شہادت کی تمنا اور بوڑھے ماں باپ


شہادت ہے مطلوب مقصودِ مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

شہادت اللہ کی راہ میں جان دینا، حق کی خاطر جان کی پرواہ نہ کرنا، شہادت کا درجہ پانے والوں کا رتبہ بہت بڑا ہے۔  شہید زندہ ہیں وہ کبھی نہیں مرتے، شہادت کی تمنا کرنے والے بڑے بہادر اور جی دار ہوتے ہیں۔  ملک کی حفاظت اور بقا کی خاطر ہمارے ہزاروں جوان شہید ہو رہے ہیں۔  ہمارا ملک دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑرہا ہے اس میں پچھلے دنوں پاکستان کی شمال مغربی سرحدی علاقے راج گال میں پاک فوج کے لیفٹینٹ ارسلان، سرحد پارافغانستان کے علاقے سے حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی گولی کا نشانہ بنے اور شہادت کے درجے پہ فائز ہوئے۔  وہ تین بہنوں کے اکلوتے بھائی اور ماں باپ کا ایک ہی سہارا، زندگی کی بائیس بہاریں دیکھ کر وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔

 اس دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے کتنے نوجوان شہید ہوں گے کب یہ جنگ ختم ہوگی، اسی طرح نوجوان اپنی جان وطن پہ نچھاور کیے جارہے ہیں اور ہم ایک سا بیان پڑھ پڑھ کر سوچتے ہیں کیا یہ نئی خبر ہے یا وہی خبر دہرائی جارہی ہے، سب سے زیادہ تکلیف دہ وہ چیز ہوتی ہے جب شہید کا بوڑھا کمزور باپ، یا حسرت زدہ چہرہ لیے ماں ٹی وی کیمرے کے سامنے کہتے ہیں کہ  ”ہمارے  بیٹے کو شہادت کی تمنّا تھی اللہ نے اس کی بچپن کی خواہش پوری کی“، یہ ٹھیک ہے شہادت کا رتبہ سب سے بڑا رتبہ ہے، نصیب والوں کو شہادت کی موت ملتی ہے لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ دکھے دلوں کو اس طرح ٹی وی پر دکھانا اور ان کے بیانات سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔  ہم بہت بہادر سہی لیکن اولاد کا غم انسان کی کمر توڑ دیتا ہے وہ اس وقت ٹی وی کیمرے کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتے، بیان لینے والا اتنا تو کر سکتا ہے کہ اس طرح کے لگے بندھے سوال نہ پوچھیں، ان کے دل اندر سے زخمی ہوتے ہیں اور ان سے اس طرح کے بیان دلوانا انسانیت نہیں۔  ہر صاحب دل کا دل کانپ اٹھتا جب وہ لرزتے لبوں اور کانپتی آواز میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے میرے بیٹے کی شہادت کا شوق پورا کیا، میرے بیٹے کو شہادت کاجذبہ اور شوق تھا وہ نہایت بہادر اور دلیر تھا۔  اس وقت آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور یہ نغمہ کانوں میں گونجنے لگتا ہے۔

 ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے
کی کبھی ایں وچ بازار کڑے
ایہہ دین ہے میرے داتا دی
نہ ایویں ٹکراں مار کڑے
ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے

دہشت گردی کی اس جنگ میں ہم اپنے جوان کب تک شہید کرواتے رہیں گے کب تک یہ دہشت گردی ختم ہوگی، کب تک یہ جنگ ختم ہوگی۔  مائیں کس طرح اپنے لاڈلوں کو محنت سے پالتی ہیں اور بہادری سے وطن کی حفاظت اور دہشت گردی کی جنگ لڑنے کے لیے موت کے حوالے کردیتی ہیں۔  اس طرح کے انٹرویوز لینے کے بجائے ان کی زندگی پہ ڈاکیومنٹری بنائیں تاکہ نئی نسل کو پتہ چل سکے کہ وطن کی حفاظت کرنے کے لیے جان قربان کرنے والے عام لوگ نہیں بلکہ خاص لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ پاک نے اپنے وطن کی خاطر جانثار کرنے کا جذبہ عطا کیا ہے۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سب کوع مل کر کام کرنا ہوگا، ہمیں اپنے اندر موجود دہشت گردوں کی نشاندہی کرنی ہوگی تاکہ ان کوع ختم کیا جاسکے۔  ہم پاکستان کی بقا چاہتے ہیں تو صرف پاکستان کا مفاد دیکھنا ہوگا، پاکستان کی بقا کا سوچنا ہوگا۔  ہمارے سیاستدان، قانون دان،  تاجر، اساتذہ، عوام اپنی آپس کی لڑائیاں ختم کرکے اپنے ملک کے مفاد کا سوچیں، یہ ملک ہے تو ان کے تمام عیش وآرام ہیں۔ ہماری عزت اور وقار پاکستان کے نام سے ہے۔  دہشت گردی کے خلاف سب مل کر پاک فوج کا ساتھ دیں اور دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملا دیں۔ آئیں عہد کریں کہ ہمیں اپنے شہیدوں کے خون کی قسم ہم اس پاک سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کردیں گے۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔