اک تیرے نام کی خاطر حسین


کسی کی یاد کو زندہ جاوید رکھنے کا حق یہ ہے کہ اس کے مشن کو جاری رکھا جائے، امام حسین علیہ سلام کا مشن صرف یزیدی لشکر کی شکست نہیں تھا، وہ یزیدیت سے منکر تھے، وہ ان اخلاقی روایات کو جاری رکھنا چاہتے تھے جس کا مظہر دین اسلام ہے، یعنی برابری، احسان، امر بالمعروف، ہمدردی، درد دل اور صلہ رحمی۔

یہ اس حریت کے امام کا درس ہی ہے کہ ایام محرم میں سبیل امام حسین علیہ اسلام سے شروع ہونے والا سلسلہ اب دنیا کی ایک بڑی امدادی و خیراتی مہم میں بدل گیا ہے۔ جو احباب کربلا معلا کی زیارت کرچکے جانتے ہیں کہ اس شہر کی سڑکوں پر آج بھی مولا حسین کے روضے کی زیارت کو آنے والے زائرین کو اپنے کھانے پینے کی فکر نہیں کرنی پڑتی، اک نام حسین کی خاطر وہاں کے مقامی اپنی پلکیں فرش راہ کردیتے ہیں، صدیاں گزرگئیں واقعہ کربلا کو، مگر آج بھی یہ نام حسین علیہالسلام ہمارے اندر کی آواز حق کو اپنی جانب کھینچتا ہے، آج بھی حریت افکار، خداشناسی، اصلاح انسان، امن و محبت کا علمبردار، اورجبر و استبداد کے خلاف سینہ سپر ہونے کا استعارہ نام حسین علیہ اسلام ہے۔

اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں حسین شناسی مہم اپنے منفرد انداز سے چل رہی ہے، اس مہم کا مقصد نہ مذہبی پرچار ہے نہ ہی کوئی منافع۔ یہ مہم کسی ایک تنظیم یا مذہبی گروہ کی مرہون منت بھی نہیں بلکہ یہ ایک ٹرینڈ ہے۔ اس سوشل کیمپین کا نعرہ ” انسانیت ہی حسینیت ہے“ ایسا دل میں اترتا ہے کہ پھر چاہے کوئی مسلم ہو یا غیر مسلم اس خدمت خلق کی مہم کے ذریعے حسینی قافلے میں شامل ہوجاتا ہے۔

قارئین کیسا معتبرو محترم ہے یہ نام حسین علیہ السلام کہ جس کی یاد میں لوگ آج بھی خدمت انسانیت کو مقصد حیات بنارہے ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں سے قحط سالی کا شکار افریقی ممالک میں پانی کے کنوئیں کھود نے کا کام ہو، یا پھر ترقی کے صف میں سب سے آگے امریکہ میں مقیم بے گھر افراد کو مفت کھانا کھلانے کی مہم، امام حسین علیہ السلام کے نام سے جاری مہم کے رضاکار بے لوث خدمات سرانجام دے رہے ہیں، آپ کو یہ بات جان کر اور بھی تسکین ہوگی کہ حسین آگاہی مہم جن بھی ممالک میں چلائی جارہی ہے، رضاکار ہر مذہب ہر مسلک ہر قوم سے اس پیغام امن کی جانب مائل ہورہے ہیں، اگرچہ اکثریت ان مسلمان طلباء و طالبات کی ہے جو کہ امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ میں مقیم ہیں مگر ساتھ دینے والوں میں مقامی امریکی یا برطانوی بھی کم نہیں۔

یہ نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے کیمپئن چلاتے ہیں، کبھی امن واک کبھی حسین شناسی میراتھون ریس کا انعقاد کرکے فنڈز اکھٹے کرتے ہیں۔ ان فنڈز سے بے گھر افراد کو شیلٹرز، ان کے بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ جنگ زدہ ممالک کے وہ بچے جنہیں جان بچانے کے لیے سرجری کی ضرورت ہے، وہ بھی ان ہی فنڈز سے زندگی کی طرف واپس آتے ہیں۔ آپ ان مغربی ممالک کی شاہراہوں پر یہاں وہاں لیٹے بے گھر یا عقل سے بیگانہ افراد کو فٹ پاتھ پر کسی پروفیشنل حجام کے ہاتھوں حلیہ ٹھیک ہوتا دیکھ لیں تو یہ بھی جان لیں کہ ان ممالک میں اس ٹرینڈ کو متعارف کرنے کا سہرا بھی انہی حسینی والنٹیرز کے سر ہے۔

ہمارے قریبی رشتے دار جو کہ لندن میں مقیم ہیں، گذشتہ سال سے کربلا ملین ٹری پراجیکٹ میں مشغول ہیں جن کا مقصد بصرہ و نجف تا کربلا پیدل سفر کرنے والے زائرین کو راستے بھر گھنے درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرنا ہے، یہ ہزار ہا درخت کربلا کی مقامی حکومتی انتظامیہ کی اجازت سے لگائے جارہے ہیں۔
دنیا بھر میں جاری حسین فلاحی مہم کا سب سے اہم نکتہ تو یہ ہے کہ اس کیمپین کا فائدہ صرف مسلمان کمیونٹی کو نہیں ہوتا، مدد بلا امتیاز مذہب کی جاتی ہے، یہی درس کربلا کا ہے۔

خاک کربلا پر انسانی فلاح و اصلاح کی خاطر نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول سید الشہدا حسین علیہ السلام کا خون بہا، آج خون کے عطیات جمع کرنے کے لیے دنیا کی کامیاب ترین سماجی مہم کا اہم محرک نام حسین علیہ السلام ہے۔ پلازما ٹرانسفیوژن کے اس عمل میں اب غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں مہم کا حصہ بن رہے ہیں، جہاں ایک ایک قطرہ خون کسی کی جان بچانے کا سامان ہوتا ہے۔

حسین علیہ اسلام سے عشق کرنے والے جب امام عالی مقام کی تین روز کی بھوک اور پیاس کو یاد کرتے ہیں تو سبیل حسین لگائی جاتی ہیں، حسین شناسی مہم میں صاف پانی اور کھانا ان نادار افراد کو کھلایا جاتا ہے جو کچرے سے رزق تلاشتے ہیں۔

صد شکر خدائے بزرگ و برتر کہ ہم اس قوم سے ہیں جو پوری دنیا میں خدمت خلق اور دریا دلی میں بے مثال ہے، بے انتہا وسائل کے باوجود ترقی یافتہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس کے محض ایک سماجی کارکن کی قائم کردہ ایمبولینس سروس ایدھی ایمبولینس کا مقابلہ کرسکے، ہماری قوم بُرا وقت یا ضرورت پڑنے پر اپنے پڑوسیوں کے لیے گھروں کے دروازے کھولدیتی ہے، ہم ہی اس قافلہ حسینی کے علمبردار ہیں کہ جو بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب اپنے مستحق ہم وطنوں احسان کرتے ہیں، کراچی سے خیبر تک ہر شہر کی معروف شاہراہیں گواہ ہیں کہ یہاں بچھے مفت دسترخوان کسی کو بھوکا نہیں سونے دیتے، اپنے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آل اور ان کےاصحاب کی محبت میں اپنے خزانے مستحقین میں لٹادینے کا یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور رہے گا۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عفت حسن رضوی

نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کاریسپانڈنٹ عفت حسن رضوی، بلاگر اور کالم نگار ہیں، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔ انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں @IffatHasanRizvi

iffat-hasan-rizvi has 22 posts and counting.See all posts by iffat-hasan-rizvi