کوک فریدا کوک


صدیوں پہلے پاکپتن اجودھن ہوا کرتا تھا۔ تیرہویں صدی میں صوفی بزرگ بابا فریدالدین گنج شکر اجودھن آئے تو اسی کو اپنا مسکن بنا لیا۔ ستلج کنارے آباد اس بستی پہ بابا فرید کا ایسا رنگ چڑھا کہ اس نے اجودھن نام کی پرانی اوڑھنی اتار پھینکی اور ’پاک پتن‘ نام کا چولا پہن لیا۔ تب سے اب تک اس چھوٹے شہر کی بڑی پہچان یہی ہے کہ یہاں سلسلہ چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگ بابا فریدالدین کا آستانہ ہے۔ ملک کے طول و عرض سے ہزارہا زائرین پورا سال پاک پتن درگاہ بابا فرید گنج شکر پہ حاضری دینے آتے رہتے ہیں۔ ہر سال پچیس ذوالحج سے دس محرم تک آپ کے عرس کی تقریبات پاک پتن میں منائی جاتی ہیں۔ پانچ سے دس محرم عرس اپنے عروج پہ ہوتا ہے۔ انڈین پنجاب کے شہر فرید کوٹ میں بھی بابا فرید کی یاد میں ہر سال ستمبر کے تیسرے ہفتے عرس منایا جاتا ہے۔ ہندو، سکھ اور مسلمان ٹلہ بابا فرید جی پہ آتے ہیں، دیے جلاتے ہیں اور منتیں مانگتے ہیں۔ پہلے وہ شہر بھی موکلہار کہلاتا تھا۔ بابا فرید الدین وہاں کچھ دن ٹھہرے تو وہ شہر ’فرید کوٹ‘ ہو گیا۔

پاک پتن میں بابا فرید گنج شکر کا سات سو پچھترواں عرس منایا جا رہا ہے۔ نہ جانے کہاں کہاں سے زائرین امڈ آئے ہیں۔ شہر کی گلیوں، سڑکوں اور حویلیوں میں آدم ہی آدم دکھائی پڑتا ہے۔ پاک پتن پہلے سا شہر نہیں رہا گویا بھیس بدل لیا ہو اور اصل چہرہ چھپا لیا ہو۔ گاڑیوں کا رش، شور مچاتے انجن، دھوئیں کے بادل اور ہارن کی پیں پیں پاں پاں۔ ریلوے لائن کے ساتھ، سڑکوں کے کنارے اور خالی جگہوں پہ گاڑیاں ہی گاڑیاں ہیں۔ ہم پاکپتن والوں نے بھی خالی جگہوں کو پارکنگ لاٹ بنا دیا ہے۔ پیسے وصولتے ہیں تب گاڑی کھڑی کرنے دیتے ہیں۔ دوسرے شہروں سے آئے زائرین نے مکان کرائے پہ لے لیے ہیں۔ ہم عرس کے دنوں میں کرائے بڑھا دیتے ہیں۔ چند دن کا کرایہ ہزاروں روپے بنا لیتے ہیں۔ جگہ جگہ ٹریفک بلاک ہو جاتی ہے۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار وسل بجاتے رہتے ہیں۔ خوب رونق ہے۔ جا بجا دیگیں پک رہی ہیں۔ لنگر تقسیم ہو رہا ہے۔ حویلیوں، ڈیروں اور خانقاہوں میں قوالی کی محفلیں سجی ہیں۔ ہر قوال کو سامعین میسر ہیں جو قوالوں پہ نوٹ نچھاور کرتے ہیں۔ نوٹ اڑتے ہیں تو فنکاروں کے رگ و پے میں جوش بھر جاتا ہے۔ طبلے کی تھاپ، ہارمونیم سے نکلتے سر، ہمنواؤں کی تالیاں، آنکھ موندے جھومتے سامعین اور دھمال ڈالتے ملنگ۔ محفل سما پہ جوبن آیا ہے۔ کہتے ہیں کہ عالمی شہرت یافتہ فن قوالی کے بیج پاک پتن درگاہ بابا فریدالدین پہ پروان چڑھے۔ پاکپتن نے کئی نامور قوال گھرانے پیدا کیے۔ نصرت فتح علی خان، بدر میانداد، صابری برادران سمیت قوالی کے بڑے نام پاک پتن کو اپنی روحانی درسگاہ مانتے اور یہاں پرفارم کرنا سعادت گردانتے۔

عرس شروع ہوتے ہی شہر میں کاروبار انگڑائی لے کے اٹھ بیٹھتا ہے اور کاروباری لوگ یوں جاگ جاتے ہیں کہ دن رات سوتے ہی نہیں۔ جگہ جگہ نئے اسٹالز اگ آتے ہیں۔ دکانیں برقی قمقموں سے سجائی جاتی ہیں۔ ہر سو چائے کے کھوکھے کھلے ہیں۔ برفی، چم چم، توشہ اور گلاب جامن کی ریڑھیاں لگی ہوئی ہیں۔ دہی بھلے، برگر، آلو چاٹ، سموسے پکوڑے، مکئی کے بھٹے، دال چاول، لڈو پیٹھیاں غرض کہ سب کھانے کو دستیاب ہے۔ بے روزگار نوجوانوں نے عرس کے دنوں مکھانے اور شکر کی ریڑھیاں لگا لی ہیں۔ ہوٹل اور ریستوران سب آباد ہو چکے ہیں۔ شام ہوتے ہی جو بازار اونگھنے لگتے تھے اب رات بھر جاگتے رہتے ہیں۔
اٹھ فریدا ستیا جھاڑو دے مسیت
توں ستا رب جاگدا، تیری ڈاہڈے نال پریت (بابا فرید)

ڈھولچی گلیوں بازاروں میں ڈھول بجاتے پھرتے ہیں۔ زائرین جماعتوں کی شکل نذرانہ چڑھانے دربار کی طرف رواں ہیں۔ سرخ، سبز اور نیلے پیلے چولے پہنے ملنگ دھمالیں ڈالتے ہیں۔ لمبے بکھرے بال، ننگے پاؤں، الجھی داڑھیاں، انگلیوں میں رنگ برنگے نگوں کی انگوٹھیاں پہنے، شوخ رنگ کے کپڑے سے کمر کسے، عقاب پروں سے ہاتھ پھیلائے یہ خرقہ پوش ناچتے ہیں۔ یہ کسی اور دنیا کے واسی دکھتے ہیں۔
کالے میڈے کپڑے کالا میڈا ویس
گناہیں بھریا میں پھراں لوک کہیں درویش (بابا فرید)

پانچ محرم کو بہشتی دروازہ کھلتا ہے۔ بابا فرید الدین کے حجرے کے جنوبی دروازے سے لوگ قطار باندھ کے داخل ہوتے جاتے ہیں اور مشرقی دروازے سے باہر نکل جاتے ہیں۔ پورا سال یہ دروازہ بند رکھا جاتا ہے۔ پانچ سے دس محرم کھولا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ بابا فرید گنج شکر کے مرشد نے فرمایا تھا کہ جو فرید کے در سے گزرے گا امان پائے گا۔ اب ہر سال ہزاروں لوگ اس دروازے سے گزرتے ہیں۔ امان پانے کی تمنا، بہشت کے حصول کی آرزو، بابا فرید سے محبت یا پھر ثقافتی سرگرمی میں حصہ لینے کی خواہش محرک کوئی بھی ہو یہ حقیقت ہے کہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد حق فرید یا فرید کے نعرے بلند کرتی بہشتی دروازے سے گزرتی ہے۔ درگاہ اس فلک شگاف نعرے سے گونجتی رہتی ہے
اللہ محمد چار یار حاجی خواجہ قطب فرید۔

ریلوے پھاٹک سے دربار تک میل بھر لمبی قطار باندھے لوگ بہشتی دروازہ گزرنے کے لیے عصر سے پہلے ہی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دروازہ رات آٹھ بجے کھولا جاتا ہے۔
بہشتی دروازہ گزرنے والےدو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ عام لوگ اور خاص لوگ۔ خاص لوگوں کے لیے خاص انتظامات ہوتے ہیں۔ ان میں درگاہوں کے گدی نشین، سیاستدان، زمیندار، کاروباری امراء، سرکاری عہدے داران وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ قطار میں کھڑے ہونا ان کی شان کے خلاف ہے۔ ان لوگوں کے لیے ڈی پی او آفس سے وی آئی پی کارڈ جاری ہوتے ہیں۔ ان کے لیے الگ راستہ ہوتا ہے جہاں ان کو روکا نہیں جاتا۔ دھکم پیل نہیں ہوتی۔ امیر آدمی ہوتے ہیں لہذا پولیس کی بڑھکیں اور ڈنڈے ان کے قریب نہیں پھٹکتے۔ گاڑیوں کے لیے بھی خصوصی پاس جاری ہوتے ہیں۔ گاڑی میں بیٹھیے اور مزے سے بلا روک ٹوک ٹور کے ساتھ جائیے۔ قطار باندھنا تو غریبوں کا شیوہ ہے۔

عام لوگوں کی لمبی قطار لگی ہے۔ ان کے پاس نہ گاڑی نہ وی آئی پی کارڈ۔ نہ کوئی پولیس اہلکار دوست ہے۔ وہ دیہاتوں کے کسان اور مزدور ہیں۔ سہ پہر سے ہی گرمی میں کھڑے ہیں۔ پولیس اہلکار ڈنڈے لہرا کر ان کو قابو میں رکھتے ہیں۔ پھر بھی گڑ بڑ کریں تو ڈنڈے برسا کر دماغ ٹھکانے رکھا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے پیسہ نہیں کمایا، گاڑیاں نہیں لیں، اثرو رسوخ والے نہیں اور نہ ہی کسی بڑے باپ کے گھر پیدا ہوئے۔ ارے کچھ بھی نہیں کیا تو پھر ریلوے پھاٹک پہ لگ جاؤ لائن میں۔ چلو شاباش!
پنج رکن اسلام دے تے چھیواں فریدا ٹک (روٹی)
جے لبھے نہ چھیواں پنجے ای جاندے مک (بابا فرید)

کئی سال قبل بہشتی دروازے سے گزرتے بھگدڑ مچی تھی اور کئی افراد جان سے گئے۔ سات سال پہلے درگاہ کے مرکزی دروازے پہ بم دھماکہ ہوا تھا جس میں سات جانیں چلی گئیں تھیں۔ پھر بھی لوگ جوق در جوق آتے ہیں۔ موت زندگی کا راستہ روکنے میں ناکام ٹھہری۔ زندگی کا دھارا بہت حوصلہ رکھتا ہے۔ ہر پل بہتا ہی چلا جاتا ہے۔ بابا فرید سے پریت نبھانے والے پل بھر کے لیے نہیں ٹھٹھکے۔
فریدا ایسا ہو رہو جیسا ککھ مسیت
پیراں تلے لتاڑئیے کدی نہ چھوڈیں پریت (بابا فرید)

عرس پہ پنجاب بھر سے پولیس اہلکار ڈیوٹی پہ آتے ہیں۔ شہر کے سکول کالج بند ہو جاتے ہیں۔ سکولوں میں نفری کی رہائش کابندوبست ہوتا ہے۔ طالب علموں اور اساتذہ کو عرس کا شدت سے انتظار رہتا ہے۔ چھٹیاں جو ملتی ہیں۔ مزے سے میلہ دیکھو۔ تنخواہ بھی وصول پاؤ۔

عرس پہ کبھی لکی ایرانی سرکس لگتا تھا۔ اتنا رش ہوتا تھا کہ ٹکٹ لینے کے لیے تگڑے پہلوان نما شخص کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ وہ بھی جب سب دوستوں کی ٹکٹیں اپنے زور بازو پہ جم غفیر کو چیر کے خرید لاتا تو اس کی قمیض کا گھیرا پھٹ چکا ہوتا یا چاک گریبان لوٹتا۔ موت کا کنواں لگتا تھا جس میں خواجہ سرا ناچتے تھے اور بعد میں کار یا موٹر سائیکل کی خطرناک کرتب دکھائے جاتے تھے۔ بہت سارے لاؤڈ اسپیکرز پہ گانے بج رہے ہوتے تھے۔ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اکھاڑے اور تھیٹر میں لائیو پرفارمنس ہوتی تھی۔ کچی ٹاکی فلمیں چلتی تھیں۔ مختلف کھیل تماشے لگتے تھے۔ طرح طرح کے جھولے ہوتے۔ سب لوگ زندگی کی تلخ حقیقتوں کو کچھ دیر بھلا کر ہنس لیتے تھے۔ لیکن جب سے دہشت گردی کا مکروہ کھیل شروع ہوا وہ میلہ اجڑ گیا۔ موت کے اس بھیانک کنویں میں زندگی کا سرکس ویراں ہو گیا۔ اب نہ ٹکٹ بکتے ہیں اور نہ گاؤں کے پہلوان میلہ دیکھنے آتے ہیں۔

حضرت بابا فریدالدین گنج شکر کو پنجابی کا پہلا شاعر بھی مانا جاتا ہے۔ آپ کے اشلوک سکھوں کی مذہبی کتاب گرنتھ صاحب میں شامل ہیں۔ آپ کے فلسفے کی چھاپ آٹھ صدیوں کے بعد بھی اتنی گہری ہے کہ آج بھی پاک پتن میں لوگ اپنے بچوں کے نام بابا فرید کی نسبت سے رکھتے ہیں۔ غلام فرید نامی لوگ اس نسبت کا ثبوت ہیں۔ آج بھی شہر میں جا بجا دکانوں، کالج، لائبریری، مساجد، مدرسے، میرج ہال اور فیول پمپ بابا فرید کے نام سے جڑے نظر آتے ہیں۔ شہر کا اکلوتا کالج فریدیہ کالج ہے۔ بابا فرید گنج شکر نے انسان کو اولین ترجیح دی۔ سب انسانوں سے محبت کی۔ کسی بھی شخص کو مذہب، عقیدے یا فرقے کی بنا پر دھتکارا نہیں۔ لوگوں کو محبت اور امن کا درس دیا۔ رواداری اور بھائی چارے کا جو سبق بابا فرید نے پڑھایا اس کا درس آج بھی ان کے آستانے پہ جاری ہے۔ ان کے آستانے پہ تمام مذاہب اور عقائد کے لوگ آتے ہیں۔ آج بھی ان کے آستانے پہ محبت اور امن و آشتی کے اس عالمگیر احساس کا سایہ ہے جو بد قسمتی سے ملک کے گلی بازاروں میں نظر نہیں آتا۔ ان کی درگاہ پہ سنی، شیعہ، وہابی، سکھ، ہندو، مسلمان کی تفریق نہیں ہوتی۔ معاشرے کی اتنی بڑی خدمت اور کہاں دیکھنے کو ملتی ہے۔

کوک فریدا کوک توں جیوں راکھا جوار
جب لگ ٹانڈہ نہ گرے تب لگ کوک پکار (بابا فرید)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔