گلاسنوسٹ، سعودی اسٹائل


یہ احادیثِ نبوی ڈیڑھ ہزار برس پرانی سہی کہ تعلیم حاصل کرو چاہے تم مرد ہو کہ عورت، علم حاصل کرو بھلے چین جانا پڑے اور یہ واقعہ اپنی جگہ کہ غزوات میں قیدی بنائے جانے والے کفار کو یہ پیشکش کی جاتی کہ اگر تم بچوں کو پڑھا سکو تو تمہیں رہا کیا جا سکتا ہے۔ظاہر ہے کفار قیدی مسلمان بچوں کو اس زمانے کے مروجہ دنیاوی علوم ہی پڑھا سکتے ہوں گے۔دینی تعلیم تو دینے سے رہے۔

مگر بھلا ہو کچھ علماکرام کا جنہوں نے ان احادیث کی دہری تفسیر کی یعنی لڑکوں کی دنیاوی و دینی علوم کی تعلیم میں تو کوئی حرج نہیں البتہ لڑکیوں کو صرف اس قدر عربی تعلیم کافی ہے کہ قرآن پڑھ سکیں۔دنیاوی تعلیم کی کھکیڑ میں ڈالنے سے لڑکیاں بے راہ رو ہو سکتی ہیں۔

برِصغیر کے بہت سے علاقوں میں آج بھی بہت سی لڑکیاں محض اس لیے اسکول سے محروم ہیں کہ ان کے والد یا بھائی سمجھتے ہیں کہ لکھانے پڑھانے سے جب یہ گھر سے باہر کی دنیا کو سمجھنے لگیں گی توخراب ہو جائیں گی۔آج بھی لاکھوں لڑکیوں کو پرائمری یا حد سے حد میٹرک کے بعد اس لیے گھر بٹھا لیا جاتا ہے کہ زیادہ پڑھی لکھی لڑکیوں کے لیے ہم پلہ رشتے ملنے میں دشواری ہوگی۔

لہٰذا سلام بنتا ہے سر سید کو، بیگم رقیہ سخاوت حسین،  بھوپال کی حکمران نواب سلطان جہاں بیگم اور اہلیانِ پانی پت کو کہ جنہوں نے مسلمان لڑکیوں کے لیے انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں علی الترتیب علی گڑھ، کلکتہ، بھوپال اور پانی پت میں پرائمری اسکول اور زنانہ مدارس کی داغ بیل ڈالی۔اور سلام ہے والی سوات میاں گل عبدالودود کو کہ جنہوں نے 1922 میں اپنی ریاست میں پہلا گرلز پرائمری اسکول قائم کیا۔(87 برس بعد اسی سوات میں طالبان نے مذہب کے نام پر ایک سو نو گرلز اسکول دھماکے سے اڑا دیے)

ہم نے جتنے بھی آداب و طور طریقے سیکھے ڈیڑھ ہزار برس پہلے کے نجد و حجاز میں ظہور کرنے والی روشنی سے سیکھے۔ جہاں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار مکہ کے متمول تاجروں میں تھا اور ان کے تجارتی قافلے شام و یمن تک آتے جاتے تھے۔یہی نجد و حجاز بیسویں صدی کے تیسرے عشرے سے مملکتِ سعودی عرب کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

مگر جدید سعودی عرب میں پہلا گرلز اسکول دارلمنان 1955ء میں اور لڑکیوں کا پہلا اعلی تعلیمی ادارہ ریاض کالج آف ایجوکیشن کے نام سے 1970ء میں کھلا۔

سن 2001ء سے خواتین کے شناختی کارڈ بننے شروع ہوئے جو ان کے سرپرستوں یعنی والد، بھائی یا شوہر کی اجازت سے جاری ہوتے تھے۔ 2006ء سے خواتین کے شناختی کارڈوں کے لیے سرپرستوں کی منظوری کی پابندی اٹھا لی گئی۔ 2005ء میں قانون بنا کہ جبری شادی جرم ہے۔ یہ الگ بات کہ عملاً آج بھی رشتے کی تمام تفصیلات و شرائط لڑکی کے والد اور ہونے والا داماد بیٹھ کے طے کرتے ہیں۔

2009ء میں پہلی بار کسی خاتون کو وزارتی قلمدان کا اہل سمجھا گیا اور محترمہ نورالفائز خواتین کے تعلیمی امور کی نائب وزیر مقرر ہوئیں۔ 2012ء میں پہلی بار کسی خاتون سعودی ایتھلیٹ کو اولمپکس میں حصہ لینے کی اجازت ملی۔ انھوں نے لندن اولمپکس کی آٹھ سو میٹر کی دوڑ میں حصہ لیا۔ 2013ء میں عورتوں کو اس شرط پر تفریح گاہوں کے دالانوں میں سائیکل اور موٹر سائیکل چلانے کی اجازت ملی۔ شرط یہ تھی کہ مکمل حجاب اور سرپرست کی موجودگی۔

2013ء ہی میں پہلی بار شاہ عبداللہ کے حکم پر شاہی مجلس شوری میں تیس خواتین کو بیٹھنے کی اجازت ملی۔یعنی مجلس شوری میں خواتین کو دس فیصد نمایندگی حاصل ہوئی۔ 2015ء میں سعودی خواتین کو ووٹ اور بلدیاتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کا حق ملا اور اس کے نتیجے میں بیس خواتین کونسلرز بھی منتخب ہوئیں۔ فروری 2017ء میں سارہ السہیمی سعودی اسٹاک ایکسچینج کی پہلی خاتون سربراہ مقرر ہوئیں۔

شاہ عبداللہ کے بعد ان کے بھائی اسی سالہ سلمان بن عبدالعزیز بادشاہ بنے اور انھوں نے اپنے بھتیجے محمد بن نائف کو ولی عہد اور بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد و وزیرِ دفاع مقرر کیا۔اب سے تین ماہ قبل محمد بن نائف کی جگہ محمد بن سلمان مکمل ولی عہد، اول نائب وزیرِ اعظم اور قومی اقتصادی کونسل کے سربراہ بھی قرار پائے۔

بتیس سالہ محمد بن سلمان کو نئی سعودی پیڑھی ایم بی ایس کے نام سے جانتی ہے۔بطور نائب ولی عہد ایم بی ایس نے گزشتہ برس اپریل میں ویٹرن 2030ء منصوبہ پیش کیا۔  اس کے مطابق ایسی سماجی و اقتصادی اصلاحات مرحلہ وار کی جائیں جن سے کسی اندرونی اتھل پتھل کا شکار ہوئے بغیر اور مذہبی شناخت کھوئے بغیر سعودی عرب کو اکیسویں صدی کے تقاضوں میں ڈھالا جائے۔تاکہ اس ملک کو اگلے چودہ برس میں بیسویں بڑی عالمی معیشت کے درجے سے پندرھویں بڑی معیشت بنایا جا سکے۔اس وقت اٹھہتر فیصد ریاستی آمدنی کا دار و مدار تیل کی پیداوار پر ہے۔

اگلے چودہ برس میں تیل کی آمدنی پر انحصار کم کرکے پچاس فیصد پر لایا جائے گا اور باقی پچاس فیصد آمدنی صنعت و زراعت کی ترقی، نجی شعبے کے فروغ اور سیاحت و ثقافت کے شعبوں سے حاصل کی جائے گی۔تاکہ ملک کی آدھی آبادی کو جس کی اوسط عمر پچیس برس ہے معیشت میں کھپا کے بیروزگاری کی مقامی شرح ساڑھے گیارہ فیصد سے کم کرکے سات فیصد تک لائی جا سکے۔کارکنوںمیں مقامی خواتین کا تناسب بائیس فیصد سے بڑھا کر تیس فیصد تک لایا جائے۔غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے طویل مدتی قیام کے لیے گرین کارڈ اسکیم متعارف کروائی جائے گی۔

ان اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ سماجی ڈھانچے پر قدامت پسندی کی گرفت کو ڈھیلا کیا جائے اور کم ازکم وہ بنیادی حقوق شہریوں کو میسر ہوں جو باقی دنیا میں معمول کے حقوق کہلاتے ہیں۔

اس اعتبار سے ستمبر 2017 کا آخری ہفتہ سعودی تاریخ میں یادگار رہے گا۔ 23 ستمبر کو مملکتِ سعودی عرب کی سالگرہ تقریبات میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی شرکت کی اجازت ملی اور ریاض کے شاہ فہد اسٹیڈیم میں ہونے والی  تقریبات میں پورے پورے کنبوں نے شرکت کی اور نمائشی فنی مظاہروں سے محظوظ ہوئے۔تین روز بعد 26 ستمبر کو ایک شاہی فرمان کے ذریعے خواتین کو بنا سرپرست کار ڈرائیونگ کا حق دے دیا گیا۔ہو سکتا ہے باقی دنیا کی عورتوں کے لیے یہ معمولی خبر ہو مگر سعودی عرب دنیا کا آخری ملک ہے جہاں خواتین کو یہ حق ملا۔مگر اس ایک معمولی حق کے پیچھے  ستائیس برس کی طویل جدو جہد بھی ہے۔

1990ء میں ریاض کی سڑکوں پر ایک گھنٹے تک پندرہ کاریں دوڑتی نظر آئیں جن میں47 خواتین سوار تھیں۔ سب کو دھر لیا گیا اور اگلے روز سرپرستوں کی ضمانت پر رہا کیا گیا۔اس کے بعد آنے والے پہلے جمعہ میں ملک کے طول و عرض میں علما نے اپنی تقاریر میں ان خواتین کو جرائم پیشہ اور فاحشاؤں تک کے القابات سے نوازا۔ریاض میں ان بدکردار عورتوں کی مذمت میں پمفلٹ بٹے۔نامعلوم فون کالرز نے دھمکیاں دیں۔کئی کو ان کے اداروں نے ریاستی دباؤ کے سبب دو دو برس کے لیے ملازمت سے نکال دیا اور کچھ کے پاسپورٹ تک ضبط کر لیے گئے۔سرکاری علما کونسل نے اسے دین مخالف حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کا اکیلے ڈرائیو کرنا جنسِ مخالف سے رغبت کا موجب بن کے سماج کو بے راہ روی میں مبتلا  کر سکتا ہے۔

مئی 2005ء میں شاہی مجلس شوری کے ایک رکن محمد الزلفا نے تجویز دی کہ پینتیس چالیس برس سے اوپر کی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے میں کوئی حرج نہیں۔ محمد الزلفا پر الزام لگا کہ وہ خواتین کو کج روی پر اکسا رہے ہیں۔مئی 2006ء میں گاڑیوں کے شو رومز میں حواتین سیلز پرسنز کو اجازت ملی کہ وہ گاڑی خریدنے کی متمنی خواتین کسٹمرز کو تفصیلات تو فراہم کر سکتی ہیں مگر ٹیسٹ ڈرائیو کی اجازت شوفر یا سرپرست کو ہی ہوگی۔

ستمبر 2007ء کو خواتین کی کمیٹی برائے حقِ ڈرائیونگ نے تین ہزار دستخطوں سے اجازت کی درخواست شاہ عبداللہ کو ارسال کی مگر کوئی جواب نہ ملا۔جون 2011ء میں ایک خاتون منہال الشریف کو تنہا کار چلانے کے جرم میں نو دن جیل میں رہنا پڑا۔اسی سال علما کونسل نے فتوی دیا کہ خاتون کے کار چلانے سے اس کے رحم یا پردہِ بکارت کو نقصان پہنچ سکتاہے۔اکتوبر 2013ء میں ساٹھ خواتین نے احتجاجاً  ڈرائیونگ کی اور اپنی وڈیوز سوشل میڈیا پر لگائیں۔ان میں سے بعض کو چند دن قید رکھ کر مذہبی پولیس مطوع نے ورثا کی جانب سے نیک چال چلن کی ضمانت پر رہا کردیا۔

دسمبر 2014ء میں سعودی خاتون نوجان الہتلول کو متحدہ عرب امارات کی سرحد پر تنہا ڈرائیو کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سعودی صحافی ماس العمودی نے بھی سرحد تک تنہا کار چلائی۔دونوں پر مقدمہ چلانے والی ایک زیریں عدالت نے سفارش کی کہ ان پر دہشتگردی کی فردِ جرم لگنا چاہیے۔صحافی خاتون کو تو چھوڑ دیا گیا مگر نوجان کو تہتر دن جیل میں رہنا پڑا۔

گزشتہ برس سب سے متمول سعودی شہزادے الولید بن طلال نے کہا کہ خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دینا نہ صرف سماجی بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔ گزشتہ ہفتے ریاست نے خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دیا تو سعودی خواتین میں قدرتی طور پر خوشی کی لہڑ دوڑ گئی۔کیونکہ اس قانون کی غیر موجودگی میں تقریباً پونے چودہ لاکھ گھریلو ڈرائیورز پر سالانہ چوبیس ارب ریال کا صرفہ ہوتا ہے۔اور بہت سے کنبے یہ اضافی خرچہ بمشکل برداشت کر پاتے ہیں۔

ریاض کی ایک ڈاکٹر میسون الحمدی نے ایک اخبار کو تاثرات ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ یہ بہت قیمتی آزادی ہے۔میں سمجھ سکتی ہوں کہ بہت سے لوگوں کو شروع شروع میں خواتین کو تنہا ڈرائیونگ کرتے دیکھ کر عجیب سا لگے گا لیکن جب وہ دیکھیں گے کہ ایک ماں کو اپنے بچے اسکول تک لانے لے جانے اور سودا سلف کے لیے مارکیٹ تک جانے میں کتنی سہولت ہوگئی ہے تو عادی ہو جائیں گے۔ جہاں تک مخالفت کرنے والوں کا معاملہ ہے تو جب پہلی بار ڈش انٹینا آیا تو ان پر پتھر پھینکے جاتے تھے۔اب وہی لوگ ڈش انٹینا بیچ رہے ہیں۔

علما کی سرکاری کونسل نے خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دینے کے شاہی فرمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اجازت خلافِ شرع نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔