اقوام متحدہ نے روہنگیا کا مسئلہ حکومت کے ساتھ اٹھانے سے روکا: بی بی سی رپورٹ


جونا فشر۔ بی بی سی نیوز، ینگون۔

اقوامِ متحدہ اور امدادی کارکنوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ میانمار میں اقوامِ متحدہ کی قیادت نے روہنگیا کے حقوق کے معاملات کو حکومت کے سامنے اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے ایک سابق عہدے دار نے کہا کہ میانمار میں اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے انسانی حقوق کے کارکنوں کو روہنگیا کے حساس علاقوں کا دورہ کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔
حالیہ مہینوں میں سرکاری فوج کی جانب سے آپریشن شروع کیے جانے کے بعد سے اب تک پانچ لاکھ کے قریب روہنگیا اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں، اور ان میں بہت سے اب بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہیں۔

میانمار میں اقوامِ متحدہ کے عملے کے بی بی سی کی ان تحقیقات کی سختی سے تردید کی ہے۔
جب سے روہنگیا نے بڑے پیمانے پر بنگلہ دیش کی طرف نقلِ مکانی شروع کی ہے، اس کے بعد سے اقوامِ متحدہ امدادی کارروائیوں میں پیش پیش رہی ہے۔ اس نے امدادی سامان فراہم کیا ہے اور برمی حکام کے خلاف سخت بیانات دیے ہیں۔
تاہم خود اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں اور میانمار کے اندر اور باہر موجود امدادی کارکنوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حالیہ بحران سے چار سال قبل میانمار میں اقوامِ متحدہ کی ملکی ٹیم کے کینیڈین سربراہ رینیٹا لوک ڈیسیڈیلین نے:

انسانی حقوق کے کارکنوں کو روہنگیا علاقوں کا دورہ کرنے سے روکنے کی کوشش کی
اس معاملے پر لوگوں کو آواز اٹھانے سے روکا
عملے کے ان ارکان کو الگ تھلگ کر دیا جنھوں نے خبردار کیا تھا کہ وہاں نسل کشی کی جا رہی ہے

ایک امدادی کارکن کیرولین وانڈینابیلے نے اس سے قبل بھی اس قسم کے خطرے کے نشانات دیکھے تھے۔ انھوں نے 1993 اور 94 میں روانڈا میں ہونے والی نسل کشی کے موقعے پر وہاں کام کیا تھا اور کہا کہ جب وہ میانمار آئیں تو انھیں یہاں بھی اسی قسم کی پریشان کن مماثلت دیکھیں۔

‘میں کچھ برمی تارکینِ وطن اور تجارتی برادری کے لوگوں سے رخائن ریاست اور روہنگیا کے بارے میں بات کر رہی تھی کہ ان میں سے ایک نے کہا ’ہمیں انھیں یوں قتل کر دینا چاہیے جیسے وہ کتے ہوں۔ ‘ میرے لیے انسانوں کے اندر اس قسم کا غیرانسانی رویہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ معاشرے کے اندر اس مقام تک پہنچ گئے ہیں جہاں اس قسم کی بات کو قبول کر لیا جاتا ہے۔ ‘
میں پچھلے ایک سال سے وانڈینابیلے سے رابطے میں ہوں۔ انھوں نے افغانستان، پاکستان، سری لنکا، روانڈا اور نیپال جیسے شورش زدہ علاقوں میں کام کر رکھا ہے۔
2013 اور 2015 میں انھوں نے میانمار کی ملکی اقوامِ متحدہ میں بطور ریزیڈنٹ رابطہ کار کام کیا۔ آج کل اس عہدے پر ڈیسالین فائز ہیں۔
اس عہدے پر تعیناتی سے انھیں اقوامِ متحدہ کی رخائن ریاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بغور مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔

2012 میں روہنگیا مسلمانوں اور بودھوں کے درمیان جھڑپوں میں ایک سو سے زیادہ افراد اور ایک لاکھ کے قریب روہنگیا بےگھر ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے وقتاً فوقتاً تشدد بھڑکتا رہا ہے، اور گذشتہ سال روہنگیا کے اندر جنگجو گروہ بھی بن گئے ہیں، جو بعض اوقات امدادی گاڑیوں پر بھی حملے کرتے ہیں۔
اس پیچیدہ صورتِ حال میں اقوامِ متحدہ کے عملے کو احساس تھا کہ روہنگیا کے انسانی حقوق کے معاملے پر آواز بلند کرنے سے بہت سے بودھ ناراض ہو جائیں گے۔
انھوں نے طویل مدت حکمتِ عملی اپنانے کا فیصلہ کیا اور رخائن میں تعمیر و ترقی پر توجہ مرکوز کر دی تاکہ اگر وہاں کے معاشی حالات بہتر ہو جائیں تو اس سے بودھوں اور روہنگیا کے درمیان کشیدگی کم ہو جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کے عملے کے لیے روہنگیا کے بارے میں کھلے عام بات کرنا تقریباً ممنوع ہو کر رہ گیا۔ رخائن کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی جاری کردہ پریس ریلیزوں میں روہنگیا کے لفظ سے مکمل گریز کیا جانے لگا۔ برمی حکومت روہنگیا کو الگ نسلی برادری تسلیم نہیں کرتی اور انھیں صرف ’بنگالی‘ کہتی ہے۔
میں نے جتنا عرصہ میانمار میں کام کیا، اقوامِ متحدہ کے عملے کے بہت کم اراکین روہنگیا کے بارے میں بات کرنے پر آمادہ ہوتے تھے۔ اب میانمار میں اقوامِ متحدہ کے اندرونی طریقۂ کار کی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ خود اس ادارے کے اندر بھی روہنگیا کے مسائل کو بالائے طاق رکھا جاتا رہا ہے۔
میانمار میں امدادی کارکنوں کی برادری کے متعدد اراکین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں روہنگیا کے حقوق کی پاسداری کے بارے میں برمی حکام سے بات کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔

وانڈینابیلے نے کہا کہ جلد ہی ہر کسی پر واضح ہو گیا کہ روہنگیا کے مسائل کے بارے میں بات کرنا، یا اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں نسل کشی کے بارے میں خبردار کرنا قابلِ قبول نہیں تھا۔
انھوں نے کہا: ’اگر آپ ایسا کرتے تو اس کے نتائج بھگتنا پڑتے تھے۔ اس کے بعد آپ کو اجلاسوں میں نہیں بلایا جاتا تھا اور آپ کو سفری دستاویزات جاری نہیں کی جاتی تھی۔ ہمارے عملے کو ان کے کاموں سے ہٹا دیا جاتا تھا اور انھیں اجلاسوں میں شرمندہ کیا جاتا تھا۔ ایسا ماحول بنایا گیا تھا جس میں ان مسائل پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ‘

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی امدادی رابطہ (یو این او سی ایچ اے) کے سربراہ نے بار بار ایسا کیا تو انھیں جان بوجھ کر اجلاسوں سے دور رکھا جانے لگا۔ وانڈینابیلے کہتی ہیں کہ انھیں کہا جاتا تھا کہ وہ اس وقت اجلاس رکھیں جب یو این او سی ایچ اے کے سربراہ کہیں اور گئے ہوئے ہوں۔
یو این او سی ایچ اے کے سربراہ نے بی بی سی سے بات کرنے سے انکار کر دیا، تاہم اس بات کی تائید میانمار میں اقوامِ متحدہ کے دوسرے کئی اہلکاروں نے کی ہے۔
وانڈینابیلے نے کہا کہ انھیں بھی مشکلات کھڑی کرنے والا سمجھا جاتا تھا اور انھیں روہنگیا کی نسل کشی کے امکان کے بارے میں بات کرنے کی پاداش میں اپنا کام کرنے سے روک دیا گیا۔
اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے جو اہلکار میانمار کا دورہ کرتے تھے انھیں بھی روہنگیا پر بات نہیں کرنے دی جاتی تھی۔ ٹامس کونٹانا اب شمالی کوریا میں انسانی حقوق کے نمائندہ خصوصی ہیں لیکن وہ 2014 تک میانمار میں اسی عہدے پر کام کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ ایک بار ینگون ہوائی اڈے پر ڈیسالین سے ملے۔ ’مجھے ان کی طرف سے یہ مشورہ ملا کہ آپ کو رخائن نہیں جانا چاہیے۔ پلیز وہاں مت جائیں۔ میں پوچھا کیوں؟ تو انھوں نے کوئی خاص جواب نہیں دیا، صرف یہی کہا کہ ہم حکام کے ساتھ کوئی پریشانی کھڑی کرنا نہیں چاہتے۔ ‘
اقوامِ متحدہ کے ایک اور سینیئر اہلکار نے کہا: ’حکومت جانتی ہے کہ ہمیں کیسے استعمال کیا جائے اور وہ ایسا کیے جا رہی ہے۔ ہم سبق نہیں سیکھتے۔ ہم ان کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہو سکتے، کیوں کہ ہم حکومت کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ ‘

اقوامِ متحدہ کو خود اس کا احساس تھا چنانچہ اس نے 2015 میں ایک رپورٹ کمیشن کی جس میں اقوامِ متحدہ کی رخائن میں ترجیحات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس کا عنوان تھا، ’پھسلواں ڈھلان، مظلوموں کی مدد یا استحصالی نظام کی مدد۔ ‘
یہ رپورٹ بی بی سی کو لیک ہو گئی ہے اور اس میں لکھا ہے: ’میانمار کی اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی حکمتِ علمی اس سادہ امید پر وابستہ ہے کہ تعمیری کاموں میں سرمایہ کاری سے کشیدگی کم ہو جائے گی۔ وہ یہ بات سمجھنے میں ناکام رہی کہ ایک متعصب ریاست کی جانب سے تعصبانہ نظام چلائے جانے سے تعصب میں اضافہ ہو گا نہ کہ کمی۔ ‘
اس طرح کی اور دستاویزات بھی اسی نتیجے پر پہنچی ہیں۔

اس رپورٹ کے کچھ ہفتوں بعد اقوامِ متحدہ نے تصدیق کی کہ ڈیسالین کو تبدیل کیا جا رہا ہے، لیکن یہ بھی کہا کہ اس کی وجہ ان کی کارکردگی نہیں ہے۔ تاہم اس کے تین ماہ بعد بھی وہ اپنے عہدے پر برقرار ہیں کیوں کہ برمی حکومت نے ان کے جانشین کا تقرر مسترد کر دیا ہے۔
ایک سابق سینیئر جنرل اور برمی رہنما آنگ سان سو چی کے قریبی ساتھی شوے مان نے مجھے بتایا: ’وہ متعصب نہیں بلکہ غیرجانبدار ہیں۔ جو کوئی بھی روہنگیا کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے وہ انھیں پسند نہیں کرتا اور ان پر تنقید کرتا ہے۔ ‘
ڈیسالین نے اس معاملے پر بی بی سی سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

برمی اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ ریزیڈنٹ رابطہ کار نے اندرونی بحث مباحثے کو روکنے کی کوشش کی۔ ‘
دس ملکوں کے سفیروں، بشمول امریکہ اور برطانیہ، نے بی بی سی کو بن مانگے ہی ای میلز لکھ کر ڈیسالین کی حمایت کی۔

کوینٹینا کہتے ہیں کہ کاش بین الاقوامی برادری میانمار میں مخلوط جمہوری حکومت کے حصے کے طور پر انصاف کے کسی قسم کے عبوری نظام کے لیے زور دینا چاہیے تھا۔
ذرائع کے مطابق اقوامِ متحدہ اب رخائن کے بارے میں ردِ عمل پر تفتیش کے لیے تیاری کر رہی ہے اور تفتیش ویسی ہی ہو سکتی ہے جیسی سری لنکا کی خانہ جنگی کے دوران ہوئی تھی۔ تب اقوامِ متحدہ کی کارروائیوں میں کئی خامیاں سامنے آئی تھیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 597 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp