ایک بہت ہی مختلف پروفائل کی حامی، حرا مانی


ایکٹنگ میں اینٹری:

سلسلہ کچھ ایسا ہوا کہ میرا بیٹا (مزمل) صرف چار یا پانچ ماہ کا تھا جب مجھے چاند رات کا شو  آفر ہوگیا۔ مومنہ بھابھی نے کہا آجاؤ، میں پیلا جوڑا پہن کے بیٹھ گئی، تین چار سوال کر لئے، مہمانوں کے ساتھ ٹھٹھے مار کر ہنس لی تو شو اچھا نکل گیا، ریٹننگ بھی آگئی۔ اب انہوں نے ہمیں برنچ شو پہ بلوا لیا، پھر اس زمانے میں ہم نے شو کیا تھا ‘ہم دو ہمارے دو’ – مزمل میرے ساتھ سیٹ پہ ہی ہوتا تھا اور میں شو میں بریک لیتی تھی اور اسے دیکھتی تھی۔ وہ شو کافی ہٹ ہوا اور کافی سکرپٹس مجھے آفر ہوئیں۔ مومنہ درید مجھے سکرپٹس دیتی تھیں اور میں گھر لاتی تھی سکرپٹس کو اور واپس کر دیتی تھی۔ بھابھی مجھ سے کہتی تھیں یہ تم کیا کرتی ہو! میں نے ان سے کہا مجھے ڈر لگتا ہے۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک میں مزمل کے بغیر کیسے رہوں گی؟ بس میں نہیں کر سکتی۔ اس زمانے میں میں نے بہت سارے سکرپٹس چھوڑ دئے۔ پھر جب بچے تھوڑے بڑے ہوئے، تو مانی نے مجھے کہا۔۔۔ اس کا کریڈٹ مانی کو جاتا ہے، اس نے کہا کہ اب تم کر سکتی ہو کچھ۔ پھر میں مومنہ بھابھی کے پاس گئی اور میں نے کہا مجھے کرنا ہے اب کام۔ بھابھی نے کہا سوچ لو۔ بھاگ تو نہیں جاؤ گی؟ میں نے کہا نہیں نہیں، اب میں پوری طرح تیار ہو کر آئی ہوں۔ پریت نہ کریو کوئی میرا پہلا بڑا پلے تھا۔ پھر سن یارا کیا۔ پھر یقین کا سفر کیا۔ پھر ابھی پگلی چل رہا ہے – جو لوگ پسند کر رہے ہیں۔

پریت نہ کریو کوئی:

A post shared by Hira Mani (@hiramaniofficial) on

میں پہلے سٹ کوم کیا کرتی تھی۔ اور لوگ کہتے تھے کہ حرا بہت اوور ہے، بہت اوور ایکٹنگ کرتی ہے۔ تو پریت کرنے کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگوں کو میرے اندر ایک تبدیلی نظر آئے۔

دراصل میں بہت زیادہ سیریس رہ نہیں سکتی، میری اپنی شخصیت بہت ہنسنے بولنے والی ہے۔ شاید اس وجہ سے میں ان بہت ساری لڑکیوں سے پیچھے ہوں۔ میں ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے انٹرویو نہیں دے سکتی۔ ایک بڑے مشہور ایکٹر ہیں انہوں نے مجھے کہا، دیکھو حرا اب تم شو میں جانا تو ذرا کم بولنا۔ میں نے کہا، اگر میں بہت سیریس ہوگئی تو میں میں نہیں رہوں گی۔

مرحلہ آزمائش:

مجھے نہیں لگتا کہ میں نے ابھی تک اپنے آپ کو ثابت کیا ہے بطور اداکار۔ اگر آپ عالیہ بھٹ کو دیکھیں اور جس لیول کا کام بولی وڈ میں ہوتا ہے – تو میں سوچتی ہوں کبھی کبھی کہ اگر اتنا بڑا گراونڈ مجھے ملتا تو شاید میں بھی چھکا مار دوں؟ بہت اچھی اچھی اداکارائیں ہیں، سجل ہیں اور صبا قمر ہیں، سجل کمال کی اداکارہ ہیں، یقین کا سفر میں میں ان کے ساتھ کام کر رہی ہوں، بہت سیکھنے کو ملتا ہے ان سے۔

اداکاری کا طریقہ کار:

جب پریت نہ کریو کوئی کا اسکرپٹ مجھے آفر ہوا تو اس میں مَیں نے پڑھا کہ 14 ویں قسط میں ہی میں بوڑھی ہو جاتی ہوں اور میرے بالوں میں سفیدی لگائی جا چکی ہوگی۔ کوئی بھی اداکارہ جو نیا نیا کام کر رہی ہو، وہ نہیں چاہتی کہ وہ اپنے پہلے ہی سیریل میں بوڑھی ہو جائے۔ میں نے اس بات کو ایک چیلنج سمجھا، کہ مجھے اس میں اس کردار کے 4 رنگ دکھانے ہیں۔ بہت کم عمر، پھر جواں، پھر تھوڑی عمر والی پھر بوڑھی۔ احتشام بہت کمال ہدایتکار ہیں۔ میری نند بھی تھیٹر ایکٹر ہیں۔ وہ احتشام بھائی کے تھیٹر کے گروپ میں تھیں اور ان سے بہت سیکھنے کو ملا۔ وہ ایک طریقہ کار بتاتے تھے جو کبھی میرے طریقہ کار سے مختلف ہوتا تھا، لیکن میں ان سے سیکھتی تھی اور لوگوں سراہتے تھے۔ میرے اپنے خاندان میں ہر انسان ایکٹر تھے۔ میرے سسسر ثاقب شیخ جو خدا کی بستی جیسے ڈرامے کرنے والے تھے۔ میری نند، میرے خاوند۔ سب اداکار تھے اور منجھے ہوئے اداکار تھے۔   میں نے جب ٹیلی ویژن پہ کام کرنا شروع  کیا تو میں بہت کم عمر تھی اور  میرے پاس بہت ایکسپوزر نہیں تھا۔ بس کالج گئی تھی اور پھر شادی ہوگئی اور پھر ہوسٹنگ شروع کر دی۔ وقت کے ساتھ چیزیں سیکھیں۔ میرے کم عمر ہونے کی وجہ سے لوگ سنجیدہ نہیں لیتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مجھے سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔

“مانی کی بیوی”

A post shared by Hira Mani (@hiramaniofficial) on

لوگ پرچی کہتے تھے۔ کہتے تھے کہ بس یہ تو مانی کی بیوی ہے۔ مانی ہی مجھ سے کہتا تھا کہ تم اکیلے ہوسٹ کرو، پلے کرو۔ جب تک تم انفرادی طور پہ مشہور نہیں ہوگی تم پہ یہی لیبل لگا رہے گا۔ اس لیے میں  نے اکیلے شو ہوسٹ کیا۔ لوگ کبھی کبھی بڑی بہن کا کردار دے دیا کرتے تھے کیونکہ میں ‘بیوی’ اور دو بچوں کی ماں ہوں۔ اس کے بعد جب میں نے سن یارا کیا تو میں نے ہیروئن والا  رول اپنایا۔

‘یقین کا سفر اور پگلی۔’

A post shared by Hira Mani (@hiramaniofficial) on

میں ہرگز جھوٹ بولوں گی۔ میں سچ بولوں گی۔ میرے دماغ میں مادھوری، سری دیوی، بالی وڈ – یہ سب بسے ہوئے ہیں۔ ٹی وی میرا ٹیچر ہے۔ میں نے اس سے بہت کچھ  سیکھا ہے اور مزید سیکھ رہی ہوں۔ لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کے دماغ میں ہندوستان یا بالی وڈ نہیں ہوتا۔ لیکن میں سچ بول رہی ہوں کہ میں نے جب یقین کا سفر کیا یا جب پگلی کا رول اپنے دماغ میں  بنایا تو اس میں مَیں نے اپنے حساب سے ایک خاکہ بنایا۔  جس میں کہیں میں بھی تھی اور مجھ پہ اثر انداز ہونے والے کردار بھی۔

“سوشل میڈیا اور اس کے اثرات۔”

لوگ شاید  acceptنہیں کرتے بہت ساری چیزیں۔ کہتے ہیں ‘دو بچوں  کی ماں ہے یہ!’ ایک دفعہ میں نے کمنٹ پڑھا، ‘سستی کرینہ!’ (قہقہہ) مجھے بہت ہنسی آئی۔ میں ویسے اگنور کرتی ہوں۔ یا ہنس دیتی ہوں۔ ایک دفعہ میں کسی مال میں تھی اور ایک خاتون میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں، ‘تم اپنے آپ کو اتنا حسین مت سمجھا کرو! میری بیٹیاں آئیں تو وہ بھی ہٹ ہو جائیں!’میں نے کہا نہیں نہیں آنٹی آپ کی بھی بیٹیاں بہت پیاری ہیں! تو کہنے لگیں ‘ہونہہ! بس زیادہ اوور نہ ہوا کرو تم!’ مجھے اصل زندگی میں یہ دیکھنے کو ملا۔ ہم بحیثیت قوم ذرا accept  نہیں کرتے چیزوں کو۔ امیتابھ بچن بھی چلتے جا رہے ہوں گے تو ہم انہیں بھی taunt  کر دیں گے، ”ابے اپنی وگ تو سیدھی کر لے!‘‘

کام اور زندگی:

A post shared by Hira Mani (@hiramaniofficial) on

میں کہتی ہوں اگر میں کل کو کام نہیں بھی کر رہی – تو بھی مجھے دکھ نہیں ہوگا کیونکہ گھر، میرے بچے، میرے خاوند، میری فیملی میرے لئےpriority  ہیں۔ آپ ہمیشہ ہیروئن تو نہیں آ سکتے ناں۔ لیکن اگر آپ real  ہوں گے تو لوگوں کو یاد رہیں  گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔