مونا لیزا کے برہنہ سکیچ کی دریافت


فرانس میں فن مصوری کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ چارکول کی وہ ڈرائنگ، جو ایک آرٹ کلیکشن میوزیم میں 150 برس سے بھی زیادہ مدت سے رکھی ہوئی تھی، مونا لیزا کا ہی ایک سکیچ ہو سکتا ہے۔

مونا ونا کے نام سے معروف ایک برہنہ خاتون کے چارکول کے اس پورٹریٹ کے بارے میں اب تک یہی کہا جاتا رہا تھا کہ اس کا تعلق لیونارڈو ڈا ونچی کے سٹوڈیو سے ہے۔

لیکن اب ماہرین کو ایسے کافی اشارے ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ کہ شاید مصور لیونارڈو ڈا ونچی نے ہی مونا لیزا کی پینٹنگ بنانے سے پہلے یہ سکیچ بنایا ہوگا۔

پیرس میں لورؤ میوزیم میں ٹیسٹ کے بعد آرٹ کے تحفظ پر مامور ماہرین کا خیال ہے کہ اس سکیچ پر کم سے کم جزوی طور پر تو لیونارڈو نے کام کیا ہے۔

یہ ڈرائنگ 1862 سے پیرس کے شمال میں ایک میوزیم میں نشاۃ ثانیہ کے دور کے مصوری کے دیگر فن پاروں کے ساتھ ہی رکھی ہوئی تھی۔

کیوریٹر میٹیئو ڈیلڈک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ‘ڈرائنگ کی ایک کوالٹی یہ ہے کہ جس طریقے سے اس کا ہاتھ اور چہرہ بنایا گيا وہ غیر معمولی بات ہے۔’

لورؤ میوزیم میں ایسے فن پاروں کی حفاظت پر مامور اور اس کے ماہر برنو موٹن نے اس بات کی تصدیق کی ہے مذکورہ سکیچ 16 ویں صدی کے آغاز میں مصور لیونارڈو کے دور کا ہی ہے اور بہت اچھی کوالٹی کا ہے۔

شانٹلی سٹیٹ نے اس ڈرائنگ پر ہونے والے کام کی ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے۔

اس میں کہا گيا ہے کہ اس سکیچ اور مونا لیزا کی اصل پینٹنگ کے ہاتھوں اور جسم کی بناوٹ میں تقریبا یکسانیت ہے۔ دونوں ہی پورٹریٹ تقریباً ایک ہی سائز کے ہیں۔

اطالوی مصور لیونارڈو ڈا ونچی نے اٹلی کے نشاۃ ثانیہ کے دور کے ایک عظیم مصور تھے اور ان کی مونا لیزا کی شہرہ آفاق پینٹنگ ایک ایسا فن پارہ ہے جسے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کپڑے کے ایک کاروباری فرانسیسکو ڈی جیوکونڈو نے اپنی اہلیہ لیزا گریڈنی کا پورٹریٹ بنانے کے لیے ڈا ونچی سے کہا گیا تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4548 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp