بلوچستان کا پہناوا اور روایتی کھانے


 بلوچستان میں مختلف قومیں آباد ہیں اوران سب کے رسم و رواج اپنے اپنے حلقے میں الگ الگ حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلاً سندھیوں کی ثقافت لسبیلہ کی طرف سے بلوچستان میں داخل ہوئی تو کوئٹہ کی طرف پشتونوں کی ثقافت نے جنم لیا ۔سندھ اور پنجاب کی سرحدوں سے بھی ثقافت داخل ہوگئی گویا بلوچستان میں ثقافت میں متنوع ہے۔

آج سے دو ہزار سال قبل تجارتی قافلے برف پوش پہاڑوں کے سائے میں پگڈنڈیوں پر سفر کیا کرتے تھے، راستے انتہائی پر پیچ گھاٹیوں پر مشتمل ہوتے تھے۔انہی پتھروں پر چل کر لوگ تجارت کرتے تھے، ریشم کی تجارت کی غرض سے دور دور تک سفر کرتے تھے۔ اگر میں اپنے ماضی پہ نظر ڈالوں تو یہ نہیں پتا کہ میں کب ان پہاڑوں کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ میں نے جب پہلی مرتبہ پہاڑ دیکھا تو حیران رہ گیا کہ کیسے پیارے اللہ میاں نے ان کو میخوں کی طرح زمین ٹھونک رکھا ہے۔ اس وقت میں دسویں جماعت میں تھا۔میری ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ میں ان پہاڑوں کو پار کر کے انکے پیچھے جو دنیا آباد ہے وہ دیکھوں، ان کے رسم و رواج انکی ثقافت دیکھوں ؟
کیسے لوگ بستے ہیں ؟
اور کیسے ان کے ہاں کھانے پکائے جاتے ہیں؟
اور کیا کیا چیزیں کھاتے ہیں؟

جب میں نے پہلی مرتبہ کوئٹہ دیکھا تو سب کچھ بھول گیا کہ آخر ان میں اور ہم میں کچھ فرق نہیں ہے پہلی مرتبہ جب میں ان پہاڑوں کو پار کر کے اپنے الگ ثقافت کو دیکھا تو میں دنگ رہ گیا کہ اصل بات یہ تھی کہ ہر موسم بلوچستان میں رنگیلا ہوتا ہے۔ کہیں گرمی تو کہیں سردی کہیں بارش تو کہیں بادل اور کہیں بادل کا نام نشان نہیں۔ ہر موسم میں بلوچستان کی سر زمیں پہ گائے بھیڑ بکریاں اور اونٹ اور گدھے پر چا رہلادا ہوا ملے گا ۔ ان بلند چوٹیوں پہ ان جانور کو چراتے ہوئے چرواہے ملیں گے ۔نہ ان کو گرمی کی فکر نہ ان کو سردی کی فکر۔ اگر ان لوگوں کو کچھ فکر ہے تو ان کو اپنے جانوروں کے پیٹ کی آگ بجھانے کی۔

اسی بارے میں: ۔  یورپ میں اسلام اور مسلمانوں سے خوف

میرا بلوچستان ایسے ہے جیسے مسکراہٹ محبت اور حسین نطارے سب ایک ساتھ جمع کیئے ہوں۔ بلوچستان کی ثقافت دیکھنے والا ہر شخص داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ صوبہ بلوچستان دیگر صوبوں سے مختلف ہے ۔زیادہ پسماندہ ضرور مگر دل کا سب سے بڑا صوبہ سمجھا جاتا ہے۔جبکہ بلوچستان میں انگریزی سامراجی کے دور میں لگائے گئے ہزاروں میٹھے شہتوت کے درخت بلوچستان کے ٹھنڈے ٹھنڈے موسم میں اپنے جوبن پہ فصل دیتے ہے۔ ان کی فصل مقامی لوگ کم اور باہر کے لوگ زیادہ کھاتے ہیں۔ اسی طرح خشک فروٹ اور سیب کے باغات جگہ جگہ بلوچستان کا حسن دوبالا کرتے ہیں۔ بلوچستان کے سیب توپوری دنیا میں بہت مشہور ہے۔ بلوچستان میں دنیا کا گرم ترین علاقہ سبی ہے جوسخت گرمی کی وجہ سے دنیا میں شہرت حاصل کرچکا ہے۔ بلوچستان کے علاقے زیارت کی سردی بھی اپنی جگہ ایک اعلی مقام رکھتا ہے ۔

بلوچوں کی ثقافت میں سب سے زیادہ شلوار اور قمیض کو اہمیت دی جاتی ہے جبکہ شلوار قمیص کے ساتھ ایک اضافی چیز پگڑی( تراب) بھی ہے جسے بلوچستان کے باسی شوق سے پہنتے ہیں ۔تراب بلوچ صدیوں سے پہنتے ہوئے آرہے ہیں ۔اس کی ابتداء بلوچوں نے کب کی، یہ گوگل بھی نہیں بتا سکتا ۔ ہاں البتہ کچھ روایات میں کہ بلوچستان میں جب بلوچ ہجرت کرکے آئیں تو ترابی ساتھ لائے تھے۔

بلوچستان کی چپل بھی بہت مشہور ہے۔ بلوچی چپل اور نوروزی (چھبھٹ )چپل بہت پسند کی جاتی ہے جسے پہننے کے بعد چھ سے سات سال تک چلایا جاسکتا ہے ۔اسکا چمڑا ایران سے منگوایا جاتا ہے ۔ بلوچستان میں ہزارہ قوم کے بنائے ہوئے بوٹ ایسے ہیں جیسے لوہا ۔ک زندگی گزر جائے گی مگر بوٹ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے ۔

اسی بارے میں: ۔  میں نے جنس کیوں تبدیل کروائی؟

بلوچستان کی سر زمین کھانے کے حوالے سے بہت مشہور ہے ۔سردیوں کے موسم بلوچستان کی سجی ایسے ہیں جیسے جنت کا میوہ ۔ اس سجی کو سجانے کیلئے ایک بڑے دائرہ میں الاؤ جلتے ہیں جن کے گرد لوگ بیٹھ کے حرارتلیتے اور سجی تیار کرتے ہیں۔ بڑی سی سلاخیں گاڑھ کر ان میں مصالحوں سے بھرے بکرے کے گوشت کو آگ کی حدت پہ تیار کیا جاتا ہے ۔یہ ثقافت قدیم دور سے جدید دور میں بھی معروف ہے۔ سجی کو بنانے میں چار سے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں ۔

بلوچستان میں خشک گوشت کا رواج بھی صدیوں سے چلا آ رہا ہے ۔یہ خشک گوشت رمضان المبارک میں اکثر استعمال کیا جاتا ہے۔ خشک گوشت کا رواج بھی صدیوں پرانا ہے ۔اس ثقافت میں گوشت کو ایک کپڑے کے ساتھ باندھ کے لٹکادیا جاتا ہے جس سے گوشت خشک ہوتا جاتا ہے۔ پھر تین چار ماہ بعد اس گوشت کو مختلف کھانوں کے ساتھ مکس کرکے پکایا جاتا ہے ۔

بلوچستان میں ایک اور بھی رواج قائم ہے۔ یہ ہے خشک لسی۔ اس میں لسی کو ایک کپڑے کے ساتھ باندھ کے لٹکایا جاتا ہے اور جب سارا پانی نکل جاتا ہے تو اس لسی سی کو خرود کا نام دیا جاتا ہے، اس کی شکل لڈو جیسی بنائی جاتی ہے۔ پھر ان کو سالوں تک استعمال کیا جاتا ہے ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔