دوستو ئیفسکی کا پھانسی گھاٹ سے اپنے بھائی کے نام خط


یہ خط دوستو ئیفسکی نے22دسمبر1849ءکو اپنے بھائی میخائل کو اس دن لکھا تھا جب اسے سزائے موت ہوئی تھی۔

قلعہ پتیر اور پال
22دسمبر 1849

میخائیل میخائیلوچ دوستو ئیفسکی
بھائی، میرے انمول دوست!

سب طے ہو چکا ہے ! مجھے چار سال کی سزائے قید با مشقت سنائی گئی ہے(شاید اورن برگOrerburg قلعے میں)
آج ، 22دسمبر ہے، ہم سب کو Semionv Drill ground میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ہمیں کہا گیا کہ ہم صلیب کو چوم لیں اور ہمیں سفید کپڑے پہننے کو دیئے گئے۔ ہم میں سے تین کو سزائے موت کے لیے ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا میں ان میں سے چھٹے نمبر پر تھا۔ ایک وقت پر صرف تین کو سزائے موت کے لیے بلایا گیا اور میری دوسری نشت تھی اور میرے زندہ رہنے میں صرف کچھ لمحات ہی رہ گئے تھے۔بھائی! مجھے تم اور سب لوگ بہت یاد آئے۔ آخری وقت میں صرف تم، تم اکیلے، میرے ذہن میں تھے۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں!

میں پلینچیو(Plescheyer)اور دورہو(Duov)سے گلے مل چکا تھا جو میرے پاس کھڑے تھے اور الوداع بھی کہ چکا تھا۔ آخر کار ہمیں آواز آئی اور جو بندھے ہوئے تھے ان کو کھول دیا گیا اورحکم نامہ پڑھ کر سنایا گیا کہ بادشاہ سلامت نے ہمیں بخش دیا ہے۔ پام(Palm)کو معاف کر دیا گیا اور صرف اسی کو فوج میں ، صرف اسی کو اس کے پرانے مرتبے پر دوبارہ فائز کر دیا گیا ہے۔

پیارے بھائی! مجھے ابھی بتایا گیا ہے کہ آج یا کل ہمیں وانس بھیج دیا جائے گا اور میں نے ان سے التجا کی ہے کہ مجھے تم سے ملنے دیا جائے۔ لیکن مجھے کہا گیا کہ یہ ناممکن ہے اور میں صرف تمہیں خط ہی لکھ سکتا ہوں۔ جتنی جلد ممکن ہو جواب دینا۔

مجھے ڈر ہے کہ تمہیں میری سزائے موت کی خبر تو مل گئی ہو گی۔ قیدیوں کی گاڑی کی کھڑکی سے جب ہمیں سیمینوڈرل گراونڈ(Semionor drill ground) لایا گیا تو لوگوں کے تاثرات سے مجھے لگ رہا تھا کہ شاید خبر تم کو بھی پہنچ چکی ہے اور تم میرے لیے پریشان ہوئے ہو گے۔ اب میری طرف سے بے فکر رہو۔بھائی! ان سب واقعات سے میں نے دل نہیں ہارا اور نہ ہی میں ڈرا ہوں۔ زندگی تو ہر طرف زندگی ہی ہوتی ہے، زندگی ہمارے اندر ہے نہ وہ جو ہمارے باہر ہے۔ میرے اردگرد لوگ تھے لیکن لوگوں میں  مرد ہونا اور ہمیشہ مردانہ وار لڑنا اور کبھی ہمت نہ ہارنا چاہیے جتنی بھی رکاوٹیں مجھے گرانے کی کوشش کرتیں، یہی زندگی ہے اور یہی زندگی کا مقصد بھی۔ اور میں نے یہی محسوس کیا ہے۔ یہ خیال میرے تن بدن میں رچ بس گیا ہے اور یہ سچ ہے!

اس سوچنے والے سر کو جو تخلیقی عمل میں تھا ، جو بڑے ہنرسے زندگی جی رہا تھا ، جو روح کی اعلیٰ ضروریات کے ساتھ پروان چڑھ رہا تھا اسے میرے کندھوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔ اب یہاں صرف یادیں اور نقش باقی رہ گئے ہیں۔ جنھیں میں مٹا نہیں سکتا۔ یہ مجھے زخمی کر دیتی ہیں اور یہ سچ ہے!مائے کوو(Mai Kov’s)کو میری طرف سے الوداع ۔ انہیں بتانا کہ میں ان کی مستقل مزاجی اور مجھ پر بھروسہ کرنے کے لیے شکر گزار ہوں۔ میری طرف سے محبت بھرا خط یوگنیا پیڑونا(Eugenia Petorna) کو بھیج دیتا۔

میں امید کرتا ہوں کہ انہیں ڈھیر ساری خوشیاں نصیب ہوں۔ میں انہیں ہمیشہ بہت احترام کے ساتھ یاد رکھوں گا۔ نیکلائی اپولونوچ(Nikolay Appollonovich) اور اپولون مائکو(Apollon Maikov) کا شکر یہ ادا کرنا اور دوسرے دوستوں کا بھی، اور باقی سب کا بھی جو مجھے نہیں بھولے۔ ہمارے بھائی کولیا(Kolya)کے لیے پیار۔ ہمارے بھائی اندرے(Andrey) کو خط لکھ دینا اور میرے بارے میں بتا دینا۔ چچا اور چچی کو بھی میری طرف سے ، بہنوں کو بھی لکھنا، ان کے لیے ڈھیروں خوشیوں کی امید کرتا ہوں۔

بھائی ! شاید ہم کبھی مل سکیں، اپنا خیال رکھنا، جیتے رہو اور امید ہے ہم ضرور ملیں گے۔ امید ہے ہم ایک دوسرے کو گلے ملیں گے اور اپنی جوانی کے سنہرے وقت کو یاد کریں گے۔ ہمارے جوانی اور ہماری امیدیں جو بہت جلد گزر گئیں، میں خون کے آنسو روہا ہوں اور اُن یادوں کو دفن کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ میں کبھی قلم کو ہاتھ بھی نہ لگا سکوں؟
میں سمجھتا ہوں کہ چار سال بعد یہ ممکن ہو گا ۔ میں سب کچھ تمہیں بھیجوں گا جو میں لکھوں گا بشرطیکہ میں نے لکھا،

میرے خدا!
ہاں اگر مجھے لکھنے کی اجازت نہ ملی تو میں تباہ ہو جاوں گا۔
اس سے تو اچھا تھا کہ پندرہ سال کے لیے قید میں رکھتے لیکن میرے قلم کو مجھ سے نہ چھینتے۔

مجھے اکثر اور باربار تفصیل کے ساتھ لکھنا۔ ہر خط میں خاندان کی تفصیل لکھنا، بھول مت جانا یہ خط مجھے جینے کی امید دلاتے رہیں گے۔

لیکن یہ حقیقت ہے کہ میرے دل میں ابھی تک وہ خون اور گوشت موجود ہے جو محبت بھی کر سکتا ہے اور برداشت بھی، جو خواہش بھی کر سکتے ہے اور آخریہی زندگی ہے۔
فی الوقت خدا حافظ بھائی! میرے لیے فکر مند نہ ہونا۔

اب تمہیں کچھ اشیاءکے بارے میں بتاتا ہوں:

میری کتابیں (میری بائیبل جوکہ میرے پاس ابھی تک ہے) اور بہت سارے صفحات میرے مسودے کے ، میرے ڈرامے کے اور میرے ناول کا سر سری پلان، میری ختم شدہ(The child’s Tale) مجھ سے چھین لی گئی ہے،مجھے امید ہے کہ وہ تم ان سے لے لو گے۔ میں نے اپنا اوور کوٹ اور پرانے کپڑے بھی دے دئیے ہیں وہ دھوبی کو بھیج دینا۔

اب شاید مجھے لمبے سفر کی طرف گامزن ہونا ہے اور مجھے تم سے پیسوں کی ضرورت ہوگی۔ میرے پیارے بھائی! جب تمہیں یہ خط ملے گا اور اگر تمہارے پاس پیسے ہوں تو مہربانی کر کے مجھے سارے پیسے بھیج دینا۔
مجھے آج کل ہوا سے زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے (صرف ایک مخصوص کام کے لیے)۔

مجھے خط میں لکھ دینا اوراگر پیسے ماسکو سے آئیں تو مجھے یاد رکھنا۔میں مقروض ہوں، لیکن میں اور کیا کر سکتا ہوں؟

اپنے بچوں کو اور اپنی بیوی کو پیار کرنا۔ مجھے سب بہت یاد آتے ہیں اور امید ہے وہ مجھے بھولے نہیں ہوں گے۔ ہاں یقینا ہم ضرور ملیں گے۔ بھائی ! اپنا اور اپنے خاندان کا بہت خیال رکھنا۔ امید کرتا ہوں کہ تمہارے خاندان کو سکون کی زندگی ملے۔ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچو اور مثبت سوچ کے ساتھ جیو۔ اب میرے میں بہت تندرست اور انقلابی زندگی کام کر ہی ہے۔ کیا میرا جسم اس کو قبول کرے گا، مجھے پتہ نہیں۔ میرے بیماریاں مجھ سے دور جارہی ہیں۔

میں نے اتنی اذیتیں اپنی زندگی میں برداشت کر لیں ہیں کہ اب مجھے کوئی بھی ڈرانہیں سکتا۔ دیکھتے ہیں اب اور کیا آسکتا ہے۔

پہلے ہی فرصت میں، میں تمہیں اپنے بارے میں بتاوں گا۔ آخری دو ماہ کے دوران مجھے لکھنے سے اور خط موصول کرنے سے روک دیا گیا۔تمہیں شاید یقین نہ آئے کہ یہ خط کیسے میرا سہارا بنتے رہے، میرے لیے بہت مشکل وقت تھا۔ میں بیمار ہو گیا تھا۔ میں تمہارے لیے فکر مند ہو گیا تھا جب تم نے مجھے پیسے نہیں بھیجے تھے کہ تمہارے پاس اپنے لیے پیسے ہیں کہ نہیں؟

فرقان علی خان

میری طرف سے اپنے بچوں کو دوبارہ چومنا، ان کے معصوم چہرے نہیں بھولتے۔ آہ۔ وہ خوش ہوں گے! خوش رہو بھائی تم۔ خوش رہو!

خدا کے واسطے میرے لیے پریشان نہ ہونا۔ امید رکھو اور یاد رکھو۔ میں ٹوٹا نہیں ہوں، یہ امید رہی تھی جس نے ٹوٹنے نہیں دیا۔
ان چار برسوں میں میری قسمت بدلے گی، میں قیدی نہیں رہوں گا اور یاد رکھنا میں تم سے ضرور ملنے آوں گا۔
آج میں موت کے شکنجے میں تھا اور میں اپنے خیال میں جی چکا تھا، میں آخری سیڑھی پر تھا۔ دیکھو، میں اب زندہ ہوں!

میرے ساتھ اگر کسی کی بُری یادیں وابستہ ہیں ،اگر میں کسی سے لڑا جھگڑا ہوں، اگر میںنے کسی کے لیے ناخوش گوار لمحات پیدا کیے ہیں تو کہہ دینا کہ وہ سب بھو ل جائیں۔ میں کوئی داغ اپنی روح پر نہیں چاہتا ، میں اس موقع پر اپنے پرانے دوستوں کو اپنے ساتھ دیکھنا چاہتا ہوں۔

موت سے پہلے، جب میں نے اپنے پیاروں کو الوداع کہا تھا تو یہ تجربہ بہت سکون دہ تھا۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ سزائے موت کا سن کر تم پر کیا گزری ہو گی لیکن اب رنج نہ کرو، میں زندہ ہوں اور مستقبل میں بھی زندہ رہوں گا ان یادوں کے سہارے کہ میں تمہیں ملوں گا اور گلے سے لگا دوں گا اب صرف یہ میرے ذہن میں ہے۔

کیا کر رہے ہو؟ کیا سوچ رہے تھے آج تم؟ کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہاں کتنی ٹھنڈ تھی آج؟

کاش، اگر میرا خط تم تک جلدی پہنچ جائے وگرنہ میں چار ماہ تک تمہاری خیر خبر کے بغیر رہوں گا۔ خط پر پتہ تم تحریر کرتے تھے رقم بھیجتے وقت، اس سے مجھے تمہاری خیر وعافیت کا پتہ لگ جاتا تھا۔

ماضی کی طرف رخ پھیر کر دیکھتا ہوں تو بہت فضول وقت ضائع ہوا ہے بیشتر ایام غلطیوں، جہالت اور بیکار مشاغل میں گزرے ہیں۔ میں نے کئی بار ضمیر کے خلاف کام کیا ہے۔ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔

زندگی تحفہ ہے، زندگی خوشی ہے، اس کے ہر لمحے میں زمانوں کی خوشیاں بھری ہوئی ہیں۔ اب میں تبدیل ہو رہا ہوں، اب میں نئے سرے سے پیدا ہورہا ہوں۔

میں قسم کھاتا ہوں کہ میں جینے کی تمنا نہیں چھوڑ ونگا اور دل اور روح کو سنبھال کر رکھوں گا۔ یہ ہی میری ساری خواہش ہے اور میرا سکون بھی۔

قید نے مجھے پہلے ہی مار ڈالا ہے اور اب مجھے اپنے جسم کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں نے اپنی روح صاف کر لی ہے۔ اب ضروریات میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں اور کسی قسم کا ڈر نہیں ۔ اب یہ نہیں ہو سکتا کہ میں ان مشکلات سے مر جاوں۔

الوداع ، میرے بھائی! جب میں دوبارہ تمہیں لکھوں گا تو اپنے سفر کی تفصیلی روداد لکھوں گا۔ اگرمیں اپنی صحت کو سنبھال سکا، تب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

اچھا، الوداع ، بھائی! میں تم سے گلے ملنا اور تمہارا بوسہ لینا محسوس کر سکتا ہوں ۔
مجھے یاد رکھنا کسی خلش اور رنج کے بغیر، میرے لیے رنجیدہ نہ ہونا۔ اگلے خط میں تمہیں بتاوں گا کہ آگے کا کیا سوچا ہے۔

میں نے جو تمہیں بتایا ہے وہ یاد رکھنا، اپنی زندگی کے متعلق سوچو۔
اسے ضائع نہ کرو، اپنی منزل متعین کرو، اپنے بچوں کا سوچو۔
اب میں اداس ہوں کہ اپنے مجھ سے دور ہیں، دوری بہت دردناک ہوتی ہے۔
یہ بہت درد ناک ہے جیسے اپنے دل کو دو حصوں میں کرنا۔
الوداع! لیکن میں ضرور تمہیں ملنے آوں گا۔

بدل نہ جانا،مجھ سے دوستی برقرار رکھنا، بھولنا مت کہ تمہاری محبت میری زندگی کا سب سے بہتر حصہ ہے۔
الوداع ! الوداع!

تمہارا بھائی
فیودردوستو ٹیقسکی
(روسی زبان سے براہ راست اردو میں )
مترجم۔ ڈاکٹر فرقان علی خان


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔