امام بارگاہ غفران مآب لکھنو کی مجلس کا احوال: ہندو افسر کی زبانی


امام بارگاہ غفران مآب، یکم محرم، چودہ مئی، 1964

غفران مآب روڈ سے وکٹوریہ روڈ کی طرف آئیں تو لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد تیزی سے امام باڑے کی طرف جاتی نظر آتی ہے۔ ان میں سے اکثر معقول لباس میں ہیں۔ بہت کم ایسے ہوں گے جو غریب طبقے میں شمار ہوں۔ غفران مآب امام باڑے کی مجلس عموماً مشہور علماء اور ذاکر پڑھتے ہیں اس لیے پڑھا لکھا طبقہ بہت زیادہ کھنچا چلا آتا ہے۔

ذرا آگے بڑھیں تو کچھ سبیلوں کی ایک قطار نظر آتی ہے جہاں آپ کو پینے کا پانی میسر ہے۔ وہیں بہت سے بچے مختلف امام باڑوں میں ہونے والی مجلسوں اور جلوسوں کے پروگرام پر مشتمل کتابچہ بانٹتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بچے اپنے رکھ رکھاؤ اور لباس سے مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کے شرفا کی اولاد لگتے ہیں۔ مزید تحقیق پر معلوم ہوا کہ ان کتابچوں کی فروخت پر انہیں کوئی پیسے نہیں ملیں گے، یہ صرف ثواب کے لیے خدا کی راہ میں یہ کام کر رہے ہیں۔

پان اور سگریٹ بیچنے والے بھی امام باڑے کے آس پاس موجود ہیں اور لوگوں کی اچھی خاصی تعداد سگریٹ پی رہی ہے یا پان چبا رہی ہے۔ پہلے ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ محرم میں پان کھانا سختی سے منع ہوتا ہے۔ ظاہری طور پر یہ سب پابندی کا احترام کرتے ہوئے نہیں لگتے۔ پھر ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہ سختی پانچ محرم تک اتنی زیادہ نہیں ہوتی، چھ سے دس محرم تک اس احترام اور احتیاط کو بطور خاص ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ ابھی بھی جو پان کھا رہے تھے وہ پہلے کلّی کرتے تھے اور اس کے بعد امام باڑے کا رخ کرتے۔

دروازے میں سے داخل ہو کے ہمارا نمائندہ امام باڑے کے صحن میں پہنچ چکا تھا۔ صبح سوا نو کا وقت تھا اور برآمدے میں تقریباً دو سو لوگ منبر کی طرف منہ کیے بیٹھے تھے۔ ان کے سروں پہ چھاؤں رکھنے کے لیے قناتیں موجود تھیں۔ یہ زیادہ تر مرد حضرات کا مجمع تھا جس میں صرف پندرہ کے قریب خواتین نظر آئیں۔ سب برقعوں اور نقابوں میں تھیں اور ساتھ والے چھوٹے برآمدے میں بیٹھی تھیں۔ چودہ پندرہ لڑکے اور دو لڑکیاں جن کی عمر دس سے بارہ برس تھی، وہ بھی وہیں موجود تھے۔ مردوں کی عمریں زیادہ تر اکیس سے پینتیس کے درمیان تھیں۔ آنے والے ایک دو ساتھیوں کے ساتھ اندر داخل ہوتے اور اپنی جگہ ڈھونڈ کر بیٹھ جاتے۔ داخل ہونے سے پہلے وہ جوتے اتار کے ایک طرف رکھ دیتے تھے۔ کبھی کبھار آنے والوں میں تھوڑی بہت بات چیت ہوتی مگر معمولی سی آواز میں، حالانکہ ابھی مجلس شروع نہیں ہوئی تھی لیکن ادب آداب کا پاس موجود تھا۔

اسی بارے میں: ۔  انہیں جمہوریت بھی چاہیے اور آمریت بھی

ساڑھے نو تک سامعین تین سو پچاس سے کی تعداد سے بڑھ چکے تھے لیکن خواتین اور بچوں کی تعداد میں اضافہ کچھ خاص نہیں ہوا تھا۔ پورے ساڑھے نو بچے مولانا کلبِ عابد (مشہور ذاکر) بغلی کمرے سے برآمد ہوئے اور لوگوں میں سے گزر کے منبر کی طرف بڑھنے لگے۔ بہت سے لوگوں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے سر کی جنبش سے جواب دیا لیکن ماحول کی اداسی اور تقدس اپنی جگہ قائم تھے۔ منبر پہ بیٹھنے سے پہلے انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ سے اسے چھوا اور پھر وہ ہاتھ اپنی پیشانی سے لگا لیا۔ یہ تعظیم کا ایک انداز تھا۔ وہ منبر کے تین زینے چھوڑ کر چوتھے پر بیٹھ چکے تھے۔

قرآن کی آیات سے انہوں نے مجلس کا آغاز کیا اور پھر ان کا اردو ترجمہ سنایا۔ اس کے بعد انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ قرآن الہامی کتاب ہے، یہ خدا کی آواز ہے اور جو اسے جھٹلائے گا وہ کافروں میں شمار ہو گا۔ ان کے دلائل تقریباً پچاس منٹ جاری رہے۔ جہاں جہاں وہ رسول خدا (صلی اللہ و علیہ والہ وسلم) کا ذکر کرتے وہاں سارا مجمع صلوة (درود شریف) پڑھتا اور جہاں کوئی لطیف نکتہ بیان کرتے وہاں لوگوں کی داد “واہ واہ” کی شکل میں سنائی دیتی۔ ایسا لگتا تھا جیسے تقریر کرنے والا پورے مجمعے پر طلسم باندھ چکا ہے، وہ سب ڈوبے ہوئے تھے اور ان کے ری ایکشن بہت فطری سے تھے۔ اس خطاب میں ایک شاندار بات یہ تھی کہ ذاکر صاحب یکسانیت کا شکار نہیں ہوتے تھے یا کوئی چیز اس میں ڈل اور بورنگ نہیں ہوتی تھی۔ پچاس منٹ کے بعد ذاکر نے کربلا کے مصائب کا بیان شروع کیا۔

“آج عزاداری کا پہلا دن ہے۔ ویسے تو سارا سال کوئی شیعہ غم حسین سے غافل نہیں ہوتا لیکن آج، جب یہ چاند نظر آتا ہے تو یہ غم، اپنی پوری شدت پر ہوتا ہے۔ ہمارے لیے ہر نیا سال رنج و الم کی اسی روایت سے شروع ہوتا ہے جو کربلا سے جڑی ہے۔” اس موقعے پہ مجمعے سے ہائے ہائے کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں اور لوگوں کے چہرے مزید غمزدہ ہو گئے۔ تب ذاکر نے امام حسین (علیہ السلام) کی روانگی سے پہلے کے حالات بیان کیے، بتایا کہ ان کا خاندان کیسے ان کی سلامتی کے لیے پریشان تھا، اور پھر، اگرچہ یہ منظر ایک دم بہت آگے کا تھا، لیکن انہوں نے موازنہ کیا کہ کس طرح ذوالجناح دس محرم کو جب خیموں تک واپس آیا ہو گا اور اس کی پشت پہ امام سوار نہ ہوں گے، اور زین اس کی نیچے لٹکتی ہو گی، تو بچوں اور خواتین نے کیا محسوس کیا ہو گا، انہوں نے کیا بین کیے ہوں گے، وہاں کیا ماتم بپا ہوا ہو گا اور کون ہو گا جو اشکبار نہ ہو گا۔ اس بیان پہ بہت سے لوگ دھاڑیں مار کے رونے لگے اور ہائے حسین کی آوازیں ہجوم سے آنے لگیں۔ بہت سی عورتوں کے رونے کی صورت یہ تھی کہ وہ نقابوں سے اپنے آنسو پونچھتی تھیں۔ ماحول مکمل سوگوار تھا اور اس موقع پر مجلس ایک دم ختم ہو گئی۔

اسی بارے میں: ۔  ہزارہ ہم خدا دارہ

ذاکر منبر سے نیچے اترے اور تمام لوگ کھڑے ہو گئے۔ اس کے فوراً بعد ہجوم میں سے دس بارہ نوجوان تعزیے کے سامنے اکٹھے ہو گئے اور سینہ زنی شروع ہو گئی۔ ماتم جاری تھا کہ لوگ آہستہ آہستہ باہر روانہ ہونے لگے۔ ایک کونے میں تبرک تقسیم ہوتا تھا۔ لیکن شور کوئی نہیں تھا۔ کوئی بات چیت نہ کرتا تھا۔ ہر چہرہ مکمل سنجیدہ اور غم کی تصویر تھا۔

امام باڑے کے باہر صورت حال مختلف تھی۔ جیسے ہی لوگ وہاں سے باہر آتے تو ان کے چہرے نارمل ہونا شروع ہو جاتے، کچھ ٹولیوں میں کھڑے ہو کر حال احوال بانٹتے اور کچھ انہیں پان سگریٹ والوں کی کھوج میں نکل جاتے۔

ترجمہ از:

Census of India 1961

Muharram in two cities

Lucknow and Delhi

  1. K. Roy. Burman


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 338 posts and counting.See all posts by husnain