سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت: شاہی فرمان


سعودی عرب میں میڈیا کا کہنا ہے کہ حکومت نے ملک میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت ہوگی۔سعودی میڈیا کے مطابق یہ اجازت ایک شاہی فرمان کے ذریعے دی گئی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق میں شاہی فرمان کے تحت ٹریفک قوانین میں تبدیلیاں کر کے مردوں اور خواتین کے لیے یکساں ڈرائیونگ لائسنز جاری کیے جائیں گے۔

سعودی میڈیا کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ منگل کو شاہی فرمان میں ٹریفک قوانین میں ترمیم کی ہدایت دی گئی۔ امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ صحیح سمت کی جانب صحیح قدم ہے۔‘

سعودی عرب میں 1990 سے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد ہے۔ یہ پابندی قانون کا حصّہ نہیں تھی تاہم معاشرتی اور تہذیبی طور پر سعودی عرب میں اس عمل کی اجازت نہیں ہے۔

کافی عرصے سے سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن خواتین کی ڈرائیونگ کی اجازت کے لیے سرگرم ہیں۔ کئی لگاتار مہمات کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا تھا اب معاشرے کا چلن تبدیل ہو رہا ہے اور اب مردوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد اس پابندی کے خاتمے کے حق میں ہے۔

سعودی عرب کے شہزادے ولید بن طلال نے بھی گذشتہ برس کے آخر میں ملک میں خواتین پر گاڑی چلانے کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ارب پتی شہزادہ ولید بن طلال نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا تھا کہ خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی ختم کرنا نہ صرف ملکی معیشت بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے بھی ضروری ہے۔

سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین پر گاڑی چلانے پر پابندی تھی اور اس کے خلاف مہم چلانے والی حقوق انسانی کی کارکنوں کو گرفتاری کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور ‘ہم سب’ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین ‘ہم سب’ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 1324 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp