ترک پہلی بار پاکستان میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں


پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والے ایک ترک خاندان کا تا حال کوئی سراغ نہیں مل پایا ہے اور اس واقعے سے خوفزدہ ہونے والے ان کے دیگر ساتھی ترک باشندوں نے پاکستانی حکومت اور عوام سے مدد کی اپیل کی ہے۔

کم عمر بچوں کے ہمراہ ترک مرد اور خواتین نے جمعہ کے روز لاہور پریس کلب میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے منگل کی رات مبینہ طور پر اغوا ہونے والے کچماز خاندان کی گمشدگی کے خلاف احتجاج کیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق پاک ترک سکول کے چند سابق پاکستانی اساتذہ اور طالبِ علم بھی ان کے ہمراہ تھے۔

خیال رہے کہ منگل کی رات پاک ترک سکولوں کے سابق ڈائریکٹر مسعود کچماز کو ان کی اہلیہ اور دو کم سِن بیٹیوں سمیت مبینہ طور پر واپڈا ٹاؤن کے علاقے میں ان کے گھر سے زبردستی منہ پر کپڑے لمیٹ کر اغوا کر لیا گیا تھا۔

واقعے کے عینی شاہد اور مسعود کچماز کے ہمسایہ فاتح اوج نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مسعود اور ان کے خاندان کو سادہ لباس میں ملبوس دس مرد اور پانچ خواتین نے ان کے کرایے کے مکان سے اٹھایا تھا اور کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔

احتجاج کرنے والوں میں مسعود کچماز کی ایک بیٹی کی سکول کی ہم جماعت نِبل نوین توسن نے اردو زبان میں اپنی دوست اور ان کے خاندان والوں کی بازیابی کے لیے اپیل کی۔

’مِس مسعود (مسعود کچماز کی اہلیہ) تو ایسا سمجھتی تھیں جیسے پاکستان ان کا اپنا ملک ہے، اور آپ لوگ ان کو اٹھا کر لے گئے۔ یہ ناانصافی ہے۔‘ ان کا مخاطب کون تھا یہ شاید انہیں بھی نہیں معلوم تھا۔

تاہم احتجاجی پوسٹر تھامے دیگر بچوں اور خواتین میں گھری نِبل نے آبدیدہ آواز میں پاکستان کے عوام اور حکومت کو مخاطب ہو کر مدد کی اپیل کی۔

’اگر انہیں اس وقت ترکی بھیج دیا گیا تو ان کے ساتھ کیا ہو گا یہ سوچ کر مجھے خوف آتا ہے۔ وہاں کی تو جیلیں بہت سخت ہیں۔‘

اردو ہی میں اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک ترکی کہ بارے میں تو نہیں معلوم کہ وہ کیسا ہو گا یا وہاں لوگ کیسے ہیں کیونکہ ان کی زیادہ عمر پاکستان میں گزری ہے تاہم پاکستان کے لوگوں کے بارے میں وہ جانتی ہیں کہ وہ اچھے لوگ ہیں۔

کچماز خاندان کے دیگر دوستوں نے بھی ملے جلے الفاظ میں اور جذبات کے ساتھ ان کی خیریت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا اور حکومتِ پاکستان سے اپیل کی کہ انہیں ترکی نہ بھیجا جائے۔

تاہم ساتھ ہی احتجاج کرنے والے ترک باشندوں کے الفاظ میں ان کہے وہ خدشات تھے جن کا اظہار مسعود کچماز کے ایک دیرینہ دوست اور سابقہ پڑوسی سعد اللہ بیاضیت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کیا۔

’کیا معلوم اگلی باری کس کی ہو گی؟ ہو سکتا ہے جبری گمشدگی کا کوئی سلسلہ ہو جس کا آغاز مسعود کچماز کے خاندان سے ہوا ہو؟‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ مسعود کچماز کو گزشتہ کئی برس سے جانتے تھے۔ وہ محض ایک استاد اور معلم تھے جو پاکستان میں تعلیم کے لیے کام کر رہے تھے۔ ان کے حوالے سے یہ تاثر دینا غلط ہے کہ وہ گلان تحریک کے حوالے سے پاکستان میں کام کر رہے تھے۔

’انہوں نہ کبھی کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ اس کے باوجود گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان کی ایجنسیوں کے اہلکار متعدد بار ان سے پوچھ گچھ کر چکے تھے، جس پر کبھی کبھار وہ کوفت کا اظہار بھی کرتے تھے۔ تاہم ان کے خلاف غیر قانونی کام میں ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔‘

یاد رہے کہ ترکی میں گزشتہ برس ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کہ بعد ترکی کی درخواست پر پاکستان میں قائم پاک ترک سکولوں کو نومبر میں بند کر دیا گیا تھا جبکہ وہاں کام کرنے والے ترک باشندوں کے ویزے منسوخ کر کے انہیں ملک چھوڑنے کو کہا گیا تھا۔

ترکی میں صدر طیب اردگان کی حکومت ناکام فوجی بغاوت کا ذمہ دار فتح گولن کو قرار دیتی ہے۔ تاہم مسعود کچماز اور ان کے کئی ساتھیوں نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یعنی یو این ایچ سی آر سے پاکستان میں پناہ حاصل کرنے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر لیا تھا جس کے تحت وہ پاکستان میں قیام پذیر تھے۔

اس سرٹیفیکیٹ تجدیدرواں برس نومبر میں ہونا تھی۔

سعد الہہ بیاضیت کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ 20 برس سے پاکستان میں رہائش پزیر ہیں۔ کبھی ان کو سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ ‘بیس برس میں پہلی بار پاکستان میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہوں۔’

ان کا کہنا تھا کہ کچماز خاندان کے ساتھ جو ہوا ان کو ڈر ہے کہ ان کے ساتھ یا ان کے باقی ساتھیوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کو ترکی بھیجے جانے کا مطلب ہے کہ انہیں جیل بھیجا جا رہا ہے۔ ‘ہمارے جو ساتھی اس سے قبل ترکی گئے ان کے ساتھ کیا ہوا؟ وہ سیدھے پکڑ کر جیل میں ڈال دیے گئے۔’

ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی علاقے کی پولیس کے پاس بھی گئے مگر وہاں ان کی شنوائی نہیں ہوئی۔ تاہم وکیل عاصمہ جہانگیر کے ذریعے ترک اساتذہ نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دے رکھی ہے جس کے جواب میں عدالت نے حکومت کو 6 نومبر تک کچماز خاندان کے حوالے سے معلومات مہیا کرنے اور ان کو ملک بدر نہ کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

پاکستان میں 1995 میں پاک ترک فاؤنڈیشن کے تحت بننے والے پاک ترک سکول اور کالجز کے 28 کیمپس ہیں اور تقریباً 11 ہزار بچے یہاں زیر تعلیم ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 597 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp