عامر حسن سے فیصل میر تک


لاہور سے پاکستان پیپلز پارٹی کے جواں سال فعال رکن بیرسٹر عامر حسن نے 2015میں پارٹی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے حلقہ 122کے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا، عامر حسن کے حاصل کردہ ووٹوں کو سامنے رکھتے ہوئے ’’انتخابی ریڈار پر 819لرزتے آنسو‘‘ کے عنوان سے کالم ’’چیلنج‘‘ لکھا گیا، ٹھیک تقریباً پونے دو برس بعد پاکستان کے معزز اور موثر تاریخی دانشور پروفیسر وارث میر کے صاحبزادے فیصل میر نے حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب میں قسمت آزمائی کی، پی پی پی کے امیدوار کی حیثیت سے 1114(ایک ہزار ایک سو چودہ) ووٹ حاصل کئے، گویا اب ’’انتخابی ریڈار پر لرزتے 819آنسوئوں میں 295آنسوئوں کا اضافہ‘‘ کے عنوان سے کوئی تحریر لکھنے کی ضرورت ہے، ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کو ملک کی خاکی و غیر خاکی خفیہ ایجنسیوں، تمام سرمایہ دار اور جاگیر دار طبقوں، مذہبی گروہوں، مخالف حکمرانوں، مڈل کلاسیئے تاجروں اور عدالتی فورموں نے بے حد و حساب مصائب و شدائد، اذیتوں و کلفتوں اور آبلہ پائیوں سے دوچار کیا، کوڑے، شہادتیں، جیلیں اور ناقابل بیان ابتلائوں نے اس پارٹی کے درودیوار کو انسانی بربریت کے لہو رنگ چھینٹوںسے بھر دیا، پاکستانی عوام کی خاطر آگ اور خون کے دریا میں ڈوب کر لکھی اس پارٹی کی داستان کے ہر لفظ سے خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں، چاہے سب تردید کریں مگر دستِ تاریخ کے پاس مہر تصدیق موجود ہے، چنانچہ جو چاند پر تھوکے گا اس کا اپنا چہرہ اس تھوک کا وصول کنندہ ہو گا، پی پی پی کی 1967ء سے لے کر 2017تک جاری اس تگ و تاز میں کہیں 819یا 1114آنسوئوں کی کوئی جگہ بنتی ہے؟ شاید یہ تسلیم کرانے میں حقائق کی سرزمین مانع ہے، کہیں نہ کہیں گڑبڑ ہوئی ہے، اس بے برکتی کی پیدائش اسی گڑبڑ کا بے برکت نتیجہ ہے، تمام تر کربلائوں کے باوجود آخر وہ کونسا کاری وار ہے جو اس پارٹی کے جسد کو صرف ’’وسطی پنجاب‘‘ میں رینگنے پر مجبور کر چکا؟

وہ کاری وار ہے، تبدیل شدہ پنجاب خصوصاً وسطی پنجاب میں پیپلز پارٹی کے نظریاتی ایوان کو ELECTABLESتھیوری کے آلودہ نظریے اور طرز فکر سے داغدار کر دینا، سمجھ لیا گیا،حکمرانی کے تخت پر بادشاہی کے ابواب رقم کرنا ہی ’’پارٹی منشور‘‘ ہےیہ ایک ایسی تعبیر اور تفسیر تھی جس نے پاکستان پیپلز پارٹی کی نظریاتی للکار کی روح چھلنی کر دی، اس کے سیاسی جسد کی ساری جبلی قوت کو پارٹی قیادت کے مختلف عہدوں پر براجمان امانت داروں نے اپنی ہوس اقتدار کے ہتھیاروں سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔

’’819‘‘ اور ’’1114‘‘ آنسوئوں کے دونوں واقعات کے ذرا تفصیلی مراحل میں داخل ہوتے ہیں۔
(1) بیرسٹر عامر حسن پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے تعلیم یافتہ اور متحرک ترین کارکنوں میں سے ہیں، تعصب اور جانبداری کے بغیر انہیں ’’سیاسی شہر دار‘‘ کہا جا سکتا ہے، وہ سماجی سطح پر بھی پورے شہر کے حلقوں سے رابطہ میں رہتے ہیں، جب پی پی کو 2015میں لاہور کے ایک حلقے سے ضمنی انتخاب کے لئے امیدوار کی ضرورت پڑی اس وقت بیرسٹر عامر حسن کا نام سامنے آیا، لطف کی بات ہے پارٹی کی مرکزی قیادت اکثریتی حصہ اور پنجاب کی پوری پارٹی قیادت عامر حسن کی جانب سے بائیکاٹ کئے جانے پر مصر تھی یا ایسی توقع کر رہی تھی، ایک اجلاس میں جب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی نگاہ انتخاب کے حوالے سے ان کی رائے پوچھی، عامر حسن کا جواب تھا، ’’جناب! مجھے کسی پس منظر یا پیش منظر کی ضرورت نہیں آپ میرے چیئرمین ہیں، میں آپ کا پارٹی ورکر ہوں، بس میں خود کو اسی تناظر میں دیکھتا اور رہتا ہوں، جو آپ کا حکم ہو گا میرا فرض اسے بجا لانا ہے‘‘ اور بلاول بھٹو زرداری نے بہ نفس نفیس اس حلقے 122کے ضمنی انتخاب میں عامر حسن کے پارٹی امیدوار ہونے کا اعلان کر دیا۔

اسی بارے میں: ۔  مسلم لیگ (ن) کو فی الوقت ”صاف ستھری“ قیادت درکار ہے

بلاول نے قومی اسمبلی کے حلقہ 122کے ضمنی انتخابات میں بیرسٹر عامر حسن کو ٹکٹ جاری کر دیا اور اس کے بعد ’’چراغوں میں روشنی نہ رہی‘‘! آپ صرف تقریباً پونے دو برس پہلے کے اخبارات اور حلقہ 122 میں عامر حسن کی انتخابی جدوجہد کا ریکارڈ جمع کریں، آپ کو پارٹی چیئرمین کی جانب سے نامزد کردہ امیدوار کے حوالے سے پنجاب پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت کی خود سر سیاسی غیر ذمہ داریوں، ذاتی مفاداتی سیاسی تعصبات اور پارٹی منشور کے تقاضوں سے لا علمی کے تفاخر پر مبنی رویوں کی برہنگی سامنے آ جائے گی، پارٹی کے عمر رسیدہ جیالوں کی اکثریت وہ نقصان رساں کڑی بن چکی ہے جس نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کو اپنے جالوں میں پھنسا کر ادھ موا کر دیا ہے، ان کی قربانیاں اور سعی و جہد ایک صداقت ہے وہ اس صداقت کا طویل مدتوں سے خراج وصول کرنے کے باوجود اس وصولی کے تسلسل پہ مصر ہیں تاآنکہ پیپلز پارٹی کے وجود سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا جائے جس کا ایک اصولی ثبوت دو شکلوں میں سامنے آ چکا819اور 1114!

حلقہ 122کے لئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اعلان کردہ امیدوار قومی اسمبلی بیرسٹر عامر حسن نے 2015میں اپنی انتخابی مہم تن تنہا چلائی، مصدقہ معلومات کے مطابق پوری انتخابی تگ و تاز میں ہر قسم کے اخراجات کی پائی پائی خود برداشت کی، پارٹی کے مرکزی رہنمائوں میں سے کوئی ایک آدھ ہی بعد از درخواستوں اور منت واسطوں کے عامر حسن کے ساتھ شامل ہوا، غالباً اعتزاز اور قمر زمان کائرہ صاحبان کو، چیئرمین پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار کے سلسلے میں برتی گئی مجرمانہ لاپروائی کے دائرے سے باہر رکھا جا سکتا ہے، حلقے کی گلی گلی، بازار بازار اور کونے کونے میں عامر حسن کی تقاریر ہوتی رہیں لیکن حلقے کے عوام کو کسی ایک مقام پر بھی پنجاب پیپلز پارٹی کی پوری قیادت اس کے ساتھ کھڑی دکھائی نہ دی، نتیجہ 819آنسو! دس بارہ ہزار ہی ہو جاتے، کم از کم رونے دھونے کا وقار باقی رہتا۔
اب آتے ہیں! جیسا کہ عرض کیا، پاکستان کے موثر اور معزز تاریخی دانشور پروفیسر وارث میر کے صاحبزادہ فیصل میر کے انتخابی المیے کی طرف! فیصل میر بھی پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے ان کارکنوں میں شمار کئے جاتے ہیں جن کی شخصی تیزی و طراری، تحرک اور پارٹی کے لئے اپنے شب و روز کی ساری توانائیاں صدقہ کر دینے کو مجموعی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ حلقہ 120فیصل میر کی انتخابی صلاحیتوں کا فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ سیاسی عدم توازن اور سیاسی بے انصافی کا ارتکاب ہو گا، فیصل میر کے امیدوار ہونے کو بھی پارٹی پالیسیوں کے آئینے میں دیکھنا چاہئے۔

اسی بارے میں: ۔  ہم مبالغے کے بادشاہ ہیں

فیصل میر کس پی پی پی کا نمائندہ تھا جس کے بارے میں آج بھی دانشوروں کا کہنا ہے ’’پھر سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو مجرم بنا کر عدالت کے حکم پر پھانسی دی گئی، کیا وہ آج پاکستان کے سیاسی اور قومی افق پر ایک ہیرو کی طرح موجود نہیں، یقیناً اس کی قومی و ملی خدمات اور کارہائے نمایاں تو قوم خوب سمجھتی ہے اور پذیرائی دیتی ہے پھر تاریخ کے اوراق پر اس کے ساتھ نا انصافی کیونکر ہو سکتی ہے؟ کون ہے جو اس کے عدالتی قتل پر تاریخ میں اس کے سنہری کردار کو مسخ کر سکے؟‘‘ لیکن حلقہ 120کے انتخاب پر گفتگو کرتے ہوئے دانشور کے سوال کا جواب دیا جا سکتا ہے یعنی واقعی کوئی بھی تاریخ کے اوراق پر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ناانصافی نہیں کر سکتا مگر اس کی اپنی پارٹی وسطی پنجاب میں اپنے قائد کے ساتھ بے انصافی ہی نہیں بلکہ اپنے سیاسی طرز عمل کی غیر معیاری آڑ بازیوں کی بنیاد پر ذوالفقار علی بھٹو کی ذات اور کاوش، وہ دونوں کا چہرہ داغدار کر سکتی ہے۔ فیصل میر 1114ووٹوں کے ساتھ ان لوگوں کا یہی داغدارانہ ملبہ اٹھائے پھرتا رہے گا، اس سے پہلے یہی راکھ عامر حسن کی جھولی میں ڈالی گئی تھی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چوہدری منظور اور ندیم افضل چن کے کہنے پر حلقہ 120کے وقوع پر ’’فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا دی ہے، سوال یہ ہے ’’کیا یہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی‘‘ پورا سچ ریکارڈ پر لا سکے گی؟‘‘ جو لوگ وسطی پنجاب کی صوبائی قیادت سے آگاہ ہیں، ان کا جواب سو فیصد نفی میں ہو گا،

فیصل میر بھی پنجاب پیپلز پارٹی کے صوبائی قیادتی مرکز کی، آوارگی کی حد تک، سیاسی غیر ذمہ داریوں کا شکار ہوا، بصورت دیگر اس کے ساتھ گھر گھر جاتے ایشوز کے بات کرنے پر، کم از کم 1114آنسو نہ ہوتے، کچھ نہ کچھ بھائو بھرم رہ جاتا جیسا کہ عامر حسن کے معاملے پر بھی یہی عرض کیا گیا، وسطی پنجاب تبدیل ہو چکا، قیادت کے مدارالمہام سے لے کر لاہور کے ’’پارٹی چوہدریوں‘‘ کو اس کا ادراک ہی نہیں!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔