نواز شریف اور موجودہ صورتحال


آج میرے کالم کی باری ہے مگر میں غلطی سے صبح برادر سہیل وڑائچ کا کالم پڑھ بیٹھا جو’’شیر‘‘ اور ’’شکاریات‘‘ کے حوالے سے تھا۔ مجھے اپنے علامتی اور نیم علامتی کالموں پر بہت ناز تھا جو میں نے جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں لکھے، مگر آج سہیل وڑائچ کا کالم پڑھ کر میرے حوصلے پست ہوگئے مگر کالم تو بہرحال لکھنا ہے،سو لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔
پاکستان کے’’سابق‘‘ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے موجودہ ’’نظام عدل‘‘ کا سامنا کیا۔اس سے پہلے انہوں نے جمہوریت کو’’ڈی ریل‘‘ کرنے کے خواہشمند طبقے کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی نیت سے وہ مصالحتیں بھی کیں یا دوسرے لفظوں میں وہ قرض بھی ادا کئے جو واجب بھی نہیں تھے، مگر ان کے اس رویے کی قدر کرنے کی بجائے اسے ان کی کمزوری گردانتے ہوئے ان پر وہ طبقے اپنا دبائو بڑھاتے چلے گئے جن کو جمہوریت ایک آنکھ نہیں بھاتی۔

میں جانتا تھا کہ نواز شریف کو اگر دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش جاری رہی تو وہ نواز شریف چٹان کی طرح ان طبقوں کے سامنے کھڑا ہوجائے گا، جس نواز شریف کو میں جانتا ہوں، چنانچہ پرسوں نیب کے سامنے پیشی کے بعد نواز شریف نے سپریم کورٹ کے ان سارے فیصلوں کو آڑے ہاتھوں لیا جنہیں دنیا بھر کے قانون دانوں نے اور انٹرنیشنل میڈیا نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس وقت میاں نواز شریف کے پورے خاندان کو سپریم کورٹ ’’انصاف کے کٹہرے‘‘ میں لارہی ہے۔ میں سپریم کورٹ اور اس کے آنریبل ججوں کے حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتا اور نیب کے ذریعے مزید جو کچھ ہونے جارہا ہے چونکہ وہ بھی سب کے علم میں ہے اور خود میاں نواز شریف نے بھی یہ سب کچھ بیان کردیا ہے لہٰذا اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔

محترمہ بیگم کلثوم نواز لندن میں کینسر کے موذی مرض کے لئے زیر علاج ہیں اور میاں صاحب اس کے باوجود سارے تجزیہ نگاروں جن کا کبھی کوئی تجزیہ صحیح ثابت نہیں ہوا ، کیونکہ وہ تجزیے نہیں ان کی خواہشات ہوتی ہیں اور جو کہہ رہے تھے کہ میاں صاحب اب واپس نہیں آئیں گے، وہ واپس آئے اور اب ان کی قانونی مشاورتیں بھی جاری ہیں اور پارٹی رہنمائوں سے مشاورت بھی ہورہی ہے۔ اب وہ نواز شریف سامنے آئے گا جس نے ماضی میں ثابت کیا ہے کہ وہ اصولوں کی خاطر اڈیالہ جیل کی صعوبتیں، قید تنہائی، طویل جلا وطنی اور اس کے علاوہ وہ سب کچھ برداشت کرسکتا ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ وہ نواز شریف ہے جس کے سامنے پستول بردار دو حاضر سروس جرنیلوں نے ایک کاغذ پر دستخط کرنے اور اس کے بعد سب کچھ ’’ٹھیک ‘‘ ہونے کا وعدہ کیا تھا مگر اس کے جواب میں قیدی نواز شریف اور تازہ صورتحال کا احوال مجھے ان دو اشعار میں پوشیدہ نظر آتا ہے؎
ہری ہے شاخ تمنا ابھی جلی تو نہیں
جگر کی آگ دبی ہے مگر بجی تو نہیں
جفا کی تیغ سے مگر ان وفا شعاروں کی
کٹی ہے برسر بیداں مگر جھکی تو نہیں

چلیں یہ باتیں تو ہوگئیں، مگر میں اپنے آج کے کالم میں وہ سوال بیان کرنا چاہتا ہوں جو ایک عرصے سے میرے ذہن میں کلبلا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ادارے ہر حال میں قابل تکریم ہوتے ہیں یا ان کے فیصلے اور رویے انہیں مقدس بناتے ہیں اور یوں دلوں میں گھر کر لیتے ہیں یا ان کی تمام تر بدصورتی کے باوجود انہیں خوبصورت کہنا اور ماننا ہم سب پر واجب ہے؟ میرے خیال میں جس طرح ہر شخص کی عزت اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے، اسی طرح ادارے بھی اپنی عزت خود بناتے ہیں، اگر عدالتیں اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کرتی ہیں تو وہ ہمارے لئے قابل احترام ہیں اور اگر وہ جانبدارانہ فیصلے سنانے لگیں تو کیا پھر بھی کسی بھی ایسے ادارے کی تکریم ہم پر واجب ہے اور اسے ایک مقدس ادارے ہی کا نام دیا جائے گا۔ یہ سوال ذوالفقار علی بھٹو جسے کل اور آج بھی عدالتی قتل کہا جاتا ہے کے دورسے ذہنوں میں کلبلا رہا ہے اس کا جواب ضرور ملنا چاہئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔