احمد عمر شیخ کے ساتھ نماز کی ڈیوٹی پر مامور اہلکار کی وجہ سے دہشت گرد فرار


محکمۂ جیل کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی کی سینٹرل جیل میں قید امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کے مجرم احمد عمر شیخ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے ایک اے ایس آئی کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی، جس کی ’غفلت‘ کے باعث شدت پسند گروپ لشکر جھنگوی کے دو اہم رکن محمد احمد عرف منا اور شیخ محمد ممتاز عرف فرعون فرار ہو گئے۔

یہ دونوں قیدی سینٹرل جیل سے منسلک جوڈیشل کمپلیکس سے فرار ہوئے تھے۔ یہ انکشاف محکمۂ جیل کی محکمۂ جاتی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اے ایس آئی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سکیورٹی کے انچارج تھے، ان کی ذمہ داری تھی کہ عدالتوں کی کاز لسٹ کے مطابق قیدی پیش ہوں۔

ڈی آئی جی جیل خانہ جات پرویز چانڈیو نے رپورٹ میں تحریر کیا ہے کہ حیرت انگیز طور پر اے ایس آئی محمد فروش نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی ذمہ داری لگائی گئی تھی کہ وہ روزانہ دوپہر کو ظہر کی نماز ہائی پروفائیل دہشت گرد احمد عمر شیخ کے ساتھ ادا کریں گے، جس کی وجہ سے وہ روزانہ دو ڈھائی گھنٹے انتہائی حساس نوعیت کی ذمہ داری چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔

ڈی آئی جی پرویز چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا کہ احمد عمر شیخ نے جیل حکام کو کہا تھا کہ انھیں اپنے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے کوئی شخص دیا جائے، جس کے لیے احمد عمر شیخ نے خود ہی اے ایس آئی محمد فروش کا انتخاب کیا تھا۔

ڈی آئی جی کے مطابق ’اس روز بھی اے ایس آئی فروش، شیخ عمر کے ساتھ نماز ظہر کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے تھے اور جب واپس آئے تو قیدی بغیر کسی گنتی کے واپس جا چکے تھے۔‘

ڈی آئی جی پرویز چانڈیو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈیوٹی کے اہم اوقات میں غیر حاضری اے ایس آئی محمد فروش کے ملزمان کے فرار ہونے میں مدد کرنے کا شبہ پیدا کرتی ہے۔

ڈی آئی جی جیل خانہ جات پرویز چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت اے ایس آئی محمد فروش معطل اور گرفتار ہیں، انہوں نے اپنی رپورٹ میں فروش کی ملازمت سے برطرفی کی سفارش کی ہے۔

رواں سال جون میں سینٹرل جیل سے شدت پسند گروپ لشکر جھنگوی کے دو اہم رکن محمد احمد عرف منا اور شیخ محمد ممتاز عرف فرعون فرار ہوگئے تھے
ڈینئیل پرل کیس کے ایک اور ملزم شیخ عادل کو تین قیدی ملازمین کی خدمات حاصل رہیں، قیدی کاشف اور نقاش گذشتہ 2 سالوں سے شیخ عادل کے پاس مشقت کر رہے تھے، انھوں نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ وہ شیخ عادل کے لے لیے کھانا پکانے اور برتن دھونے کا کام کرتے تھے، جبکہ قیدی طاہر نے بتایا ہے کہ اُن کا کام کپڑے دھونا اور استری کے لیے لیکر جانا اور واپس لانا تھا۔

یاد رہے کہ امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا میں نمائندے ڈینیئل پرل 23 جنوری 2002 کو کراچی سے لاپتہ ہوگئے تھے۔ تقریباً ایک ماہ بعد پاکستانی حکام کو ایک ویڈیو موصول ہوئی تھی جس میں ڈینیئل پرل کی ہلاکت دکھائی گئی تھی۔ مئی میں کراچی میں ہی ایک قبر سے ایک سر بریدہ لاش برآمد ہوئی جو ڈی این اے رپوٹ کے مطابق ڈینئیل پرل کی تھی۔

بعدازاں کراچی کے آرٹلری میدان تھانے میں فہد نعیم، سید سلمان ثاقب، شیخ عادل، احمد عمر شیخ عرف مظفر فاروق کے خلاف اِغوا اور قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے احمد عمر شیخ کو سزائے موت جبکہ ان کے ساتھیوں فہد نسیم، سید سلمان ثاقب اور شیخ محمد عادل کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا کے خلاف ان کی اپیلیں التوا کا شکار ہیں۔

واضح رہے کہ جیل میں بی کلاس قیدیوں کو برداشتی (قیدی ملازم) فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔ ڈی آئی جی پرویز چانڈیو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دہشت گردوں اور سنیگن جرائم میں ملوث قیدیوں کو برداشتی ملازم فراہم کیے گئے تھے، اس کے علاوہ انھیں گیس کے چولہے، خشک راشن کے ساتھ نقد رقم رکھنے کی بھی اجازت دی گئی تھی۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مفرور ملزم محمد احمد عرف منا اور شیخ محمد ممتاز کو نقد رقم رکھنے کے علاوہ خشک راشن کی اجازت تھی، انھیں 26 برداشتی دیے گئے تھے جو ان کے لیے کھانا پکاتے، کپڑے اور برتن دھوتے اور یہ سہولیات سندھ جیلز رولز کے منافی تھیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 601 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp