مستنصر حسین تارڑ کے ساتھ ۔۔یاد گار سفر!


waqar ahmad malik

تارڑ صاحب نے پوچھا، بتاﺅ میں کہاں ہوں اور ضد کی کہ میں اندازہ لگاﺅں۔

اور پھر تارڑ صاحب کی جذبات سے لرزتی آواز آئی ، اوئے میں بشام میں ہوں ، بشام میں کیا سمجھے؟

میرے زبان سے باوجود کوشش کہ صرف ایک ہی لفظ نکل پایا ” کیا۔۔؟“

آپ نے بتایا ہی نہیں سر، میں نے کہا

تارڑ صاحب نے کہا، مجھے کسی نے بتایا تھا کہ تم گلگت میں ہو

میں چار دن قبل ہی گلگت سے واپس آیا ہوں۔

فر ہن کی پروگرام اے؟ تارڑ صاحب نے پوچھا۔

میں آپ کو تھوڑی دیر تک کال کرتا ہوں۔

فون بند کرنے کے بعد کافی دیر میں سو چتا رہا۔ جانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ ابھی دس چھٹیاں کرکے دفتر آیا تھا اب پھر دس چھٹیوں کی عرضی کیسے ڈالی جائے۔؟

دوسری ممکنہ صورت یہ ہو سکتی تھی کہ ٹور کودفتری فرض بنایا جائے اور کہا جائے کہ میں تارڑ صاحب کے ساتھ پروگرام کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ آسان نہیں تھا۔

میڈیا سے متعلقین جانتے ہیں کہ کسی بھی پروگرام کا ایک کانسیپٹ پیپر بنتا ہے ۔

بہت ساری ’ای میل ای میل ‘ کھیلی جاتی ہے۔

پھر بجٹ زیر غور آتا ہے ۔

01پھر پروگرام کے لیے وسائل کی تقسیم زیر بحث آتی ہے کہ کونسے کیمرہ مین اور ایڈیٹر میسر ہیں اور کونسی ایڈیٹنگ شفٹس مل سکتی ہیں ۔

یہ نہیں ہو سکتا کہ میں کراچی اپنے باس کو کہوں کہ میں ابھی دس دنوں کے لیے تارڑ صاحب کے ساتھ شوٹ پر نکل رہا ہوں ۔

دوسرا قضیہ یہ تھا کہ مجھے فیصلہ صرف دو گھنٹوں میں کرنا تھا۔ تارڑ صاحب آدھی مسافت طے کر چکے تھے۔ آدھی مسافت مزید طے کرنے کے بعد اس سے اگلے دن بلند پہاڑوں پر یلغار کرنا ان کی فہرست میں رقم تھا۔ میں بغیر وقت ضائع کیے اگر اسی وقت چلنا شروع کر دیتا ہوںاور راستے میں بغیر رکے 36 گھنٹوں بعدنگر پہنچتا ہوں تو تارڑ صاحب کی مہم میں بغیر آرام کیے شریک ہو سکتا ہوں۔ پورا دن پہاڑ چڑھنے کے بعد اب سے تیسری رات ہو سکتی ہے جس میں نیند کے لیے وقت مل سکتا ہے۔

ایک اور مصیبت یہ آن پڑی کہ اس وقت قراقرم ہائی وے کے لیے مانسہرہ میں بسوں کا کانوائے بنتا تھا۔ نیٹکو اور دوسری بس سروسز چھ بجے راولپنڈی سے نکل جاتیں تھیں۔ یعنی میں اگر پبلک ٹرانسپورٹ پر راولپنڈی پہنچتا ہوں تو بھی گلگت کے لیے بس نہیں پکڑ سکتا اور کل تک کے لیے انتظار کا مطلب ہے کہ تارڑ صاحب کی مہم کا حصہ نہیں بن سکتا۔ اپنی گاڑی پر اگر مانسہرہ پہنچ جاتا ہوں تو گاڑی کا کیا کروں گا؟ کس کے پاس چھوڑوں گا؟

آخر میں ایک ہی صورت بچتی ہے کہ یہاں سے بشام تک اپنی گاڑی میں طوفانی رفتار سے جاﺅں ۔ وہاں گاڑی ایف ڈبلیو او کے دوستوں کے پاس کھڑی کروں اور بس پر سوار ہوجاﺅںکیونکہ بشام میں کانوائے آدھ گھنٹہ کے لیے رکتاتھا۔

وقت کے ساتھ مقابلے کا معاملہ تھا وگرنہ بارہا گلگت ہنزہ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل پر گیا ہوں ۔

02یہاں معاملہ پیچیدہ تھا۔ اگر دو ڈرائیور ہوں تو ممکن ہے لیکن ایک بندہ چالیس گھنٹے کی مسلسل ڈرائیو نہیں کر سکتا ہے ۔

دماغ میں جھکڑ چل رہے تھے۔ سیکڑوں دلائل حق میں اور سیکڑوں مخالف۔ پھر میں نے فیصلہ کیسے کیا؟

یہی سوچا اور ٹھنڈے دماغ سے سوچا کہ ماضی میں اچھے مثبت اور بڑے واقعات جذبے کے ساتھ جڑے ہیں ۔

میں نے ای میل کھولی اور اپنے باس کو اس طرح کی ایک درخواست لکھ بھیجی۔

”مستنصر حسین تارڑ راکا پوشی بیس کیمپ پہنچنے کا ارادہ لے کر نکلے ہیں۔ وہ اس وقت بشام میں ہیں۔ میں اگر ابھی اگلے چند گھنٹوں میں نکلوں تو ان کو دو دن بعد پکڑ سکتا ہوں۔ ہم کم از کم چھ قسطوں کا ایک پروگرام ریکارڈ کر سکتے ہیں ۔ یہ پروگرام اس لحاظ سے انوکھا ہو گا، کہ شمال میں تارڑ صاحب کو کسی ٹی وی کے ویڈیو کیمرے نے عکس بند نہیں کیا کیونکہ تارڑ صاحب شمالی مہم جوئی میں کیمرے کو مخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔ دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ تارڑ صاحب کی عمر 74 برس ہے ۔ مجھے 98 فیصد یقین ہے کہ وہ نہیں کر پائیں گے لیکن اس صورت میں بھی پروگرام کی اہمیت میں فرق نہیں آئے اور اگر انہوں نے کر لیا تو یہ باقاعدہ ایک تاریخ رقم کرنے کے مترادف ہو گا۔

مجھے کسی کیمرہ، کیمرہ مین ، دفتر کی گاڑی یا ٹیم وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ مجھے صرف چھٹی درکار ہے ۔میں اپنا کیمرہ لے کر جا سکتا ہوں ۔

آپ کے فوری جواب کا منتظر“

03فیصل سایانی اس وقت ہمارے ایگزیکٹو پروڈیوسر تھے۔ اور میں شکر گزار ہوں کہ صرف دس منٹ کے بعد ایک مختصر جواب آ گیا۔

Go ahead, take care

میں نے کمپیوٹر بند کیا اور لگاتار فون بازی شروع کر دی۔ ایف ڈبلیو او میں دوستوں کو کہا کہ کار آپ کے پاس ایک ہفتہ کے لیے کھڑی رہے گی۔

تارڑ صاحب کو فون کیا کہ سر میں آ رہا ہوں ۔ ان کو فوری اس لیے بھی بتانا ضروری تھا کہ تارڑ صاحب نے صبح سویرے بشام سے نکلنے کے بعد کوہستان کی عظیم چٹانی کائنات میں گم ہو جانا تھا جہاں موبائل سگنل نہیں پہنچ سکتے۔ تارڑ صاحب خوش ہوئے اور ساتھ تشویش بھی ظاہر کی کہ دیکھ لو یہ بہت مشکل ہو جائے گا ۔ میں نے کہا آپ بے فکر ہو جائیں اور کل جب تک آپ چلاس پہنچیں گے میں بشام پہنچ کر بس میں سوار ہو چکا ہوں گا۔

ایک فون بشام مڈ وے ہوٹل کے منیجر دوست رضوان کو کیا ۔ مڈ وے بشام پر کانوائے رکتا ہے اور تمام ڈرائیورز رضوان کو جانتے ہیں ۔

رضوان سے کہا کہ صبح نیٹکو میں سیٹ کنفرم کر لینا۔

گھر پہنچ کر ہنگامی انداز میں کچھ کپڑے ٹوتھ برش وغیرہ رکھا۔ گاڑی نکالی اور یہ جا وہ جا۔

شام چھ بجے موٹر وے پر تھا۔ گیارہ بجے برہان انٹر چینج سے نکلا اور حسن ابدال میں روح میں سرشاری پیدا کرنے والا نیلا بورڈ نظر آیا جس پر قراقرم ہائی وے لکھا ہوا تھا۔ گلگت ہنزہ وغیرہ کے نام چار زبانوں میں لکھے ہوتے ہیں ۔ انگریزی اردو روسی اور چائینیز۔ قراقرم ہائی وے پر ہر بڑے بورڈ پر یہ چار زبانیں نظر آتیں ہیں ۔

04ایبٹ آباد کی بارہ کلومیٹر شیطان کی آنت کی طرح لمبی اس سڑک پر ٹریفک کا رش کم ہو رہا تھا۔ مانسہر ہ پہنچنے تک مجھے گیارہ بج گئے۔

مانسہرہ ہمارے لیے ہمیشہ ایک اہم شہر رہا ہے ۔ اس کی اہمیت بھلے ناران کاغان کی وجہ سے پاکستان کے سب سے خوبصورت ضلع کی ہو۔ چاہے یہ اہم تاریخی شہر ہو۔ اشوکا کے کتبوں سے مان سنگھ تک اس کے اہم ہونے کی بہت سی وجوہات ہو سکتیں ہیں۔ لیکن ہمارے لیے مانسہرہ اس لیے زیادہ اہم رہا ہے کہ سفر شمال میں سفر کی ساری صعوبتیں یہاں تک ہی ہوتیں ہیں۔ مانسہرہ اور چھتر پلین سے نکلنے کے بعد گلیاں سنجی ہو جاتیں ہیں۔ کہیں طویل وقفوں بعد چھن چھن کرتے ٹرک ملتے ہیں۔

قراقرم ہائی وے ایک سڑک کا نہیں ایک عجائب گھر کا نام ہے ۔ دنیا کی ایک عجوبہ سڑک ہے ۔5000 قبل مسیح سے اب تک اس کی داستانیں جا بجا رقم ہیں ۔

یہ بہت سے جزیروں سے ہو کر گزرتی ہے اور ہر جزیرہ دوسرے جزیرے سے زبان ، ثقافت ، رہن سہن میں یکسر مختلف ہے۔

مانسہرہ اس عجوبہ شاہراہ کا پہلا جزیرہ ہے ۔

مانسہرہ میں پاکستان ہوٹل پہنچا تو تیس کے لگ بھگ بسیں اور کوسٹر ز کھڑیں تھیں۔ ابھی مزید بسیں اس قافلے کا حصہ بن رہیں تھیں۔ میں نے جلدی جلدی پاکستان ہوٹل سے کھانا کھایا کہ کہیں کانوائے چل ہی نہ دے۔ کھانے کے بعد ایک ڈرائیور سے گپ شپ ہوئی اور علم ہوا کہ کانوائے تو رات دو بجے چلے گا۔

میرے پاس دو صورتیں تھیں ۔ میں اکیلا ہی چل دوں کیونکہ پرائیویٹ کار یا ٹرکوں کے لیے کانوائے کی پابندی لازم نہیں…. دوسری صورت کہ انتظار کروں اور رات دو بجے کانوائے کے ساتھ ساتھ بشام پہنچوں۔

میں نے بارہا بہ امر مجبوری رات کو کوہستان میں بھی سفر کیا ہے لیکن گلگت بلتستان کی سیاحت میں ایک اصول ہمیشہ اپنائے رکھا، کہ کبھی غیر ضروری خطرہ نہیں مول لینا۔ ٹریکنگ میں بہت دفعہ ایسے مواقع آئے کہ خطرہ میری جمع تفریق سے باہر ہو گیا اور واپس آگیا۔ کئی دفعہ یہ خطرے بہ امر مجبوری آپ کو لینے پڑتے ہیں بالخصوص اگر کوئی دوست کسی جگہ پھنس جائے۔ لیکن مانسہرہ سے بشام تک مجھے اکیلا جانے میں صرف یہی فائدہ نظر آرہا تھا کہ بشام اس کانوائے سے دو گھنٹے پہلے پہنچ جاﺅں گا۔ دو گھنٹے آرام کے بعد اسی کانوائے کی کسی بس پر سوار ہو جاﺅں گا۔ اکیلے سفر کرنے میں شنکیاری تک کوئی مسئلہ نہیں لیکن شارکول کے بعد گھنے جنگلات شروع ہوتے ہیں اور رات کے اس پہر شاید کوئی کہیں ٹرک نظر آجائے تو آجائے ورنہ اندھیرے میں آپ اکیلے ہی ہوتے ہیں۔

میں نے انتظار کرنے کو ترجیح دی اور ٹہلنا شروع کر دیا ۔ گلگت بلتستان جانے والا کانوائے بہت دلچسپ ہوتا ہے۔ تیس چالیس بسوں میں مجموعی طور دو ہزار کے لگ بھگ نفوس مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کو ہنزہ والے جدید لباسوں اور فیشن میں باقی سواریوں سے جدا دکھائی دیتے ہیں۔

05سکردو کے بلتی خاندانوں کی چال ڈھال مختلف ہوتی ہے۔ چلاس اور دیامر کے خاندان سخت گیر روایات کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں۔

معتدل گلگتی ٹولیوں میں گھومتے معصوم بغروٹیوں کے لطیفے ایک دوسرے کو سناتے ہیں اور ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے ہیں۔

استوری سہمے بچے چلتے ہوئے بھی ماں کی قمیض نہیں چھوڑتے۔

اپر ہنزہ یا گوجال کے لوگ شاید اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے احساس کے سبب خاموش دکھائی دیتے ہیں

ان دو ہزار نفوس میں پانچ سو سے زائد سیاح ہوتے ہیں جن کے چہرے تمتا رہے ہوتے ہیں ۔

ان پر یہ احساس پوری طرح حاوی ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ ایک زبردست مہم جوئی کے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں۔

پرانے پاپیوں نے پاﺅں میں قینچی چپل پہنی ہو تی ہے۔ شارٹس اور بنیانیں یا ڈھیلی ڈھالی شرٹس پہن رکھیں ہوتیں ہیں۔

نئے مرغے مظلوم دکھائی دیتے ہیں۔ پاﺅں میں جوگرزپہن رکھے ہوتے ہیں۔دھوپ کے سیاہ چشمے رات کے وقت بھی ماتھے پر ٹکا رکھے ہوتے ہیں جیب میں نہیں رکھتے کہ سیاحتی شناخت متاثر نہ ہو، ٹراﺅزرز اور جیکٹس میں ملبوس یہ نہیں جانتے کہ یہ سفر مری یا ناران کاغان کا نہیں ہے۔ اگلے دن دوپہر تک ان کو معلوم ہی نہیں ہونا کہ وہ کمبخت سیاہ چشمہ کہاں گیاجو ماتھے کا لازمی جزو بنا ہوا تھا اور برسین کے بعد جوگرز پاﺅں سے جدا ہو جائیں گے ۔ جن کے پاس چپل ہوں گی وہ چپل پہنیں گے اور باقی ننگے پاﺅں پھرنے کو ترجیح دیں گے۔ جب شارٹس اور بنیانوں والے سخت گرمی میں آبشاروں کے نیچے نہائیں گے تو یہ جیکٹس اور رنگ برنگے ٹراﺅزرزان کو زہر لگیں گے۔

رات کے دو بجے انسانی ہاتھوں سے بنے ان کھلونوں یعنی بسوں نے قطار بنانا شروع کی ۔ خواہ مخواہ ہارن بجاناپرانے ڈرائیورز کا دل پسند مشغلہ ہوتا ہے۔ ان کا دل اس تشدد آمیز موسیقی سے خوش ہوتا ہے۔ پھر لگاتار ہارن بجانے کا مقصد یہ جانچنابھی ہوتا ہے کہ چالیس بسوں کے اکھٹے ہارن بجنے سے بھی میرے ہارن کی شناخت قائم رہتی ہے یا نرا طوطی ہے۔ رات کے دو بجے چالیس بسیں ہارن بجاتیں قیامت کا اعلان کرتی نظر آتی ہیں۔ مانسہرہ شہرکے باسی ان چالیس بسوں کے اکھٹے ہارن بجانے پر صرف ایک کمزور سی سستی بھری کروٹ بدلتے ہیں کہ یہ روز کا معمول ہے۔

میں سوچ رہا تھا کہ گاڑی کو کانوائے کے پیچھے رکھوں یا سب سے آگے۔ سب سے پیچھے ہونے میں قباحت یہ تھی کہ چار پانچ گھنٹوں کے لیے چالیس بسوں کے دھویں کا تاب لانے کے لیے میرے پھیپھڑے تیار نہیں تھے۔ کانوائے میں سب سے آگے پولیس کی گاڑی ہوتی ہے جسے پائلٹ بولتے ہیں اس کے پیچھے کانوائے ایک قطار میں چلتا ہے۔ میں نے پھرتی سے پائلٹ کے بالکل پیچھے کار کھڑی کر دی۔ پولیس نے اپنی گاڑی کا سائرن بجانا شروع کیا اور اس کی نیلی گھومتی بتی مجھے اور کار کے اندروں کو ہر ایک ثانیے بعد نیلو نیل کر نے لگی۔ میرے پیچھے چالیس بسیں صرف ہارن بجانے پر اکتفا نہیں کرتیں تھیں بلکہ ہر ڈرائیور ریس کو گھٹا بڑھا بھی رہا تھا۔

میرے بالکل پیچھے سلک روٹ کی بس تھی اس سے پیچھے مشہ بروم بھاں بھاں کر رہی تھی۔ مشہ بروم کی دم کے ساتھ نیٹکو کی تھوتھنی تھی۔

میں خوش تھا کہ پائلٹ کے پیچھے تھا۔ چار سے پانچ گھنٹے کا سفر سکون سے گزر جائے گا۔

میں خوش تھا اور احمق تھا…. مجھے نہیں معلوم تھا کہ سلک روٹ ، محافظ، کے ٹو ، مشہ بروم اور نیٹکو کی بسیں میری زندگی کے ساتھ کیسا کھیل کھیلنے کو بے تاب تھیں…. لیکن مانسہرہ میںانجان تھا…. خوش تھا!

(جاری ہے)

گزشتہ قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں 


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 61 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

6 thoughts on “مستنصر حسین تارڑ کے ساتھ ۔۔یاد گار سفر!

  • 10-03-2016 at 8:20 am
    Permalink

    آپ کا سفری حال پڑھ کر اس علاقے میں جانے کو جی چاہ رہا ہے.

  • 10-03-2016 at 4:13 pm
    Permalink

    واہ واہ واہ۔ بہت خوبصورت
    ہمیں تارڑ سے محبت ہے اور اب آپ سے ہونے لگ گئی۔ تحریر جتنے دنوں بعد اگلی قسط پکڑتی ہے، لگتا ہے کہ ہم سب بھی آپکی گاڑی کے پیچھے پیچھے ہیں کانوائے میں۔ سر گاڑی تھوڑا تیز چکائیں پلیز۔

  • 10-03-2016 at 6:52 pm
    Permalink

    ملک ساب کبھی میرے ساتھ چلنا بائیک پر ۔ پچھلے سارے ایڈونچر نہ بھول جائیں تو کہنا کہ اعوان نہیں ہو

  • 11-03-2016 at 7:42 am
    Permalink

    بہت دلچسپ اندازِ بیان۔ ابھی لطف آنا شروع ہوا تھا کہ آپ نے باقی آئندہ کا مژدہ سنا دیا۔ اب جلدی سے اگلی قسط لکھیے۔ میں آپ کی ولولہ انگیز تحریریں صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے پڑھتا ہوں۔ 🙂

  • 11-03-2016 at 1:52 pm
    Permalink

    بہت شکریہ عبدالرٗوف صاحب، رضا الحق صدیقی صاحب
    بہت شکریہ انعام رانا بھائی،
    بہت شکریہ جناب اعجاز اعوان صاحب
    بہت شکریہ استاد محترم نصیر صاحب۔

Comments are closed.