جمہوری ثقافت میں جنسی آزادی کا کردار (1)


گذشتہ ہفتے مجھے گجرات یونیورسٹی میں حاضری کا اعزاز ملا۔ دریائے چناب کے مغربی کنارے پر واقع گجرات یونیورسٹی ایک صوفی درویش حافظ حیات کی درگاہ کے احاطے میں واقع ہے۔ محمد حسن معراج کی کتاب بیونڈ آور ڈگریز آف سیپریشن Beyond Our Degrees of Separation  کی تقریب رونمائی تھی۔ مختصر، بھرپور اور بامعنی تقریب تھی۔ نشست کے اختتام پر ایک خاتون نے آگے بڑھ کر ایک سوال کیا۔ سوال میں اس قدر اخلاص تھا کہ مختصر طور پر یہی عرض کی کہ آپ کے نقطہ نظر کی تائید ظفر اللہ خان کاکڑ ایک تحریر میں کر چکے ہیں، یہ تحریر ہم سب پر شائع ہو چکی ہے، میں اپنا نقطہ نظر لکھ کر پیش کروں گا۔ سوال کرنے والی محترم استاد پروفیسر ثوبیہ عابد تھیں۔ صحافت اور ابلاغیات کی استاد ہیں۔ عزیز دوست زاہد بلال کی شریک حیات ہیں۔ محترم زاہد بلال بھی اسی جامعہ میں استاد کے درجے پر فائز ہیں۔ ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔ سوال یہ تھا کہ “ہم سب” میں نہایت سنجیدہ علمی مباحث کے عین بیچ میں نیم فحش تصاویر اور سوقیانہ موضوعات کیوں در آتے ہیں؟ سنجیدہ سوال ہے، سنجیدگی سے جواب دینا چاہیے۔ اس ضمن میں درج ذیل نکات میری دانست میں قابل بحث ہیں۔

کیا جنس ایک غیر سنجیدہ موضوع ہے؟ کیا جنس سنجیدہ بحث مباحثے کا مناسب موضوع ہے؟

کیا ادب اور فنون عالیہ سے جنس کو خارج کر دینا چاہئیے؟

انسانی زندگی میں جنسی موضوعات کے لیے کیا جگہ ہے؟

فحاشی کیا ہے؟ فحاشی اور عریانی میں کیا فرق ہے؟

کیا مستور ثقافت اخفا اور اغماض کے پردے میں دوعملی اور منافقت کا راستہ کھولتی ہے؟

کیا انسانی جسم باعث شرم ہے؟

شرم اور ننگ کی حدود کیا ہیں؟

کیا جنسی پیچیدگیاں انسانی زندگی کا حصہ ہیں؟

کیا مکالمے اور تحقیق کے بغیر انسانی زندگی کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں؟

بیان، اغماض، تسلیم اور تردید کے زاویے تصویر میں کیسے بٹھائے جائیں کہ زندگی کا جو مختصر وقفہ ہمارے نصیب میں آیا ہے اس میں معنی بھرا جا سکے؟

ان سب سوالات میں بظاہر گم شدہ سوال یہ ہے کہ جنسی آزادی کی حدود کا جمہوری معاشرے کی دیگر آزادیوں کے ساتھ رشتہ کیا ہے۔

ہم معاشرے میں کسی بھی آزادی پر بات شروع کرتے ہیں تو فوری رد عمل یہ ملتا ہے کہ مادر پدر آزادی تو کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ آزادی کی حدود تو بہرحال طے کرنا ہوں گی۔ نیز یہ کہ فرض حقوق کے ساتھ بندھا ہے۔ ذمہ داری قبول کیے بغیر حق کیسے مانگا جا سکتا ہے۔ یہ بحث کسی حد تک کچھ بنیادی اصطلاحات کو غلط ملط کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ آزادی فی الحقیقت ایک دائرہ کھینچتی ہے۔ اس دائرے کے اندر انسان انتخاب کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس دائرے کی حدود دراصل اس سرحد کو ظاہر کرتی ہیں جہاں اس آزادی سے تجاوز دوسروں کی آزادی میں مزاحم ہوتا ہے۔ جنسی آزادی کے ضمن میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ ہمیں اپنے جسم پر اختیار ہے، باہم رضامندی سے جسم کی لذت کشید کرنا ایک مثبت قدر ہے۔ انسانی جسم جائز بھی ہے، حقیقت بھی ہے اور کائنات کے مجموعی حسن کا حصہ بھی ہے۔ جنس کا تقاضا جسم سے بندھا ہے۔ جسم کا احترام کیا جائے گا تو جنس کا بھی احترام کرنا ہو گا۔ احترام اور چیز ہے، انکار ایک بالکل مختلف بات ہے۔ اور اس حقیقت کو دوسروں کی ذات پر اختیار اور جبر کا ذریعہ بنانا سرے سے الگ معاملہ ہے۔

انسان خوبصورت ہے۔ انسان بدصورت نہیں ہوتے۔ انسانی جسم قد، کاٹھ، جلد کے رنگ، بالوں کی بناوٹ اور اعضا کے انفرادی اختلاف سے قطع نظر ایک حسین چیز ہے۔ انسانوں کے حسن کا تعلق ان کے عورت یا مرد ہونے سے نہیں۔ حسن کو مرد یا عورت سے منسوب کرنا جسمانی خصوصیات کی بنیاد پر اخلاقیات کی اقدار استوار کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح جنس کو مرد یا عورت کے نقطہ نظر سے دیکھنا بھی بنیادی انسانی احترام کے منافی ہے۔ جنس ایک غیر ضروری سرگرمی نہیں بلکہ بھوک، پیاس، علاج، تحفظ کی طرح ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ جنس سے انکار اور جنس پر ناجائز پابندیاں معاشرے میں ہر طرح کے استحصال اور ناانصافی کا راستہ کھولتی ہیں۔

انسان کی ذات کا احترام انسان کے جسم کے احترام سے بندھا ہوا ہے۔ فرد کے احترام کا تقاضا ہے کہ فرد کے جسم کا بھی احترام کیا جائے۔ انسانی جسم بازار کی جنس نہیں ہے۔ انسان غلامی کے عہد سے آگے نکل آیا ہے۔ سب انسان رتبے، حقوق اور صلاحیت میں برابر ہیں۔ سب انسان جنسی ضروریات رکھتے ہیں۔ اگر کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو نقصان نہ پہنچائے تو اسے اپنے جسم سے خوشی پانے کا مکمل حق ہے۔ معاشرے کا اختیار صرف اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی شخص اپنی جنسی ضرورت کے لئے کسی دوسرے انسان کو نقصان نہ پہنچائے، اس کے احترام کو پامال نہ کرے، اس کی آزادی میں مداخلت نہ کرے۔

انسانی جسم اپنے تقاضے رکھتا ہے لیکن ہم ان تقاضوں کو دوسروں پر مسلط کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ ہم اگر تشدد کے ذریعے اپنی جنسی ضروریات پوری کرنا چاہتے ہیں تو یہ آزادی سے آگے نکل کر جرم کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔ تشدد سے مراد کیا ہے؟ دوسرے کو مجبور کرنا۔ دوسرے انسانوں کو جسمانی تکلیف پہنچا کر بھی کسی امر پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان کی جائز ضروریات کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا بھی تشدد میں شمار کی جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی افسر کا اپنے ماتحت کو لالچ دینا کہ جنسی مراعات کے نتیجے میں پیشہ ورانہ ترقی دی جائے گی یا دوسری صورت میں نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ یہ تشدد ہے۔ خوراک، لباس، سر پہ چھت، سب انسانوں کی ضرورت ہے۔ ان ضروریات کے بدلے میں کسی سے جنسی فائدہ اٹھانا استحصال ہے۔ ایک ماں کو یہ دھمکی دینا کہ اسے جنسی استحصال سے انکار کرنے پر اپنے بچوں سے دور کر دیا جائے گا، جنسی تشدد کی ایک صورت ہے۔ ایسا جنسی تعلق جو خوف، لالچ، دھمکی یا مجبوری کے تحت قائم کیا جائے وہ دو انسانوں کے درمیان برابری، احترام اور باہم محبت پر استوار نہیں ہوتا۔ ایسا ہر تعلق جنسی آزادی کے نام پر حیوانیت کا اظہار ہے۔ مجبوری، خوف اور لالچ کے تحت قائم کئے جانے والے جنسی تعلق سے انسانی زندگی میں خوشی کے بجائے بے بسی، بے گانگی، خوف اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہئیے کہ ہماری دنیا میں جنسی تعلق کی کون سی صورتیں استحصال پر مبنی ہیں اور ان کے نتیجے میں کتنی خوشیاں برباد ہوتی ہیں اور کون سے دکھ پیدا ہوتے ہیں۔

کچھ افراد کا موقف ہے (اور میں اس موقف سے اتفاق رکھتا ہوں) کہ جنسی تفصیلات سے لاعلمی بذات خود جنسی استحصال کا راستہ کھولتی ہے۔ یہ مفروضہ خوش فہمیوں کا بے بنیاد قلعہ ہے کہ سب انسان جبلی طور پر جنسی معاملات کو سمجھتے ہیں۔ ہر علمی موضوع کی طرح جنس بھی ایک نیم تاریک، نیم روشن اور مزید تحقیق و دریافت کے لیے کھلا منطقہ ہے۔ یہ عجیب و غریب خیال ہے کہ ڈیڑھ سو برس پہلے انسان بدن میں دل کا بنیادی منصب یعنی صاف خون کو جسم کے دوسرے حصوں تک بھیجنا تک تو ہم نہیں جانتے تھے۔ خون کے مختلف گروپوں سے آگاہ نہیں تھے۔ ہوا میں موجود آکسیجن اور خون میں موجود ہیموگلوبن کا رشتہ نہیں جانتے تھے لیکن یہ کہ جنس کے بارے میں سب حقائق انسانوں کو معلوم تھے، نیز یہ کہ وہ یہ فیصلہ بھی کر سکتے تھے کہ انہیں اور ان کی آنے والی نسلوں کو جنس کے بارے میں کیا معلوم ہونا چاہئیے اور کن معاملات سے بے خبر رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ سوچ بذات خود علم کو ایک جامد اور مستقل مظہر کے طور پہ فرض کرتی ہے۔ یعنی ہم گلی کوچوں میں گندے پانی کے نکاس کا بندوبست تبدیل کر سکتے ہیں، دم توڑتے ہوئے انسان کو مصنوعی طور پر آکسیجن اور خون لگا کر جان بچانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، لیکن انسانوں کے دل و دماغ میں جنس کے بارے میں چھائی دھند پر غور و فکر کرنے سے ہماری سوچ میں گندگی در آتی ہے؟ کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم گندگی کے مفہوم ہی کو پورا نہیں سمجھتے؟

(جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔