زبان سے خندق پار کرنے والے


husnain jamal (2)

یہ اور بات ہے ہم منہ سے کچھ نہیں کہتے
ہر ایک بات کی لیکن ہمیں خبر ہے میاں

سریش چند شوق جی مرحوم کا یہ شعر کچھ یوں یاد آیا کہ آج کل ایک سرگرمی ہمارے معاشرے میں کافی زیادہ دکھائی دینے لگی ہے اور معاملہ جو ہے وہ “ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ” والا ہے تو سوچا اس پر بات ہو جائے۔ ایک محاورہ یہ بھی سنا تھا، ‘زبان سے خندق پار کرنا’، یعنی شیخی بگھارنا اور قوت گفتار سے خواب و خیال میں ناممکن کو ممکن کر دکھانا وغیرہ، لیکن جب ہم بڑے ہوئے تو کچھ ایسے مہربان ملے جو واقعی زبان سے خندق پار کرا دیتے ہیں۔
آپ اگر کہیں کالج وغیرہ میں پڑھتے ہیں تو اچانک ایک دن اعلان ہو گا کہ بھئی فلاں دن اتنے بجے “ط ظ” صاحب آئیں گے اور آپ کو مستقبل کامیاب بنانے کے گر بتائیں گے۔ یا پھر اسی طرح سے کچھ اور ایسا بتایا جائے گا جسے سن کر آپ کے اندر خوشی کی ایک لہر دوڑ جائے گی۔ اگر آپ کسی دفتر میں کام کرتے ہیں تو بھی کوئی نہ کوئی ایسا مژدہ اچانک آپ کے دروازے پر دستک دے گا اور آپ سنیں گے کہ بھئی آئندہ ہفتے فلاں صاحب دفتری ٹینشن کم کرنے کے طریقے بتائیں گے۔
اگر آپ کسی کمپنی میں مارکیٹنگ یا سیلز سے وابستہ ہیں تو پھر آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ خاص طور سے بیمہ کمپنی والے بھائی صاحبان، کیوں کہ اس کام کا تو مکمل دارومدار ہی جذبے کی شدت پر ہے۔ کاغذ بیچنا اس دنیا کا سب سے بڑا فن ہے، اور وہ کاغذ کا ٹکڑہ بیچ دینا کہ جس کا منافع آپ کو مرنے کے بعد ملے گا، واقعی کمال فن ہے۔ فقیر خود بیمہ شدہ ہے، افادیت سے بھی انکار نہیں مگر چوں کہ اس کوچے میں بھی کچھ عرصہ گزارا ہے تو یہ جانتا ہے کہ کاغذ ہو یا کچھ بھی، کسی دوسرے شخص کو بیچنا ایک باقاعدہ فن ہے اور اس فن میں اہم ترین چیز آپ کا Motivational Level ہوتا ہے۔ تو اس لیول کو اس درجے پر پہنچانے کے واسطے، کہ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے، ایک نیا کام شروع ہوا ہے جسے Motivational Speaking کہا جاتا ہے۔
آپ وہ گانا سنتے ہوں گے، ہے جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار، شاید یہ ورلڈ کپ کے دوران بھی بہت چلا تھا۔ تو یہ گانا کیا تھا، یہ آپ کے جذبات کے لیے مہمیز ہوتا تھا اور آپ کو ایک شدت کے ساتھ جیت حاصل کرنے پر اکساتا تھا۔ وہی کام ہمارے ماہرین موٹیویشن کا ہوتا ہے۔ آپ ان کی ورکشاپ میں خوب نکھ سکھ سے تیار ہو کر جاتے ہیں کہ بھئی کچھ سیکھ کر آئیں گے، جب تک وہ لیکچر چل رہا ہوتا ہے آپ ساتویں آسمان پر ہوتے ہیں اور آپ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ یار ہم تو نرے گھامڑ تھے، یعنی یہ سیل یا مارکیٹنگ وغیرہ اتنے آسان کام ہیں اور ہم نے انہیں خواہ مہ خواہ اعصاب پر سوار کیا ہوا تھا۔ وہ صاحب آپ کو بتاتے ہیں کہ کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ آپ یہ سوچ لیں کہ آپ نے ناکام ہونا ہی نہیں، آخری دم تک لڑنا ہے، اور آپ دیکھیں گے کہ جیت آپ ہی کی ہو گی۔ یا پھر وہ آپ سے کہیں گے کہ کامیابی صرف دماغ کا کھیل ہے، اگر آپ نے سوچ لیا کہ آپ کامیاب ہوں گے، تو آپ صرف کامیاب ہی ہوں گے اور کوئی راستہ ہے ہی نہیں۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ اگر کسی چیز کی آرزو پورے جذبے کے ساتھ کریں اور تن من دھن کے ساتھ اسے حاصل کرنے میں لگ جائیں تو پوری کائنات آپ کے ساتھ ہو جاتی ہے اور جیت آپ ہی کی ہوتی ہے۔ پھر آپ یہ سنیں گے کہ یہ جتنے بڑے بڑے امیر یا کامیاب لوگ ہیں یہ کچھ خاص پڑھے لکھے نہیں تھے۔ یا بچپن میں سکول سے بھاگ جاتے تھے، یا کالج میں فیل ہوتے تھے، یا انتہائی غریب تھے اور اپنے زور بازو کے دم پر انہوں نے سات آسمان چھو لیے اور دھرتی ہلا دی، تباہی مچا دی، کامیابیوں کی نئی مثال قائم کر دی وغیرہ وغیرہ۔
اس سب کے بیچ میں آپ سے طرح طرح کے کھیل کھلوائے جائیں گے جنہیں Mind Refreshing Games کہا جاتا ہے۔ اور یہ گیمز واقعی اس طریقے سے بنائی جاتی ہیں کہ اگر آپ ورک شاپ کے دوران تھک گئے ہوں یا نیند آنے لگے تو یہ سب کچھ بھگا دیتی ہیں اور آپ دوبارہ ہشاش بشاش ہو جاتے ہیں۔ تو آپ پانچ دس منٹ کے وقفے میں کھیل کود کر دوبارہ آ کر بیٹھیں گے، پھر آپ کو مختصر سی کوئی Motivational Movie دکھائی جائے گی۔ عموماً کوئی Physically Challenged صاحب ہوں گے، جو باوجود کسی بھی قسم کی جسمانی کمی کے، اپنے روزمرہ کے معاملات کامیابی سے چلا رہے ہوں گے یا کوئی اور صاحب ہوں گے جو بتائیں گے کہ ایک حادثے نے ان کی زندگی کس طرح بدل دی اور آپ بے اختیار شکر کر اٹھیں گے کہ یا مرے مولا، تیری مہربانی، میں تو مکمل صحت مند ہوں اور پھر بھی ہڈ حرامی کرتا ہوں اور یہ بے چارے جن کو اتنی پریشانی ہے یہ کیسے سب کچھ اتنی کامیابی سے کر رہے ہیں، کل سے میں اور زیادہ محنت کروں گا اور کامیابی حاصل کر کے رہوں گا۔
پھر اکثریت ان سپیکرز میں ان لوگوں کی ہوتی ہے جو ساتھ ساتھ مذہب کا تڑکا بھی ٹریننگ میں لگاتے ہیں۔ آپ کو کسی بزرگ کے واقعات سنائیں گے، کوئی چھوٹا موٹا وظیفہ بھی بتایا جائے گا، لگے ہاتھوں ایک آدھ نماز بھی آپ کو ساتھ پڑھائیں گے اور اس میں بھی آپ کی کامیابی کی دعا مانگی جائے گی۔ اور یوں بات موٹیویشنل معاملات شروع ہو کر دعا کی افادیت پر آن ٹھیرے گی لیکن آپ اتنے Charged ہوں گے اور آپ کے اندر اتنی مثبت قوت بھر چکی ہو گی کہ آپ اس بارہ مصالحے والی چاٹ کا صحیح سے تجزیہ بھی نہیں کر پائیں گے۔
پھر آخر میں آپ کو مختلف کامیاب لوگوں کی کتابوں کے حوالے دئیے جائیں گے اور چن چن کر وہ صفحات بتائے جائیں گے جن کے بعد کامیابی حاصل کرنے کا سات آٹھ Steps پر مشتمل نسخہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔ آپ میں اتنی ہوا بھر چکی ہو گی کہ اگر آپ ایک غبارے ہوتے تو یقیناً پھٹ جاتے۔اور پھر بقول شاعر، یوں نیک نچھتر لیتے ہیں اس دنیا میں سنسار جنم!
لیکن چوں کہ آپ ایک انسان ہیں تو اس لیے آپ پھٹتے نہیں لیکن ایک ہفتے بعد دل پھٹ جاتا ہے آپ کا۔ آپ شدید مایوسی کے عالم میں ہوتے ہیں۔ اس ورکشاپ میں سیکھی گئی باتوں میں سے کوئی بھی آپ کے کام نہیں آ رہی ہوتی اور تلخ زمینی حقائق آپ کو گھیرے میں لیے جھینگا لالا ہو قسم کا رقص کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ دوسرے ساتھیوں سے پوچھتے ہیں تو وہاں بھی یہی سین ہوتا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ جہاں سے چلے تھے وہیں کھڑے ہیں بلکہ گڑے ہیں، کچھ بھی پیش رفت نہیں ہوئی، سوائے اس کے کہ ورکشاپ میں گزارے گئے چند گھنٹے اچھے گزر گئے، موج میلہ ہو گیا، لیکن کوئی کل سیدھی نہیں بیٹھی، سب حالات ویسے ہی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
یوں ہے کہ ہر کامیاب آدمی کے پیچھے دنیا کے چند دیگر معاملات بھی موجود ہوتے ہیں، پہلے اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً، اگر ٹاٹا اور برلا کامیاب ہیں تو اس کے پیچھے ان کی اپنی خاندانی دولت تھی جسے انتہائی کامیابی سے انہوں نے ضرب دے لی اور کامیاب ٹھیرے۔ مارک زوکر برگ نے فیس بک بنائی تو یہ ایک اتفاق تھا کہ وہ اپنے انٹرفیس کی وجہ سے اتنی مشہور ہو گئی کہ آج وہ دنیا کے امیر ترین کاروباری لوگوں میں سے ہیں۔ ان کے پیچھے ان کے ملک کا ایک پورا سسٹم تھا، اگر وہ کسی ایشیائی ملک میں بیٹھ کر کسی معمولی سے کالج میں یہ کام کرتے تو کیا یہ ممکن تھا، شاید نہیں۔ ڈرامہ سیریل وارث اتنا کامیاب تھا کہ گلیاں سنسان ہو جاتیں اور لوگ اسے دیکھنے جگہ جگہ اکٹھے ہو جاتے، اس کے فن کار بھی اسی لحاظ سے کامیاب ہوئے لیکن آج کیا یہ ممکن ہے کہ سو سے زیادہ تعداد میں چینلز ہوتے ہوئے کوئی ڈرامہ ایسی کامیابی حاصل کر لے، ناممکن ہی نہیں بعید از قیاس ہے۔ میر باقر علی داستان کہتے تھے، مشہور زمانہ تھے، زمانہ ہی بدل گیا، داستانیں سننے والوں کی زندگیاں مصروف ہونے لگیں تو رش کم ہوتا گیا اور آخر میر صاحب بے چارے چل چلاؤ کی عمر میں چھالیہ بیچنے کو مجبور ہوئے۔
ایپل کے ٹچ فون سے کہیں پہلے سونی ایریکسن نے P – Series کے تحت ٹچ فون نکالے، ساتھ وہ ٹوتھ پک قسم کا سٹائلس بھی دیا لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ بلیک بیری اپنی تمام تر دقیانوسیت کے ساتھ چھایا رہا۔ اب جب ایپل ٹچ فون لاتا ہے تو دنیا ٹوٹ پڑتی ہے، ایک فروانی ہو جاتی ہے اور بٹن والے فون اب ڈھونڈے نہیں ملتے، تو یہ سب کیوں ہوا؟ شاید اس لیے کہ ایپل مناسب وقت پر فون لایا، یا اس لیے کہ اس کی ٹیکنالوجی بہتر تھی، یا اس لیے کہ اس نے سوچا ہوا تھا کہ وہ ناکام نہیں ہو گا؟ یا ایپل والوں نے کوئی خصوصی دعا کروائی تھی؟
انضمام الحق کڑی مصری خان ملتان میں ہمارے محلے دار تھے، اچھا کرکٹ کھیلتے تھے، ٹرائل دئیے سلیکٹ ہو گئے۔ لیکن ان کے ساتھ کئی اور لڑکے بھی بہت عمدہ کھیلتے تھے، انہوں نے بھی ٹرائل دئیے، کوئی کسی ٹیکنکل غلطی سے رہ گیا کوئی وقت پر نہ پہنچ پایا، کوئی اچھا کھیل ہی نہ دکھا پایا، آپ ان میں سے کسی کا نام جانتے ہیں؟ تو کیا انضمام کی سلیکشن میں وقت اور اتفاقات کی خوبی شامل نہیں تھی؟ یا وہ بھی گھر سے کامیاب ہونے کا دیوانہ وار عزم کر کے اور منت مان کر نکلے تھے؟
ان کے علاوہ بے شمار واقعات ہیں۔ آپ کسی بھی کامیاب شخص کی زندگی کا مطالعہ کیجیے، آپ کو پیچھے کوئی سسٹم یا اتفاقات کا کوئی ایک سلسلہ نظر آئے گا، ٹھیک ہے، محنت بھی ہو گی لیکن محنت تو سب کرتے ہیں بلکہ کرتے ہیں محبت سب ہی مگر، ہر ایک کو صلہ کب ملتا ہے، تو بس یہ صورت ہوتی ہے۔
پھر ایک آخری لیکن سب سے اہم بات یہ کہ آپ کامیابی کی تعریف کیا کرتے ہیں؟
دیکھیے، وحشیانہ طور سے محنت کر کے چار پیسے کما لینا اور معاشرتی مقام کچھ بہتر کر لینا بے شک کامیابی ہے لیکن ایس بھی کیا کامیابی کہ گھر میں سے آپ کی صورت کو ترس جائیں، بچوں کو آپ سوتا چھوڑ کر جائیں اور سوتوں کو ہی آن کر پیار کر لیں تو کیا زندگی ہوئی۔
توقعات کچھ محدود کر لیں تو بہت اچھی بسر ہو سکتی ہے۔ خاور، ہمارے برادر خورد کا قول ہے کہ “کھل کر برا سوچیں، جتنا مرضی برا سوچیں، ہو گا وہی جو ہونا ہے، اچھا سوچنے سے الٹا کچھ نہ کچھ مایوسی ضرور ہو گی اگر انجام اچھا نہ ہوا۔ برا سوچیں گے تو ناکام ہونے پر کم ازکم مایوسی نہیں ہو گی کہ بھئی یہ تو ہمیں پہلے ہی معلوم تھا، چلو جو ہوا سو ہوا اب آگے کی راہ دیکھتے ہیں۔”
رہی Motivational Speakers کی بات تو یاد رکھیے؛
وہ جتنی بھی مثالیں دیتے ہیں کہ فلاں آدمی بچپن میں فیل ہوا، فلاں کے ساتھ یہ ہوا، وہ ہوا، ان کو کراس چیک کر لیجیے، ان میں کی اکثر غلط نکلیں گی۔
کامیابی دماغ سے یا پاگلوں کی طرح بھاگنے سے حاصل نہیں ہوتی، اس کے لیے بقول گوروں کے، ایک Lucky Stroke of Fortune کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
یہ سپیکر بھائی چوں کہ باتوں کی کمائی کھاتے ہیں اور نام خدا اچھے خاصے خوش حال بھی ہوتے ہیں تو اس بات سے متاثر مت ہوں کہ ان کی کامیابی کا گر ہی یہی ہے کہ وہ زبان سے خندق پار کرانے کے ماہر ہوتے ہیں۔۔ اگر آپ اچھے طریقے سے بات کر سکتے ہیں تو آپ بھی ایک اچھے سپیکر تو بن سکتے ہیں، کاروبار میں یا نوکری میں کامیابی چیزے دیگر است!
اور سب سے آخری بات یہ کہ ناکام آدمیوں کی سوانح کبھی لکھی نہیں جاتی، وہ لکھی جائے تو آپ دیکھیے کہ لوگ ساری عمر محنت کر کے بھی وہ کچھ حاصل نہ کر پائے جو آج آپ کے پاس موجود ہے۔

پس نوشت۔ بھائی شاہد اعوان نے ایک کتاب کا مسودہ کوئی دو ماہ قبل دیا، ابھی چھپی نہیں، اسی موضوع پر تھی۔ لکھنا میں پہلے بھی چاہتا تھا، چوں کہ مناسب یہی تھا کہ اپنے الفاظ میں بات کی جائے تو کتاب کا اثر ختم ہونے تک انتظار کیا۔ اب جو خامہ فرسائی ہوئی، آپ کے سامنے ہے۔ اس موضوع پر ہنوز بہت سے معاملات تشنہ ہیں، زندگی بہ خیر، ادھار رہا!


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 145 posts and counting.See all posts by husnain

4 thoughts on “زبان سے خندق پار کرنے والے

  • 10-03-2016 at 12:17 pm
    Permalink

    Khub, Hasnain Sahib

  • 10-03-2016 at 2:18 pm
    Permalink

    بہت خوب کہا حسنین بھائی ۔۔کیا خوب کہا۔۔۔حکیموں پیروں فقیروں سے ڈاکٹروں وکیلوں تک سارا کاروبار success stories کے گر د گھومتا ہے ۔ کسی کو اتنا دماغ نہیں ہوتا کہ ناکامی کی داستانوں کی تعداد پر بھی غور کر لیا جائے ۔ اس حوالے سے شماریات کا مضمون بہترین ہتھیار ہے تعصبات پر قابو پانے کے کے لیے اور غیر متعصب نتائج دینے کے لیے ۔۔۔۔عنوان بھی آپ نے خوب رکھا ہے۔

  • 10-03-2016 at 5:57 pm
    Permalink

    خوب لکھا جناب۔ اس موضوع پر اردو میں پہلی مبسوط کتاب، میرے ادارے ایمل پبلیکیشنز سے اگلے چند روز میں چھپ کر مارکیٹ میں آجائے گی۔

  • 11-03-2016 at 7:22 am
    Permalink

    بہت خوب حسنین صاحب۔ فی زمانہ تو ساری کمائی اور سماجیات کا سارا دار و مدار ہی زبان سے خندق پار کرانے پر ہے۔ عملی طور پر کسی کے لیے کچھ نہ کیجیے بس باتوں میں بہلائیے آپ بھی خوش دوسرے بھی خوش۔ آجکل جو جتنی اچھی باتیں کر لیتا ہے اتنا ہی کامیاب ٹھہرتا ہے۔ 🙂

Comments are closed.