مردوں میں جنسی کمزوری


مردوں‌ میں‌ جنسی کمزوری کی علامات اور ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کم ہونا جب دونوں مسائل موجود ہوں‌ تو اس کو اینڈوکرنالوجی کی زبان میں “میل ہائپوگونیڈزم” کہتے ہیں۔ یہ بہت لمبا چوڑا موضوع ہے جس پر ہزاروں کتابیں اور مضامین موجود ہیں۔ قارئین کو اپنی معلومات میں‌ اضافہ کرنے کے لیے اس دائرے میں ریسرچ جاری رکھنی چاہئیے۔ اس مضمون کو مکمل نہ سمجھا جائے۔

میل ہائپوگونیڈزم کے جن مریضوں‌ کو اینڈوکرائن کلینک میں‌ بھیجا جاتا ہے، ان کے تفصیلی انٹرویو، خون کے ٹیسٹ اور جسمانی معائنے کے بعد ہی مناسب تشخیص اور پھر اس کا علاج ممکن ہے۔ اگر کسی مسئلے کی وجہ سمجھنے کی کوشش نہ کی جائے اور اس پر بینڈ ایڈ لگا دیا جائے تو اس سے کچھ حل نہیں‌ ہوتا بلکہ وہی چھوٹا سا زخم ناسور میں‌ تبدیل ہوجاتا ہے۔ اینڈوکرائن کلینک سے سیکھے ہوئے کچھ اسباق کا ذکر کروں گی۔

کافی سارے نوجوان لڑکے جن میں‌ کوئی بیماری یا مسئلہ نہ بھی ہو تو وہ سمجھتے ہیں‌ کہ ان میں‌ ٹیسٹاسٹیرون کی کمی کی بیماری ہے۔ کچھ محض اپنے آپ کو باڈی بلڈر بنانے کے لئیے بھی ٹیسٹاسٹیرون پر ڈال دیتے ہیں۔ چونکہ میل ہائپوگونیڈزم کی کچھ علامات بہت عام ہیں‌ جیسے تھکن اور چڑچڑا پن یا ڈپریشن، اس لیے اگر کسی کو میل ہائپوگونیڈزم کی ایسی کوئی خاص علامات نہ ہوں‌ جیسا کہ جنسی خواہش ہی کا نہ ہونا یا ERECTILE DYSFUNCTION کا پرابلم تو ان مریضوں‌ میں‌ ٹیسٹاسٹیرون لیول بلاوجہ چیک کرنا ضروری نہیں‌ ہے۔ ہم اپنے کلینک میں‌ ان مریضوں‌ کے لئیے آدم سوال نامہ استعمال کرتے ہیں جس میں دس سوالات شامل ہیں۔

https://ppqkq3w1ely2s9kxh35rann1-wpengine.netdna-ssl.com/wp-content/uploads/2014/05/adam_questionnaire-2.pdf

دوسرا عام مسئلہ یہ دیکھتی ہوں‌ کہ پرائمری کیئر (عام ڈاکٹر) کبھی شام میں‌ ٹیسٹاسٹیرون چیک کرلیں گے کبھی دوپہر میں‌، حالانکہ ٹیسٹاسٹیرون ہارمون کا ایک سرکیڈین ردھم ہے۔ وہ صبح سویرے سب سے زیادہ ہوتا ہے اور جیسے جیسے دن ڈھلتا جائے، ٹیسٹاسٹیرون کم ہوتا جاتا ہے۔ کچھ مریض بھیجے گئے اور ان کا صبح آٹھ بچے لیول چیک کیا تو نارمل آیا۔ ایسے افراد کی غلط تشخیص ہوجاتی ہے اور ان کو ٹیسٹاسٹیرون دینا شروع کردیا جاتا ہے جس کی ان کو ضرورت نہیں‌ تھی بلکہ اس سے آگے چل کر ان کے لیے دیگر مسائل کھڑے ہوں گے۔

ایک اور اہم بات یہ کہ اپنے آپ کو دوسروں‌ کے ساتھ نہیں‌ ناپنا چاہئیے۔ جو ریفرنس ویلیوز لیبارٹری نے سیٹ کی ہے وہ عام صحت مند افراد کے اوسط لیولز پر مبنی ہوتی ہے اور زیادہ تر لوگ درمیان میں‌ ہوتے ہیں۔ کچھ مریض‌ آکر کہتے ہیں کہ نارمل تو نو سو تک ہے اور میرا چھ سو کیوں‌ ہے؟ وہ اس لئے کہ ہر انسان مختلف ہے۔ نقلی طریقے سے نو سو بنا کر فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچے گا۔

اسی بارے میں: ۔  خواجہ سرا، کروموسوم کا کھیل اور جنسی دفعات

سب سے پہلے پڑھنے والے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں‌ کہ ٹیسٹاسٹیرون ہارمون ری پروڈکشن یعنی بچے پیدا کرنے سے متعلق ہے اس لئیے نارمل انسانی ایولیوشن کے پروسس سے ان لوگوں‌ میں‌ ٹیسٹاسٹیرون کم ہوجاتا ہے جن کے حالات کسی بھی وجہ سے فیملی شروع کرنے کے لئیے مناسب نہ ہوں۔ ان وجوہات میں‌ ڈپریشن، بے چینی، کوئی سنجیدہ بیماری جیسے کہ کینسر، دل کا دورہ، ایکسیڈنٹ یا اسٹروک، نئی نوکری کا ٹینشن یا ایک جگہ سے دوسری نئی جگہ شفٹ ہوجانا شامل ہیں۔ ایک صاحب مہینوں شدید بیمار تھے اور وہ ہسپتال میں‌ داخل تھے جہاں‌ کسی نے ان کا ٹیسٹاسٹیرون چیک کیا اور وہ کم آیا۔ انہیں میں‌ نے یہی کہا تھا کہ یہ متوقع بات ہے اور وہ اپنی صحت بہتر ہونے کا انتظار کریں‌ تو یہ خود بخود ٹھیک ہوجائے گا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ ایک عارضی بیماری کو مستقل بیماری میں‌ تبدیل کرنا عقلمندی نہیں ہے۔

ایک دلچسپ مشاہدہ یہ کیا کہ میرے ایسے مریض جو نئے باپ تھے، ان میں ٹیسٹاسٹرون لیول کم ہوگیا۔ اپنی بیویوں‌ کے ساتھ ان میں‌ بھی ہارمونل تبدیلیاں‌ پیدا ہورہی تھیں۔ کئی اسٹڈیز سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو مرد خواتین کے قریب ہوں‌ ان میں‌ ٹیسٹاسٹیرون خود بخود کم ہوجاتا ہے اور وہ جھگڑالو کے بجائے نرم مزاج بن جاتے ہیں۔

اکثر مریضوں کو آسان طریقے سے بات سمجھانے کے لیے کہتی ہوں‌ کہ اگر کوئی روزانہ میرے گھر آکر صفائی کرے تو کیا میں‌ خود اپنا گھر صاف کروں‌ گی؟ نہیں‌! وہ جواب میں‌ کہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح‌ جب آپ باہر سے ٹیسٹاسٹیرون لینا شروع کریں‌ تو اپنا جسم ٹیسٹاسٹیرون بنانا چھوڑ دیتا ہے جو کہ اسپرم بنانے کے لئیے ضروری ہے۔ اس لئیے جو نوجوان طویل عرصے تک زیادہ ڈوز کے ٹیسٹاسٹیرون کا استعمال کریں، وہ نہ صرف تمام زندگی کے لئیے اس پر منحصر ہوسکتے ہیں‌ بلکہ ان میں‌ انفرٹیلیٹی یعنی بچے نہ پیدا کر سکنے کا مسئلہ بھی پیدا ہوگا۔

پچوٹری گلینڈ جو دماغ کے نیچے ہوتا ہے وہ ماسٹر گلینڈ ہے جو آگے والے حصے سے پانچ اور پیچھے والے حصے سے دو اہم ہارمون بناتا ہے۔ یہ ہارمون دیگر اعضاّ پر اثرانداز ہوتے ہیں‌ اور جسم ایک توازن میں‌ کام کرتا ہے۔

جن مریضوں‌ کو آج تک ہمارے اینڈوکرائن کلینک میں‌ میل ہائپوگونیڈزم کی پرابلم کے ساتھ بھیجا گیا ان میں‌ مندرجہ ذیل مسائل تشخیص کیے گئے۔

1- ایسے نوجوان جو سڑک پر سے ٹیسٹاسٹیرون خرید کر استعمال کررہے تھے اور جب بند کیا تو اپنا لیول کم پایا گیا۔

2- نیند کی شدید کمی کا شکار یا سوتے میں‌ خراٹے مارنے کی بیماری کا شکار لوگ

اسی بارے میں: ۔  مدارس کے مائیکل جیکسن مولوی

3- وہ لوگ جو رات میں‌ کام کرتے ہیں اور دن میں سوتے ہیں، ان کے رات دن بدل جاتے ہیں اور اسی لحاظ سے مختلف ہارمون مختلف اوقات میں‌ چیک کرنے کی ضرورت ہوگی۔

4- ہیموکرومیٹوسس- وہ بیماری جو جینیاتی طور پر والدین سے منتقل ہوتی ہے۔ اس میں‌ فولاد جسم کے مختلف اعضاّ میں‌ جمع ہوجاتا ہے اور ان کو نقصان پہنچاتا ہے۔

5- کینسر یا کسی اور سنجیدہ بیماری کے مریض

6- ڈپریشن کے مریض

7- ذیابیطس کے مریض۔ ان مریضوں‌ میں‌ میل ہائپوگونیڈزم کی کئی وجوہات ہیں اور یہ الگ سے ایک بڑا موضوع ہے۔

8- انتہا سے بڑھ کر شراب نوشی یا سگریٹ نوشی

9- کچھ ڈپریشن اور دماغی بیماریوں‌ میں‌ استعمال کی جانے والی دواؤں کا سائڈ افیکٹ

10- پچوٹری گلینڈ کے ٹیومر

11- سوتے میں‌ خراٹے مارنے کی بیماری جس کو SLEEP APNOEA کہتے ہیں

12- بچپن میں‌ میزلز چھوت کی بیماری یا پیدائشی کروموزوم کی بیماریاں جیسے کہ کلائن فیلٹڑ سنڈروم یا کالمین سنڈروم اور دیگر بیماریاں۔

میل ہائپوگونیڈزم کا علاج:

جب ہم میل ہائپوگونیڈزم کی مناسب تشخیص کرلیں تو اس کا علاج شروع کیا جاتا ہے۔ جن مریضوں‌ میں‌ یہ کسی اور بیماری کی وجہ سے ہو تو ان پرائمری مسائل کو حل کرنے سے ہائیپوگونیڈزم خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی ایسی وجہ نہ ڈھونڈی جاسکے تو ٹیسٹاسٹیرون سے علاج شروع کرتے ہیں۔ ٹیسٹاسٹیرون کئی طرح سے‌ لیا جاسکتا ہے۔ انجیکشن کے ذریے یا پھر جلد پر لگانے والی کریم سے بھی۔ یہ علاج صرف ایک تجربہ کار معالج کی زیر نگرانی مناسب ہے تاکہ وہ خون کے ٹٰیسٹوں سے اس بات پر نظر رکھ سکیں‌ کہ مریضوں کو اس سے کوئی نقصان نہ پہنچے۔ ان مسائل میں‌ مندرجہ ذیل شامل ہیں۔

1- متشدد رویہ اور موڈ خراب ہونا

2- سوتے میں‌ خراٹے لینے کی بیماری کا بگڑ جانا

3- خون کے سرخ جسیموں‌ کا اتنا زیادہ ہوجانا کہ وہ خون کی چھوٹی نالیوں‌ کو بلاک کرنے لگیں۔

4- اگر کسی کو پراسٹیٹ کا کینسر ہو تو وہ بگڑ سکتا ہے۔

5- خواتین کی طرح‌ سینہ نکل آنا جسے گائناگوماسٹیا کہتے ہیں۔

آخر میں یہی کہوں‌ گی کہ اگر کسی مرض کو درست طریقے سے سمجھ کر اس کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو علاج کے نتیجے میں مرض بڑھنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔