فیض کرکٹر بننا چاہتے تھے


ممتاز شاعر فیض احمد فیض کو بچپن میں کرکٹ کا جنون تھا۔ اس کھیل کے سوا کسی اور تفریح نے ان کو اپنی طرف نہ کھینچا ۔

ان کے بقول ’’ بچپن میں سوائے کرکٹ کھیلنے کے اور باقی جو لہو ولعب ہیں، جس کا ہمیں آج تک دکھ ہے، ہم اس میں شریک نہیں ہوئے۔‘‘ ان کے یہاں باقاعدہ کرکٹر بننے کی خواہش بھی رہی جس کے پورے نہ ہونے کا ان کو پچھتاوا رہا۔ اپنی اس نارسائی کا انھوں نے بارہا ذکر کیا۔ ہم نے باکمال شاعر کے مختلف انٹرویوز سے وہ ٹکڑے چنے ہیں جن میں کرکٹ سے ان کی محبت ظاہر ہوتی ہے۔ فیض کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں جب کرکٹ میں آج کے مقابلے میں پیسا نہ ہونے کے برابر اور گلیمر بھی زیادہ نہ تھا، تب بھی اس کھیل کا جنون زوروں پر تھا۔

ممتاز اخبار نویس اور دانش ور آئی اے رحمان ، فیض کے قریبی دوست ہیں،انھوں نے ایک انگریزی ماہنامہ کے لیے انٹرویو میں پوچھا

’’ کوئی ایسی خواہش جو پوری نہ ہوئی ہو اور اس کے نتیجے میں مایوسی؟‘‘

اس سوال پر فیض نے جواب دیا ’’ کچھ ایسی خواہشات ہیں، بچپن میں کرکٹر بننے کی خواہش تھی۔ کبھی کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔‘‘

فیض احمد فیض بی بی سی سٹوڈیو میں

معروف شاعر افتخار عارف نے ایک مکالمے میں، جس میں ان کے ساتھ احمد فراز بھی شریک تھے، فیض سے پوچھا : ’’عام طور سے آپ کے بارے میں ایک تاثریہ ہے کہ آپ نے انتہائی بھرپور زندگی گزاری ہے اور بڑی کامیاب زندگی گزاری ہے۔ کبھی کوئی پچھتاوا بھی آپ کو ہوا ہوگا؟‘‘ اس پر فیض نے کہا ’’ایک پچھتاوا تو ہے کہ جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے تو ہماری    Ambition یہ تھی کہ ہم بڑے کرکٹر بنیں۔ ابھی تک کبھی کبھی ہم خواب میں دیکھتے ہیں کہ ہم بہت بڑے ٹیسٹ کرکٹر ہیں اور کرکٹ میچ کھیل رہے ہیں۔۔۔ ایک تو ہم نہیں بن سکے۔ یہ بہت بڑا پچھتاوا ہے۔‘‘

اس جواب پر احمد فراز نے لقمہ دیا ’’صاحب یہاں آپ سے تھوڑی سی عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر آپ کرکٹر بن بھی جاتے تو پانچ سات سال تک آپ کا جو خواب تھا، وہ حقیقت کا روپ اختیار کر لیتا۔ بعد میں کرکٹ سے ریٹائر ہو کر تو ادھر ہی آنا تھا آپ کو۔‘‘

فیض:’’ یہ تو دوسری بات ہے نا۔‘‘

ایک دفعہ کرشن گولڈ نے ان سے پوچھا:

ابھی آپ نے کہا کہ کسی زمانے میں تک بندی کیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں کبھی خیال آیا تھا کہ آپ شاعر بنیں گے؟

فیض :کبھی بھی نہیں، اس وقت تو ہم صرف کرکٹر بننا چاہتے تھے۔ اپنی خواہشات کا دائرہ یہاں تک محدود تھا۔

حسن رضوی نے سوال کیا’’ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں کے بارے میں آپ کا خیال؟

’’میچ کی کمنٹری سنتے ہیں یا میچ دیکھتے ہیں، اس سے زیادہ کوئی رائے نہیں۔‘‘

ایک اور جگہ خیالات کا اظہار یوں ہوا’’ شروع میں خیال ہوا کہ ہم بڑے کرکٹر بن جائیں، کیونکہ لڑکپن سے کرکٹ کا شوق تھا اور بہت کھیل چکے تھے۔ پھر جی چاہا استاد بننا چاہیے۔ ریسرچ کرنے کا بہت شوق تھا۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہ بنی۔ ہم کرکٹر بنے، نہ نقاد اور نہ ریسرچ کیا۔ البتہ استاد ہو کر امرتسر چلے گئے۔‘‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔