ لندن چلے گئے.ایک مہینے تک وہاں ریکارڈنگ سسٹم کی تربیت حاصل کرنے کے بعد دوبارہ ممبئی آگئے اور بولتی فلم “عالم آرا” بنانے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں جت گئے.

فلم “عالم آرا” سے بانی پاکستان محمد علی جناح کا بھی ایک دلچسپ تعلق ہے.دراصل ہوا یوں کہ اردشیر ایرانی اوئل میں اپنے ایک نوجوان گجراتی اسسٹنٹ محبوب خان کو فلم کا ہیرو بنانا چاہ رہے تھے مگر بعد ازاں ان کے کاروباری دماغ نے یہ فیصلہ بدل دیا ،وہ ایک نئے چہرے کو پہلی بولتی فلم میں مرکزی کردار دینے سے ہچکچانے لگے اس لیے انہوں نے خاموش فلموں کے معروف اداکار “ماسٹر وٹھل” کو ہیرو ،اداکارہ “زبیدہ” کو ہیروئن اور تھیٹر کے مشہور اداکار “پرتھوی راج کپور” کو کریکٹر رول دیا.محبوب خان اس فیصلے سے اس قدر ناخوش ہوئے کہ انہوں نے اداکاری کرنے کے تمام خواب جلا کر ہدایت کاری کا راستہ چنا اور اس راستے نے انہیں ہندی فلموں کا لیجنڈ ہدایت کار بنا دیا ،آج محبوب خان “مدر انڈیا” ،”عورت” اور “آن” جیسی کلاسیک فلموں کی ہدایت کاری کی بدولت ہندی سینما کے امر ہدایت کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ خیر،یہ جملہ معترضہ تھا ،بات ہورہی تھی قائد اعظم محمد علی جناح کی….

ماسٹر وٹھل شردھا فلم کمپنی سے وابستہ تھے اور شردھا کمپنی کے مطابق وہ کسی اور کمپنی کی فلم میں کام نہیں کرسکتے تھے اسلیے جب ماسٹر وٹھل نے عالم آرا کی آفر قبول کی تو شردھا کمپنی نے ان پر قرارداد شکنی کا مقدمہ دائر کردیا.ماسٹر وٹھل نے اس زمانے کے ممتاز قانون دان محمد علی جناح کو اپنا وکیل نامزد کیا ،جناح نے نہ صرف ان کا بھرپور دفاع کیا بلکہ وہ یہ کیس بھی جیت گئے یوں ماسٹر وٹھل اور عالم آرا کے درمیان حائل قانونی رکاوٹ دور ہوگئی.

عالم آرا بھی مسلم معاشرے پر مبنی فلم ہے.اسٹوڈیو ریلوے ٹریک کے قریب تھا۔ اس لیے فلم کی شوٹنگ رات کو ٹرینوں کی آمدورفت منقطع ہونے کے بعد کی جاتی تھی ،تاریکی دور کرنے کیلئے بڑی لائٹوں کا استعمال کرکے دن جیسا سماں پیدا کیا جاتا ،یہ تکنیک بھی ہندوستان میں ایرانی نے متعارف کرائی.پہلی دفعہ پلے بیک گانے کا آئیڈیا بھی اسی فلم میں استعمال کیا گیا.فلم کے ساتوں گانے اداکاروں کی آوازوں میں ہیں جن میں سے ایک گانا جو فلم میں فقیر کا رول ادا کرنے والے وزیر محمد خان نے گایا اس زمانے کا مقبول ترین گانا بن گیا.گانے کے بول یہ تھے..

دے خدا کے نام پہ پیارے ،طاقت ہو گر دینے کی

کچھ چاہیے گر تو مانگ لے مجھ سے ،ہمت ہے گر لینے کی

عالم آرا 14 مارچ 1931 کو ریلیز کی گئی.فلم اپنی ریلیز کے ساتھ ہی بلاک بسٹر ثابت ہوئی.دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹکٹ بلیک ہونے کی بری روایت بھی اسی فلم سے قائم ہوئی ،چار آنے کا ٹکٹ پانچ روپے میں بلیک ہوا.ویسے اس روایت کا ایک ریکارڈ ہدایت کار سبھاش گئی کو بھی حاصل ہے ،ان کی فلم کھل نائیک کا ٹکٹ جو سو روپیہ تھا ایک ہزار روپے کی بلند ترین سطح پر بلیک ہوا.

عالم آرا کی کامیابی کے بعد انہوں نے مشہور رومانوی داستان “شیریں فرہاد” کو پردہ اسکرین پر پیش کیا اور یہاں بھی خوب داد سمیٹی.اس فلم میں 42 گانے ہیں جو تاحال ایک ریکارڈ ہے.

اردشیر ایرانی نابغہ روزگار تھے.انہوں نے اسی پر بس نہ کیا بلکہ 1933 میں وہ ایک نئے آئیڈیا کے ساتھ سامنے آئے.انہوں نے ہندوستان کی پہلی انگریزی فلم Bells Temple بنائی ،اس فلم کا ہندی نام “سلوچنا” رکھا گیا ،فلم کی ہیروئن روبی میئر کا نام اس فلم کی بدولت ہمیشہ کیلئے سلوچنا پڑگیا.اسی سال انہوں نے ایک اور عہد ساز منصوبہ پیش کیا ،”دختر لر”. یہ ایک فارسی فلم ہے جسے اکتوبر 1933 کو ایرانی سینما گھروں میں پیش کیا گیا اسے نہ صرف ایران کی پہلی بولتی فلم کا اعزاز حاصل ہے بلکہ پہلی دفعہ کسی فارسی فلم میں خاتون اسٹار کو پیش کیا گیا ،ایران میں کسی خاتون کا فلم میں درکنار ریڈیو میں کام کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا.اداکارہ ’روح انگیز سمی نژاد ‘ کا تعلق چونکہ صوبہ کرمان سے تھا اور فلم صوبہ لرستان کے پس منظر میں بنائی گئی تھی اس لیے کہا جاتا ہے کہ اداکارہ کے لہجے کو لرستانی بنانے پر بھی ایرانی نے سخت محنت کی..یہ فلم ایران میں سپر ہٹ تو ہونی تھی مگر ہندوستان میں بھی اس کو خاصا رسپانس ملا..

ان کے فلمی اور سماجی خدمات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اسی سال انگریز حکومت نے انہیں “خان بہادر” کا خطاب عطا کیا۔ 1937 ءمیں انہوں نے ایک اور قدم بڑھایا ،انہوں نے ہندوستان کی پہلی کلر لیب قائم کی اور اسی کلر لیب کی بدولت کسان عورت کی زندگی پر مبنی کلر فلم “کسان کنیا” بنائی.کسان کنیا کا اسکرپٹ اردو زبان کے مایہ ناز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے لکھا.اس فلم نے بھی مقبولیت کا سہرا باندھا۔ 1945 ءان کی فلمی زندگی کا آخری سال ثابت ہوا ،اس سال انہوں نے “پجاری” فلم بناکر فلم لائن سے ریٹائر منٹ کا اعلان کردیا.

تقسیم ہند کے پانچ سال بعد 1952 کو بھارتی حکومت نے ان کی خدمات کے صلے میں ان کو “فادر آف انڈین ٹاکی” کا خطاب دیا.

یہ عظیم اور جینئس فنکار 82 سال کی عمر میں 14 اکتوبر 1969 کو طویل علالت کے باعث ممبئی میں انتقال کرگئے۔

اردشیر ایرانی کی خدمات کا دائرہ کافی وسیع ہے اور اس لحاظ سے نہ بھارتی حکومت نے انہیں احترام سے نوازا اور نہ ہی پاکستان و ایران نے.بھارتی حکومت نے محض ایک خطاب دے کر دامن چھڑا لیا جبکہ دیگر دو ممالک نے ان کو اس قابل بھی نہ سمجھا.جو یقیناً قابل افسوس ہے.


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “ہندوستانی فلم انڈسٹری کا محسن…. اردشیر ایرانی

  • 15-01-2016 at 4:47 pm
    Permalink

    عالم آرا کا جو پوسٹر چسپاں کیا گیا ہے وہ 1959 میں ریلیز ہوئی تھی ۔ اس کا اردشیر ایرانی کی عالم آرا سے کوئی تعلق نہیں ۔

  • 23-02-2016 at 5:14 pm
    Permalink

    Jafferi sahib, but how come the commencing date Saturday 14th March 1931 and the cast names Zubeda and Withal were given on the poster if ‘this’ film was released in 1959 as you pointed out

  • 19-04-2016 at 2:23 pm
    Permalink

    نہایت عمدہ اور خوبصورت اندز میں اردشیر ایرانی کے فنی سفر کو مصنف نے اپنی تحریر میں سمیٹا ہے-
    اعلیٰ تحریر ،،

Comments are closed.