کشکول اٹھانے کا وقت پھر آ رہا ہے؟


ہلاکو خان جب بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے اپنے لشکر کو اس شہر کی فصیل کے گرد جمع کررہا تھاتو اس کے بازاروں اور محلوں میں مناظرے ہورہے تھے۔ ان دنوں کے ٹی وی شوز میں نظر آنے والے Talking Headsکی مانند اس دور میں چند ’’علمائے کرام‘‘ ہوا کرتے تھے جو انتہائی خشوع وخضوع سے ان مناظروں میں شریک ہوتے۔ وہاں طوطے کے حلال یا حرام ہونے جیسے اہم سوالات پر دھواں دھار بحث ہوتی۔ تماشائی انہیں بہت توجہ سے سنتے اور اپنے شہر میں علم وفضل کی فراوانی پر شاداں ہوئے گھروں کو لوٹ جاتے۔

یہ فیصلہ تو پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے کردیا ہے کہ نواز شریف وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے اہل نہیں رہے، کیونکہ صادق وامین نہیں ہیں۔ احتساب عدالتوں کے ذریعے اب ’’گاڈ فادر‘‘ اور اس کے ’’جرائم پیشہ‘‘ خاندان سے ’’قوم کی لوٹی ہوئی دولت‘‘ کا حساب لینا ہے۔ یہ حساب کتاب ہماری ٹی وی سکرینوں کو بہت رونق فراہم کررہا ہے۔

روزمرہّ زندگی کی اذیتوں سے تھک ہار کر ہمارے لوگوں کی اکثریت جب اپنے گھروں کو لوٹ کر ریموٹ کے بٹن دباتی ہے تو ٹی وی پر پاکستان کا کبھی تیسری بار منتخب ہوا وزیر اعظم ملزموں کی طرح پیش ہوتا نظر آتا ہے۔ ہمارے دلوں کو ٹھنڈ پڑجاتی ہے۔ چمکتی دمکتی گاڑیوں کے کاررواں کے ساتھ سفر کرتا نوازشریف عدالتی طاقت کے روبرو بے بس نظر آتا ہے۔ دل میں اُمید بر آتی ہے کہ شاید ایک دن ’’گاڈفادر‘‘ کے پاس موجود دولت کے انبار قومی خزانے میں لوٹ آئیں گے۔ ہماری مشکلات آسان ہوجائیں گی۔

احتساب کے اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے میں لیکن ابھی بہت وقت درکار ہے اور میرا دُکھ یہ ہے کہ اس انجام تک پہنچنے سے قبل ہی مجھے پاکستان کے معاشی نظام کا دھڑن تختہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ اس ضمن میں مجھ ایسے معاشی علم کے حوالے سے قطعی جاہل شخص پر اعتماد نہیں تو انٹرنیٹ کھولیں۔ انگریزی کے دو اخباروں ’’نیوز اور ڈان‘‘کے ادارتی صفحات پر منگل کی صبح دومضامین چھپے ہیں۔ انہیں پڑھ لیں۔

’’دی نیوز‘‘ میں چھپا ہوا مضمون ڈاکٹر وقار مسعود صاحب نے لکھا تھا۔ موصوف شوکت عزیز صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کے زمانے سے تقریباََ ہرحکومت کی معاشی پالیسی کی تشکیل اور اس کا اطلاق کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ چند ماہ قبل وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری کے طورپر ریٹائر ہوئے۔

’’ڈان‘‘ میں شائع ہوا مضمون ایک نہیں دو ماہرین نے مل کر لکھا تھا۔ان میں سے ایک ڈاکٹر حفیظ پاشا تھے۔ ان کی اہلیہ پنجاب کی وزیر خزانہ بھی ہیں۔پاشا صاحب بذاتِ خود معاشیات کے ایک جید اُستاد ہیں۔ کئی بین الاقوامی ادارے ان کی ذہانت سے رجوع کرتے ہیں۔ اپنی دوسری حکومت میں ایٹمی دھماکے کرنے کی وجہ سے پاکستان پر نازل ہوئی معاشی آفات کا مقابلہ کرنے کے لئے نواز شریف نے انہیں کابینہ کا رکن بھی بنایا تھا۔ ’’ڈان‘‘ کا مضمون لکھنے میں ان کا ساتھ شاہد کاردار صاحب نے دیا۔ وہ بھی ایک بڑا نام ہیں۔ آصف علی زرداری نے انہیں سٹیٹ بنک کا سربراہ بنایا تھا۔ چند ماہ اس عہدے پر کام کرنے کے بعد مگر استعفیٰ دے دیا کیونکہ کاردار صاحب اپنے کام میں مداخلت برداشت نہیں کرتے۔ معیشت کو ویسے ہی چلانا چاہتے ہیں جیسے کتابوں میں سمجھائی گئی ہے۔
دو مختلف اخبارات کے لئے لکھتے ہوئے ان تینوں ماہرین نے بہت فکر مندی کے ساتھ ہم لوگوں کو یاد دلانا چاہا ہے کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر بہت تیزی سے کم ہورہے ہیں۔ وجہ اس کی بنیادی یہ ہے کہ ہماری درآمدات کی مجموعی مالیت اس مجموعی آمدنی سے تقریباََ دوگنی ہوچکی ہے جو پاکستان دوسرے ممالک کو مختلف اشیاء بیچ کر کماتا ہے۔

درآمدات اور برآمدات کے مابین بڑھتے ہوئے فرق کی نشاندہی ہمارے اخبارات کے لئے معاشی شعبوں پر رپورٹ کرنے والے صحافی گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل کئے چلے جارہے ہیں۔ حکومتی مؤقف اس حوالے سے البتہ یہ رہا کہ وقتی طورپر پریشان کن سہی مگر حال ہی میں ہوئی درآمدات دوررس حوالوں سے پاکستان کی معیشت کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

ان درآمدات کی اکثریت کا تعلق اس مشینری سے ہے جو بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کے لئے ہم اپنے دوست ملک چین سے منگوارہے ہیں۔ اس مشینری کی تنصیب کی وجہ سے حاصل ہوئی بجلی کی فراوانی ہمارے ہاں ان صنعتوں کو فروغ دے گی جو غیر ملکی منڈیوں کے لئے سامان تیار کرتی ہیں۔ درآمدات پر نظر آنے والا ہوشرباخرچہ درحقیقت One Time Affair ہے۔ کوئی ایسا مکان بنانے پر ہوئے خرچے کی مانند جس کی تعمیر کے بعد آپ اس سے حاصل ہوئے کرائے سے زندگی بھر کے خرچے کا بندوبست کرتے ہیں۔

دو مختلف اخبارات کے لئے لکھنے والے تینوں معاشی ماہرین نے مذکورہ بالادلیل پر لیکن خاص توجہ نہیں دی۔ ان کی بنیادی فکر یہ ہے کہ ہمارا تجارتی خسارہ ہر ماہ تقریباََ ایک ارب جی ہاں ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔اگر یہ اوسط اسی سطح تک برقرار رہے تو بھی آئندہ 6ماہ بعد خسارہ 6ارب ڈالر ہوجائے گا۔ مارچ 2018ء تک پہنچتے ہمیں غیر ملکی قرضوں کو سود کی مد میں بھی کافی رقوم دینا ہوں گی۔ حکومت اپنا گزارہ چلانے کے لئے ملکی بینکوں سے بھی بے تحاشہ قرضے لئے چلی جارہی ہے۔ یہ قرض بھی اپنی جگہ ایک بھاری بوجھ ہے۔پاکستانی معیشت میں خوفناک حد تک بڑھتے ہوئے خسارے کو ذہن میں رکھتے ہوئے دو مختلف اخبارات کے لئے لکھنے والے تینوں ماہرین کو لہذا خدشہ ہے کہ مارچ 2018ء تک پہنچتے ہوئے ہماری حکومت کشکول اٹھائے ایک بار پھر IMFسے رقم کی بھیک مانگتی نظر آئے گی۔

مجھ ایسے معاشی علم کے اعتبار سے قطعی جاہل کو بھی پورا یقین ہے کہ پاکستان کو مارچ 2018ء میں IMF سے رحم کی بھیک مانگنا ہوگی۔ دو مختلف اخبارات کے لئے ایک ہی روزخوفزدہ کردینے والے مضامین لکھنے والے تینوں ماہرین مگر چاہتے ہیں کہ ہم IMF سے رجوع نہ کریں۔کیوں؟ اس سوال کا جواب وہ کھل کر بیان نہیں کرتے۔ یہ ’’کاربد‘‘ہم ایسے دو ٹکے کے صحافیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
بات بہت بنیادی اور عیاں ہے۔ پاکستان اپنی معیشت کو بچانے کے لئے IMF سے ایک بار پھربھیک مانگنے جائے گا تو وہ ’’عالمی ادارہ‘‘ آپ سے افغانستان اور بھارت کے حوالے سے وہی سب کچھ کرنے کو کہے گا جو حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی ’’افغان پالیسی‘‘ والی تقریر میں بیان کردیا ہے۔

ہم ٹرمپ کے حکم پر عمل کرنے کی بجائے دنیا سے Do More کا تقاضہ کررہے ہیں۔ یہ تقاضہ کرتے ہوئے IMF کے روبرو چلے جانا ہماری قومی حمیت اور غیرت کی توہین ہوگی۔اسی لئے ڈاکٹر وقار مسعود اور حفیظ پاشا صاحب جیسے ماہرین درحقیقت وہ نسخے تیار کرکے صلائے عام کے لئے بانٹ رہے ہیںجو پاکستان کو IMF کے روبرو سرجھکا کر پیش ہونے سے بچاسکیں۔ خدا کرے کہ ان کے نسخے واقعتا ہمارے کام آسکیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔