واقعہ کربلا اور سُر کیڈارو


برصغیر کے عظیم صوفی شاعر حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی جنہوں نے ساری زندگی لوگوں کو انسانیت کا درس دیا ان کا کلام، شاہ جو رسالو کا سُر کیڈارو واقعہ کربلا کی رقت آمیز یادوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ سُر کیڈارو اہل عشق کے کارواں کے سردار کربلا حضرت امام حسین، ان کے اہل بیت اور جانثاروں پر ڈھائے گئے مظالم اور لازوال قربانی کی ایسی چھ داستانوں پر مشتمل ہے جس کو سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ سُر کیڈارو میں شہدا کربلا کے عشق حقیقی ،گھر لٹانے اور سر کٹانے کے سلیقے، حق و باطل کی جنگ اور میدان کربلا کی آپ بیتی کو بیان کیا گیا ہے۔ شاہ لطیف سر کیڈارو میں کہتے ہیں

ڈٹھو محرم ماہ سنکو شھزادن تھیو۔”

جاڑنیں ھک اللہ پان وڑندیوں جو کری”

(محرم نظر آگیا جو اپنے ساتھ ایک شہزادے کی نا قابل فراموش غمگین یادیں لے کر آیا ہے۔ صرف خدا راز شہادت سے آگاہ ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے)۔

“محرم موٹی آئیو آئیا تان امام ؛

مدینی جا جام مولا موں کی میڑئیں”

(محرم تو آگیا مگر امام تشریف نہیں لائے

اے والی مدینہ، خدارا مجھے شہدا کے ساتھ اکٹھے کر دو)۔

 محققین کہتے ہیں کہ شاہ لطیف نے واقعہ کربلا کو اپنے وجد تنہائی میں دیکھا اور بیان کیا ہے۔ سُر کیڈارو کے داستانوں میں واقعہ کربلا کا لافانی حال بیان کرتے ہوئے شاہ سائیں نے کہا کہ یہ عشق کی داستان ہے اور حقیقت میں یہ عشق الٰہی کا ثبوت ہے۔ شاہ سائیں نے سُر کیڈارو میں بیان کیا ہے کہ حسین پہ سختیاں دیکھ کرتمام انبیا زار زار روئے، فرشتے، آسمان، زمین روئے اور عرش پہ زلزلہ آ گیا کہ ہائے ہائے حسین چلے گئے۔

بھٹائی سُر کیڈارو میں فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسین کی جنگ تمام جہاں کے ساتھ امام حسن کی عظیم قربانی نے اپنے والدین کو اور اپنے آباؤ اجداد کو ایک عظیم الشان مرتبہ عطا کیا اور مخلوق خدا، انسان، فرشتے و جن اور حیوانات اماموں کے لیے روئے۔ پرندوں نے امام حسین کے دنیا سے تشریف لے جانے کی خبر سن کر خود کو زمین پر گرا دیا۔ بھٹائی سُر کیڈارو میں لکہتے ہیں کہ کربلا کے شہزادے! جہاد کے شیدائی ہیں، ان کو جان کی پرواہ نہیں۔

 شاہ لطیف بیان کرتے ہیں کہ جن مقدس ہستیوں نے اپنے قدم کبھی زمین پر نہ لگائے تھے، دشمنوں کی تلوار نے ان کے گھوڑوں کی زین کاٹ ڈالی جس کے باعث شہزادے زمین پر گر پڑے اور کربلا میں شھدا نے اپنی جانیں قربان کر دی۔ درحقیقت ان شھدا کا مقصد اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنا تھا اور شھدا کے شہادت کے بعد بہشت کی حوروں نے ان کی سہرابندی کی اور ہار پہنائے اور کربلا کی مقدس ہستیوں کو فردوس بریں میں خوش آمدید کہا گیا۔ شاہ سائین سُر کیڈارو میں کہتے ہیں کہ کربلا کا واقعہ سن کر تمہاری روتی آنکھوں سے شھدا کے لیے خون کیوں نہیں جاری ہوتا ہے۔ شاہ لطیف کا سُر کیڈارو حضرت امام حسین، امام حسن، اہلبیت،اور کربلا کے جانثاروں سے گہری محبت کا عکاس ہے۔ شاہ لطیف کے کلام پر تحقیق کرنے والے محققین کہتے ہیں کہ شاہ سائیں شھدا کربلا کے غم میں محرم الحرام کے 22 دن گہرے غم کی کیفیت میں چلے گئے تھے اور سُر کیڈارو کو سننے سنتے شاہ سائیں اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔

 آج بھی بھٹ شاہ میں بھٹائی سائیں کے فقیر اور ماننے والے محرم الحرام میں صرف سُر کیڈارو سنتے اور سناتے ہیں اور یہ روایت رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔

“حسن میر حسیں کی رنو ٹن ٹولن گھر ماڑھین جھنگ مروئین ابھن میں ملکن پکین پان پچاڑیو تہ لڈیو ھوت وجن الا شھزادن سوبون دئین سچا دھنڑی”۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔