شمالی کوریا اور جنوبی کوریا: وراثت بمقابلہ جمہوریت


شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان دھمکیوں کا تبادلہ جاری ہے۔ ہمیں بہت کم اندازہ ہے کہ لفظوں کی جنگ کو شمالی کوریا کے لوگ کس انداز میں لیتے ہیں کیونکہ کم جونگ اُن کی حکومت نے آبادی پر آہنی گرفت رکھی ہوئی ہے اور وہ اپنے شہریوں کی بیرونی دنیا تک رسائی کو قابو کرتے ہیں۔اس ملک کو اکثر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ یہ 21 ویں صدی سے بالکل ہم آہنگ نہیں۔ وہاں سے اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل ہے اس لیے باتیں اکثر اندازوں کی بنیاد پر کی جاتی ہیں لیکن یہ اعداد و شمار ہمیں شمالی کوریا کی زندگی کے بارے میں کیا بتاتے ہیں؟

کم ال سنگ نے 1948 میں مؤثر طور پر شمالی کوریا کی بنیاد رکھی اور ان کا خاندان اس وقت سے ملک پر حکمران ہے اور اقتدار باپ سے بیٹے کو منتقل ہوتا رہا ہے۔

اسی دوران جنوبی کوریا نے چھ جمہوری ادوار دیکھے جن میں ایک انقلاب، اکا دکا بغاوتیں اور آزاد اور شفاف انتخابات کے ذریعے منتقلی اقتدار شامل ہیں۔ کل ملا کر 12 صدور نے 19 ادوار میں ملک کا نظام چلایا۔

30 لاکھ موبائل فونز ویسے تو بہت زیادہ لگتے ہیں لیکن ڈھائی کروڑ آبادی والے ملک میں یہ تناسب ہر دس میں سے ایک فرد کا بنتا ہے۔ موبائل فونز استعمال کرنے والے زیادہ تر افراد دارالحکومت پیانگ یانگ سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس کے برعکس جنوبی کوریا جس کی آبادی پانچ کروڑ دس لاکھ ہے وہاں موبائل کنکشنز کی تعداد ملکی آبادی کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

شمالی کوریا میں کوریو لنک نامی صرف ایک موثر موبائل نیٹ ورک ہے اور وہاں کی موبائل مارکیٹ خاصی محدود ہے لیکن بڑھ رہی ہے۔ ابتدائی طور پر کوریو لنک نے مصر کی ٹیلی کام فرم اورسکام سے شراکت داری کی تھی اور کئی برس تک صرف یہی ایک نیٹ ورک موجود تھا۔

تاہم 2015 میں اورسکام کو پتہ چلا کہ شمالی کوریا اس کے مقابلے میں بایول نامی ایک نیٹ ورک بنا رہا ہے اور اسے مجبور کیا گیا کہ وہ سرمایہ کاروں کو بتائے کہ اس نے تیس لاکھ صارفین کو دی جانے والی خدمات پر سے کنٹرول کھول دیا ہے۔

اگرچہ صارفین کی اس تعداد کے بارے میں بھی شک کرنے کی وجوہات ہیں۔

امریکہ کوریا انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق کچھ بڑھوتری شاید اس لیے بھی کم ہوئی ہو کہ شمالی کوریا کے شہریوں نے حساب لگایا کہ اضافی ایئر ٹائم خریدنے سے زیادہ سستا یہ ہے کہ نیا کنکشن حاصل کر لیا جائے۔

ملک میں موبائل فونز کی کمی کے ساتھ ساتھ، شمالی کوریا کے شہریوں کی بڑی اکثریت کو صرف ملک کے ‘پرائیویٹ انٹرنیٹ’ تک ہی رسائی حاصل ہے جو کہ قومی سطح پر دستیاب ہے۔

2016 میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا کے صرف 28 رجسٹرڈ ڈومینز ہیں۔

یہ ایک افسانہ ہو سکتا ہے لیکن نعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ شمالی کوریا کے مرد قد میں جنوبی کوریائی مردوں کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے ہیں۔

پروفیسر ڈینئل شویکن ریک سیول کی ایک یونیورسٹی میں شمالی کوریائی پناہ گزینوں کے قد کے بارے میں تحقیق کر رہے ہیں۔ انھیں تحقیق سے معلوم ہوا کہ شمالی کوریا کے شہری جنوبی کوریا کے مقابلے میں اوسطاً تین سے آٹھ سینٹی میٹر چھوٹے ہیں۔

شویکن ریک نے وضاحت کی کہ قد کے فرق کو جینیات سے منسوب نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دونوں آبادیاں ایک جیسی ہیں۔

انھوں نے اس تنقید کو بھی مسترد کیا جس میں کہا جا رہا تھا کہ پناہ گزینوں کے زیادہ تر خوراک کی کمی کا شکار ہونے کا امکان ہوتا ہے لہٰذا وہ ہیئت میں کم ہوتے ہیں۔

شمالی کوریا کے شہریوں کے عام طور پر چھوٹے قد کی وجہ وہاں خوراک کی کمی خیال کی جاتی ہے۔

شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کی تصاویر میں اکثر چوڑی اور قدیم موٹرویز دکھائی جاتی ہیں جن پر ٹریفک نہیں ہوتا لیکن شہر سے باہر معاملہ مختلف ہے۔

2006 کے اعدادو شمار کے مطابق شمالی کوریا میں 25554 کلومیٹر طویل سڑکیں ہیں لیکن صرف تین فیصد پکی ہیں جو کہ کل 724 کلومیٹر بنتے ہیں۔

یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہر ایک ہزار میں سے صرف 11 شمالی کوریائی شہریوں کے پاس گاڑی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بس سٹاپوں پر ایسے لوگوں کی لمبی قطاریں ہوتی ہیں جو سفر کرنا چاہتے ہیں۔

شمالی کوریا میں بس سٹاپوں پر ایسے لوگوں کی لمبی قطاریں ہوتی ہیں جو سفر کرنا چاہتے ہیں

شمالی کوریا کو اپنی معیشت کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے کوئلے کی برآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کا اصل حجم معلوم کرنا مشکل ہے کیونکہ اعدادوشمار صرف ان ممالک سے حاصل کیے جا سکتے ہیں جو کوئلہ درآمد کرتے ہیں۔

چین شمالی کوریا سے ناراض، کوئلے کی درآمد معطل

شمالی کوریا کا زیادہ تر کوئلہ چین برآمد کیا جاتا ہے جس نے فروری 2017 میں درآمدات پر پابندی عائد کی ہے۔ تاہم چند تجزیہ کاروں نے اس طرز کی پابندی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

پرسٹن انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اکنامکس کے تجزیہ کار کینٹ بوائڈسٹن کہتے ہیں ‘ایسے لوگ ہیں جو بحری جہازوں کی تقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے شمالی کوریا کے بحری جہازوں کو چین کے کوئلے کے ٹرمینلز پر پابندی کے بعد بھی لنگرانداز ہوتے دیکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ چین نے کوئلے کی درآمدات پر پابندی عائد کی ہے لیکن مکمل طور پر نہیں۔’
1973 تک شمالی اور جنوبی کوریا کی دولت ایک جتنی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک جنوبی کوریا نے دنیا کے کلیدی صنعتی ملک کا درجہ حاصل کرنے کے لیے تیز رفتاری دکھائی ہے اور سام سنگ اور ہنڈائی جیسے ادارے عالمی سطح پر گھریلو نام بن گئے ہیں۔

شمالی کوریا 1980 میں جمود کا شکار ہو گیا اور ملک اپنے ریاستی نظام میں بری طرح پھنستا چلا گیا۔ شمالی کوریا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا 52 واں بڑا ملک اور چوتھی بڑی فوج کا حامل ہے۔

اندازوں کے مطابق فوج کے اخراجات مجموعی قومی پیداوار کا 25 فیصد ہیں اور تقریباً ہر شمالی کوریائی مرد کسی نہ کسی انداز میں فوجی تربیت حاصل کرتا ہے۔

90 کی دہائی کے آخر میں قحط کے سلسلوں کی وجہ سے شمالی کوریا میں متوقع مدتِ حیات میں تیزی سے کمی آئی لیکن اس عنصر کو نکال بھی دیا جائے تو شمالی کوریا میں جنوبی کوریا کے مقابلے میں اوسط عمر 12 سال کم ہے۔

شمالی کوریا میں عوام کو خوراک کی کمی کا سامنا رہتا ہے اور یہی وجہ ہے جنوبی کوریائی عام طور پر زیادہ لمبی زندگی گزارتے ہیں۔

جنوبی کوریا کی حکومت کی جانب سے شرحِ پیدائش میں اضافے کی دس سالہ کوششوں کے باوجود سنہ 2017 میں وہاں شرح پیدائش تاریخ کی نچلی ترین سطح تک پہنچ گئی۔ جنوبی کوریا نے بچوں کی پیدائش پر بونس دینے، والد بننے کی چھٹیوں کا نظام بہتر بنانے اور بانجھ پن کے علاج کے لیے معاوضہ دینے پر 70 ارب ڈالرز خرچ کیے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 597 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp