جنرل ایوب خان اور جسٹس منیر نے شکار کھیلا


محترم سہیل وڑائچ نے اپنے نیم علامتی کالم ’’شیر اور شکاری‘‘ میں شکار کے شوقین چند بڑوں کا ذکر کیا ہے۔ اس سلسلے کی ایک مثال ہماری طرف سے حاضر ہے۔ پاکستانی عدلیہ میں نظریہ ضرورت کے بانی مبانی چیف جسٹس فیڈرل کورٹ جسٹس منیر کو بھی شکار کا شوق تھا، موصوف بااثر شخصیات کے ساتھ تیتر کا شکار کھیلتے تھے۔ ان کے ایوب خان کے ساتھ شکار کھیلنے کے عینی شاہد، مختار مسعود بھی تھے، جنھوں نے اپنی کتاب’’ حرفِ شوق‘‘ میں لکھا ہے:

’’ شکار سوڈھی جے وال میں کھیلا گیا جو دامن کوہستان نمک میں واقع ہے. جشن کا سماں تھا، خوش گزرانی، دھوم دھام، شان و شوکت، تشریفاتِ سلطنتی، امتیازاتِ نظامی، نہ جانے تیتروں کو کیسے پتا چل گیا کہ مہمانان خصوصی میں سے ایک بری فوج کے سربراہ ہیں اور دوسرے عدلیہ کے رئیس۔ وہ غول در غول امیر خسرو کے مشہور شعر کی تفسیر بنے سربکف چلے آرہے تھے۔ بہ امید آں کہ روزے بشکار خواہی آمد۔ اس تقریب کے دو سال بعد ان دو مہربانوں نے چند اور شکاریوں کے ساتھ مل کر ملک کی آئین ساز اسمبلی اور اس کے جمہوری مستقبل کا شکار کھیلا۔ انھیں روکنے کی عملی کوشش سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر جارج کانسٹنٹائن اور فیڈرل کورٹ کے جسٹس کارنیلیس نے کی مگر بے سود۔‘‘

آئین سے کھلواڑ بعد میں بھی کئی بار ہوا لیکن جسٹس منیر کے پیرو جسٹس انوارالحق اور ارشاد حسن خان جیت گئے، جسٹس کانسٹنٹائن اور جسٹس کارنیلیس کی راہ چلنے والے ہار گئے۔ نظریہ ضرورت ہی ہمارا مقدر بن گیا۔ جنرل ایوب اور جسٹس منیر کی صورت میں دو دائمی اداروں کے جس گٹھ جوڑ کا آغاز ہوا، وہ بعد میں بھی بوقت ضرورت بروئے کار آتا رہا۔

اسی بارے میں: ۔  ملکی بدنامی سے بچنے کے لئے این جی اوز کو سدھارنے کا مشن

جسٹس منیر کو جمہوریت پسند ہی نہیں کوستے۔ ادب دوستوں کے نزدیک بھی وہ ناپسندیدہ شخص ہیں کہ انھوں نے منٹو صاحب پر فرد جرم عائد کی تھی۔ ماتحت عدالت کی سزا کو سیشن جج عنایت اللہ درانی نے بریت میں بدل دیا، پنجاب حکومت نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو منٹو صاحب پر فرد جرم لگ گئی جس کے بعد بقول مظفر علی سید’ یہ بات ناممکن ہو گئی کہ کوئی ماتحت عدالت منٹو کو کسی نئے مقدمہ میں بری کرنے کی جرات کر سکے۔‘

منٹو صاحب نے جسٹس منیر کے فیصلہ کے بارے میں مظفر علی سید سے کہا تھا:

’’ اس دن تم نے ہائی کورٹ کا فیصلہ پڑھا تھا، جسٹس منیر کی بازی گری کا نمونہ جب کہ سیشن جج عنایت اللہ درانی نے جو ایک ڈاڑھی والا دین دار شخص تھا، مجھے بری کر دیا تھا۔اس لئے کہ اسے اپنے ایمان پر اعتماد تھا کہ کوئی نہیں کہہ سکے گا انھوں نے فحاشی کی پشت پناہی کے لئے منٹو کو کھلا چھوڑ دیا۔ لیکن جسٹس منیر کو تم جانتے ہو، یہ اعتماد حاصل نہیں تھا اس لئے مجھے عمر بھر کے لئے ماخوذ کر دیا۔ اب میں ان سے کیسے پوچھوں کہ حضور، کیا لکھوں، کیا نہ لکھوں؟ عجیب مخمصے میں ڈال دیا اس یک رخے آدمی نے۔‘‘ منٹو کا بیان ختم ہوا جس پر مظفر علی سید نے یہ کہہ کر تبصرہ کیا کہ جسٹس منیر کے بارے میں منٹو صاحب کی بصیرت بہت تہہ دار تھی۔افسوس، جسٹس منیر کا سایہ اتنا گہرا ہے کہ چھ عشروں سے زائد وقت بیت جانے کے بعد بھی ہم نظریہ ضرورت کے کمبل سے پیچھا نہیں چھڑا سکے۔

اسی بارے میں: ۔  میں حقوق نسواں کا مخالف ہوں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔