نوجوان نسل ناقص تعلیم اور عسرت کا شکار – اقوام متحدہ کی رپورٹ


اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے ادارے یونیسکو کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے چھ بچے اور 20 برس سے کم عمر کے نوجوان سیکھنے کے عمل میں مہارت کی بنیادی سطح تک پہنچنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اس رپورٹ کے نتائج کو ‘حیرت انگیز’ قرار دیا ہے جو ‘سیکھنے کے بحران’ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

تعلیم کے لیے دی جانے والی بین الاقوامی امداد کی توجہ زیادہ تر خصوصاً افریقہ میں صحرائے صحارا کے زیریں علاقے کے غریب ممالک یا پھر شورش زدہ علاقوں میں سکولوں تک رسائی نہ ہونے پر رہی ہے۔

لیکن یونیسکو انسٹیٹیوٹ فار سٹیٹسٹکس کی تازہ تحقیق نے سکولوں میں دی جانے والی تعلیم کے معیار کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ سکول جانے والے 60 کروڑ سے زیادہ بچوں میں ریاضی اور مطالعے کی بنیادی مہارت نہیں ہے۔

تحقیق کے مطابق صحرائے صحارا کے زیریں علاقے میں 88 فیصد بچے اور نوجوان بالغ ہونے تک مطالعے میں بنیادی مہارت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور وسطی اور جنوبی ایشیا میں 81 فیصد افراد خواندگی کی مناسب سطح تک نہیں پہنچ پاتے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سماجی اور معاشی ترقی کے عزائم آبادی کو خواندہ بنائے اور شمار کیے بغیر پورے نہیں ہو پائیں گے۔

شمالی امریکہ اور یورپ میں صرف 14 فیصد جوان افراد اپنی تعلیم اس انتہائی نچلی سطح پر چھوڑتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سکول جانے والے صرف 10 فیصد بچے ایسے ترقی یافتہ خطوں میں رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سکولوں کے معیار اور تدریسی ضروریات کو بہت زیادہ جانچ پڑتال کی ضرورت ہے
یونیسکو انسٹیٹیوٹ آف سٹیٹسٹکس کی ڈائریکٹر سلویا مونٹویا کہتی ہیں ‘ان میں سے زیادہ تر بچے اپنی کمیونٹیز اور حکومت کی نظروں سے پوشیدہ یا کہیں الگ نہیں ہوتے بلکہ وہ کمرۂ جماعت میں بیٹھے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ ‘معیارِ تعلیم کی بہتری کے لیے اس پر کہیں زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت کے بارے میں ایک ویک اپ کال ہے۔’

‘سکولنگ ود آؤٹ لرننگ’ کا مسئلہ عالمی بینک نے بھی رواں ہفتے جاری کی جانے والی اپنی رپورٹ میں اٹھایا ہے۔

اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد ایسی تعلیم حاصل کر رہے تھے جو انھیں کم تنخواہوں والی اور غیر محفوظ نوکریوں کے جال میں پھنسا دیتی ہے۔

عالمی بینک کے صدر جم یونگ کِم نے رپورٹ کو متعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں ناکامیاں ‘اقتصادی اور اخلاقی بحران’ کی نشاندہی ہیں۔

تحقیق کاروں نے کینیا، تنزانیہ، یوگینڈا اور نکاراگوا کے طالبعلموں کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ وہ آسان جمع تفریق نہیں کر سکتے اور سادہ جملے بھی نہیں پڑھ سکتے۔

ان کے مطابق جاپان کے پرائمری سکولوں میں شاگردوں کی بنیادی مہارت 99 فیصد تک پہنچ گئی تھی لیکن مالی میں یہ شرح صرف سات فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق ممالک کے اندر بھی وسیع پیمانے پر خلیج موجود ہے۔ کیمرون میں پرائمری سکول کے اختتام پر صرف پانچ فیصد غریب لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھ پاتی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں امیر گھروں کی 76 فیصد لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھتی ہیں۔

ذمہ دار کون ہے؟
عالمی بینک کی تحقیق میں ان عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے جو ایسی خراب کارکرگی کا سبب ہیں۔
اس تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ غریب ممالک میں طالب علم ایسی حالت میں سکول آتے ہیں جس میں سیکھا نہیں جا سکتا۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ کئی طلبا خوراک کی کمی کا شکار اور بیمار ہوتے ہیں۔ محرومیاں اور ان کی گھریلو زندگی میں غربت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ انھوں نے جسمانی اور ذہنی نشوونما کے بغیر ہی سکول آنا شروع کر دیا ہے۔
تدریس کے معیار کے بارے میں بھی تحفظات ہیں کہ بہت سے ایسے اساتذہ بھی ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔
صحرائے صحارا کے زیریں علاقوں کے چند ممالک میں اساتذہ کا غیر حاضر رہنا بھی ایک مسئلہ تھا جو کہ اساتذہ کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے منسلک ہے۔

عالمی بینک کا کہناہے کہ غریب ممالک میں سکولوں کو مذید جانچنے کی زیادہ ضرورت ہے
عالمی بینک کے چیف اکنامسٹ پال رومر کا کہنا ہے کہ ایمانداری سے اعتراف کیا جا سکتا ہے کہ بہت سے بچوں کے سکول میں ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ قابل قدر انداز میں سیکھ بھی رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ تسلیم کیا جائے کہ ‘تعلیم کے بارے میں حقائق نے تکلیف دہ سچ سے پردہ اٹھایا ہے

رپورٹ میں معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے جانچ پڑتال کی کمی اور طلبا کی کامیابیوں کے بارے میں بنیادی معلومات کی عدم دستیابی کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا ہے۔

ایسے وقت میں جب مغربی ممالک میں بہت زیادہ جانچ پڑتال کے بارے میں بحث کی جا رہی ہے، عالمی بینک کہتا ہے کہ غریب ممالک میں ‘سیکھنے کے بارے میں پیمائش بہت کم ہے، بہت زیادہ نہیں’۔

گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں تعلیم پر خرچ کرنے کے بین الاقوامی سطح پر وعدے کیے گئے ہیں۔

فرانس کے صدر امینول میخواں کا کہنا تھا کہ ‘میں نے طے کرلیا ہے کہ تعلیم کو فرانس کی ترقی اور خارجہ پالیسی میں سب سے پہلی ترجیح رکھوں گا’۔

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم اور اقوام متحدہ کے تعلیم کے سفیر گورڈن براؤن کا کہنا ہے کہ وہ تعلیم پر عالمی شراکت داری چاہتے ہیں جو تعلیمی منصوبوں پر امداد کو سہل بنائے۔ اس کے لیے سنہ 2020 تک دو ارب ڈالر ہونے چاہییں۔

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ اس کے انسانی امداد کے بجٹ کا آٹھ فیصد تعلیم پر خرچ ہوگا۔

ایجوکیشن ابوو آل فاؤنڈیشن، یونیسیف اور دیگر فلاحی اداروں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ شام میں ایسے بچوں کی تعلیم پر اضافی چھ کروڑ ڈالر خرچ کریں گے جنھوں نے لڑائی کی وجہ سے سکول چھوڑ دیا ہے۔

گورڈن براون کا کہنا ہے کہ’ہمارے تعلیمی اہداف کے لیے فنڈنگ کرنا زیادہ بہتر ہے بہ نسبت ایک بچے کو ڈیسک پر بٹھانے کے، اس سے مواقع اور امید کے دروازے کھلیں گے’۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 590 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp