روہنگیا کا کرب بے پایاں ہے


ساٹھ سے زائد روہنگیا میانمار سے پناہ کے لئے بنگلہ دیش جانے کی کوشش میں سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ 25 اگست کو شروع ہونے والی حالیہ تباہ کاری کے نتیجہ میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ روہنگیا مختلف راستوں سے بنگلہ دش پہنچے ہیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت انہی نہ تو اپنا شہری مانتی ہے اور نہ ہی انہیں پناہ دینے کے لئے تیار ہے۔ اس لئے بنگلہ دیش میں بھی یہ پناہ گزین بے بسی اور تباہ حالی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ بنگلہ دیشی حکام نے طے کیا ہے کہ میانمار سے آنے والے روہنگیا کو صرف اس علاقے میں محدود رہنا ہو گا جہاں انہیں کیمپوں میں رکھا گیا ہے اور وہ اس کے علاوہ نہ تو کہیں جا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ اس طرح انسانوں کی یہ کثیر تعداد جو ہر قسم کے ذریعہ آمدنی اور وسائل سے محروم ہے، عملی طور سے قید کی زندگی گزارنے پر مجبور کردی گئی ہے۔ میانمار اتنی کثیر تعداد میں انسانوں کو جبری ملک سے نکالنے کے بعد بھی یہ دعویٰ کررہا ہے کہ یہ لوگ اپنی مرضی سے گئے ہیں ۔ برما میں انہیں پورا تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔

بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا کو عالمی ادارے بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن کم وسائل ، دنیا کی عدم دلچسپی اور مقامی حکومتوں کی حائل کردہ مشکلات کی وجہ سے اقوام متحدہ سمیت سب ادارے خود کو لاچار سمجھنے لگے ہیں۔ اور اس صورت حال میں خوراک کے علاوہ ادویات کی فراہمی لوگوں کی تعداد کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ گویا ضرورت مندوں کوپناہ اور تحفظ فراہم کرنے کی بجائے ان کی صورت حال دراصل انہیں مزید بے یقینی اور کرب میں مبتلا کررہی ہے۔ بنگلہ دیش مسلسل میانمار سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ حالات کو بہتر کرے اور روہنگیا کو واپس اپنے گھروں میں جاکر آباد ہونے کی سہولت فراہم کرے۔ لیکن سوال پیدا ہو تا ہے کہ کون سے گھر اور کیسی آبادکاری۔ جو ملک اپنی فوج اور پالتو مذہبی گروہوں کے ذریعے پورے پورے علاقے کے دیہات کو نذر آتش ، فصلوں کو تباہ اور انسانوں کو ہلاک کرکے ان لوگوں کو اپنے ملک سے نکالنے کی سعی کررہا ہے ، وہ کسی عالمی دباؤ اور سیاسی خواہش کے بغیر کیوں کر بے خانماں لوگوں کو واپس میانمار آکر آباد ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔

میانمار روہنگیا کو بنگلہ دیش کا شہری کہتا ہے۔ روہنگیا خود کو ارکان کا شہری سمجھتے ہیں اور صدیوں سے اس علاقے میں آباد ہیں۔ اراکان کو 1826 میں برما کے برطانوی حکمرانوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ 1948 میں برما نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی تو اراکان بھی برما میں شامل ہو گیا جسے اب صوبہ راکھین کا نام دیاگیا ہے۔ملک کی اکثریتی بودھ آبادی روہنگیا کو ان کے مسلمان عقیدہ کی وجہ سے ہمیشہ سے ناپسند کرتی رہی ہے لیکن راکھین کے علاقے میں قدرتی گیس کی دریافت اور چین کی اس علاقے میں دلچسپی اور سرمایہ کاری کی پیشکش کے بعد منظم طریقے سے راکھین کو مسلمان روہنگیا سے پاک کرنے کے منصوبہ پر عمل ہو رہا ہے۔ 25 اگست کو مقامی عسکری گروہ نے بعض فوجی چوکیوں پر حملہ کیا تھا ۔ اے بنیاد بنا کر میانمار کی فوج نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران زیادہ سے زیادہ روہنگیا کو ملک سے باہر دھکیلنے کے لئے دہشت ناک ظلم و ستم کا مظاہرہ کیا ہے۔ فوج کی نگرانی میں بودھ عسکری گروہ منظم کئے گئے ہیں جو مسلمانوں کے دیہات پر حملہ کرتے ہیں، املاک کو آگ لگا کر لوگوں کو ہلاک کرتے ہوئے گھروں سے بھاگنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اس ظلم کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والوں کی درست تعداد کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے کیوں کہ میانمار کے حکام صحافیوں کے علاوہ عالمی اداروں کو بھی اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ دو روز پہلے رنگون کی حکومت نے اقوام متحدہ کے ایک وفد کو راکھین جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ یہ گروپ حالات کا جائزہ لے کر سلامتی کونسل کو رپورٹ پیش کرنے والا تھا جو اگلے ہفتے روہنگیا کے سوال پر غور کرے گی۔ اس دوران میانمار کی فوج کے علاوہ ملک کی نوبل امن انعام یافتہ لیڈر آنگ سان سوچی نے اس تباہ کاری اور انسان دشمنی کی کوئی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ وہ بڑی ڈھٹائی سے یہ دعویٰ کرتے ہیں برمی فوج ان علاقوں میں دہشت گردوں سے جنگ کررہی ہے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ لیکن وہ اس سوال کا جواب دینے کے لئے تیار نہیں کہ پھر غریب اور مجبور روہنگیا کیوں اپنے گھروں کو چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ زید رعد الحسین نے اس صورت حال کو نسل کشی کی کتابی مثال قرار دیاہے۔ برطانیہ کے وزیر برائے ایشیا مارک فیلڈ نے گزشتہ ہفتہ کے دوران میانمار اور راکھین کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ جو حالات انہوں نے دیکھے ہیں ، وہ ناقابل قبول سانحہ ہے۔ یہ صورت حال جاری نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے برما کی لیڈر آنگ سان سوچی کو متنبہ کیا کہ اگر حالات کو بہتر نہ بنایا گیا اور اگر ملک سے نکالے گئے روہنگیا کی واپسی اور آباد کاری کے لئے اقدام نہ کئے گئے تو میانمار میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والی ترقی اور تبدیلی کے لئے ہونے والی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ تاہم کسی بڑے عالمی دباؤ کی عدم موجودگی میں برما کے حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ بالآخر روہنگیا کو ملک بدر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وہ فی لوقت اپنی کوششوں میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 672 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali