شاید میں آپ کو سمجھا نہ سکا


بارگاہ شہدائے کربلا کراچی کے بڑے امام باڑوں میں سے ایک ہے۔ یہ انچولی کی مسجد خیر العمل کے احاطے میں قائم ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 1985 میں جب ہم کراچی آئے تو یہ موجود نہیں تھا۔ مسجد کا ہال چھوٹا تھا۔ روضہ امام حسین کی شبیہہ بہت بعد میں بنی۔ آج وہ شبیہہ جس مقام پر ہے، اُس سال وہاں شامیانہ لگا کر محرم کی مجلسوں کا انتظام کیا گیا۔ آپ پرانا کیلنڈر دیکھ کر حیران ہوں گی کہ بتیس ساl پہلے محرم ستمبر کی انھیں تاریخوں میں آیا تھا۔ دس مجلسوں کے ہر عشرے کا کوئی موضوع ہوتا ہے۔ وہ عشرہ علامہ طالب جوہری نے پڑھا تھا اور موضوع گفتگو سورہ الفیل تھی۔

بعد میں شاندار امام باڑہ تعمیر کیا گیا اور میں نے وہاں عظیم اجتماعات دیکھے۔ علامہ عرفان حیدر عابدی اور علامہ طالب جوہری کی مجلسوں کو سننے کے لیے قریب اور دور سے ہزاروں عزادار آتے تھے۔

لوگ کہتے ہیں کہ بارگاہ ہوتی ہے، پھر امام بارگاہ کو مذکر کیوں پڑھا جاتا ہے۔ میں ٹھیک سے نہیں جانتا لیکن میرا خیال ہے کہ چونکہ امام باڑہ مذکر ہے اس لیے اس کی متبادل ترکیب کو بھی اسی طرح بولا جاتا ہے۔ اب لوگ امام باڑہ کہتے ہوئے شرماتے ہیں۔

میں کراچی آنے سے پہلے بھی علامہ طالب جوہری سے واقف تھا۔ وہ پی ٹی وی پر فہم القرآن کے عنوان سے تقاریر کرتے تھے۔ وہ برسوں نہیں، کئی عشروں تک کراچی میں محرم کی مجلسیں پڑھتے رہے۔ کبھی رضویہ، کبھی انچولی اور کبھی نشتر پارک۔ غالباَ چالیس سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ وہ عشرہ محرم نہیں پڑھ رہے۔ کچھ ان کی طبیعت خراب ہے اور کچھ ان کی اہلیہ کی۔

علامہ طالب جوہری حوزہ علمیہ نجف اشرف کے آیت اللہ العظمی علی سیستانی کے ہم جماعت رہے ہیں۔ ایک بار میں نے ان سے اس کی تصدیق چاہی۔ علامہ صاحب نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ دونوں آیت اللہ خوئی کے درس میں ایک ساتھ بیٹھے تھے لیکن جو میرا پہلا سال تھا، وہ سیستانی صاحب کا 17واں سال تھا۔

اسی بارے میں: ۔  صدر ایردوان کی حکمت

علامہ عرفان حیدر عابدی جب تک زندہ رہے، بارگاہ شہدائے کربلا میں محرم کے عشرے کی مجلسیں پڑھتے رہے۔ وہ شام کو زیب منبر ہوتے تھے اور مغرب کی اذان سے کچھ پہلے تقریر ختم کر دیتے۔ جملے سے جملہ پیدا کرتے اور دل گرماتے۔ ان کی مجلس میں بہت زیادہ نعرے لگتے تھے۔ ایک گھنٹے میں سے پندرہ بیس منٹ تو نعروں میں صرف ہوجاتے۔ لیکن لوگ مصائب سننے کے لیے بیٹھے رہتے۔ ان جیسے مصائب میں نے کم سنے ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ کلیجہ پھاڑ دیتے تھے۔ میں نے کئی بار دیکھا کہ وہ کربلا والوں کی مصیبتوں کو بیان کرتے کرتے خود ہی بے ہوش ہوگئے۔

علامہ عرفان حیدر عابدی 1998 میں ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان کی قبر شہدائے کربلا کے احاطے ہی میں بنائی گئی۔

جتنا میں نے علامہ ضمیر احتر نقوی کو سنا ہے، کسی کو نہیں سنا۔ غم حسین اپنی جگہ لیکن علامہ صاحب کو سننے کی ایک وجہ ان کی خطابت کا انداز بھی ہے۔ میر انیس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مرثیہ پڑھتے ہوئے اپنے چہرے کے تاثرات اور ہاتھوں کے اشارے سے آنکھوں کے سامنے جنگ کا نقشہ کھینچ دیتے تھے۔ علامہ صاحب اسی سلسلے کے آدمی ہیں۔ دیکھ کے حیرت ہوتی ہے کہ بدن میں جان نہیں لیکن آواز جوان ہے۔ کیا آواز ہے، کیا تلفظ ہے، کیا علم ہے، کیا حافظہ ہے، کیا جملے ہیں، کیا اشارے ہیں۔ اگر آپ کا میڈیا سے کچھ تعلق ہے تو علامہ ضمیر اختر کی مجلس میں آپ کے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔

اسی بارے میں: ۔  دست طلب میں گردِ طلب

علامہ ضمیر اختر کا کتب خانہ بہت بڑا ہے۔ آٹھ کمرے کتابوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ دنیا میں شاید ہے کسی کے پاس مرثیوں کا اتنا بڑا ذخیرہ ہو جتنا ان کے پاس ہے۔ وہ ہر سال ایک مجلس مرثیے کی پڑھتے ہیں۔ چہلم کے بعد ایک عشرہ مختار نامہ کے عنوان سے پڑھتے ہیں۔ رمضان کے تیس دن تفسیر قرآن پاک کے مجلسیں پڑھتے ہیں۔

کراچی میں بہت زیادہ مقبولیت رکھنے والے ایک اور ذاکر علامہ عبدالحکیم بوترابی تھے۔ ان کا تعلق حیدرآباد سے تھا لیکن ان کا ظہور عزیز آباد کے امام بارگاہ بوتراب سے ہوا۔ میں نے اس سال وہاں ہزاروں کا مجمع دیکھا۔ اس کے بعد علامہ صاحب نے کئی مقامات پر عشرے پڑھے اور ہر جگہ بہت بڑی تعداد میں عزادار انھیں سننے پہنچے۔

علما اور ذاکرین متکبر نہیں ہوتے لیکن انھیں اپنی علمی برتری کا بار بار احساس دلانا پڑتا ہے ورنہ عوام ان کی بات کو اہمیت نہیں دیتے۔ لیکن عبدالحکیم بوترابی عجیب شخصیت تھے۔ جب وہ کوئی نکتہ بیان کرتے اور داد کم ملتی تو یہ نہیں کہتے تھے کہ جاہلو، کم عقلو، گھامڑو، تمھاری سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آئی! اس کے بجائے وہ انتہائی عاجزی سے کہتے تھے، “شاید میں آپ کو سمجھا نہ سکا۔ ایک کوشش اور کرتا ہوں۔”

میں یونیورسٹی کے بچوں کو پڑھاتا ہوں اور لیکچر کے دوران کنفیوز چہرے دکھائی دیتے ہیں تو مجھے غصہ نہیں آتا۔ اس وقت عبدالحکیم بوترابی یاد آجاتے ہیں۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلتا ہے، “شاید میں آپ کو سمجھا نہ سکا۔ ایک کوشش اور کرتا ہوں۔”


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 80 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi