سٹیرنگ وہیل کا کنٹرول عورتوں سے دور رکھو


آج میں رنجیدہ ہوں۔ دنیا کے کروڑوں عقلمند، غیرت مند، رجعت پسند، نیک مذہبی مرد حضرات اور الھدا کی سوچ سے متاثر اور ان کے مدرسوں سے باقاعدہ تربیت یافتہ لاکھوں نیک باکردار مذہبی خواتین بھی پریشان ہیں۔ آج ایک مرتبہ پھر اچھی، نیک، باکردار اور فرمانبردار عورت کو شکست ہوئی اور بگڑی ہوئی نافرمان عورت جیت گئی۔ آج پھر بے غیرت جنس کے پجاری مغرب زدہ لبرل مرد اور عورتیں بغلیں بجا رہے ہیں اور ہم بیچارے نیک رجعت پسند مذہبی لوگ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ یہ صورت حال ہم سب کو جہنم کا ایندھن بنا دے گی۔ یہ ناقص العقل مخلوق جسے عورت کہا گیا ہے اسے تو ایک ”آزاد“ زندگی گزارے کا بہانہ چاہیے ہے۔ حالانکہ اندر سے ہم سب کو معلوم ہے کہ فطری طور پر عورت کچن سے زیادہ کچھ بھی نہیں چلا سکتی۔ اس کے ہاتھ میں ذائقہ، صفائی اور سکون ہے جو ہمیں کھانے، کپڑے دھلوانے اور پاؤں ”دبوانے“ میں درکار ہے۔ عورت یہ کام فری نہیں کرتی اس کے بدلے اسے اس دنیا میں چادر اور چاردیواری جیسی نعمت (جس میں بے غیرت لبرلوں کو گھٹن محسوس ہوتی ہے) اور اگلے جہان میں جنت ملے گی۔ اس کے علاوہ جو بھی ہو رہا ہے، وہ غلط ہے اور غیر ضروری اور غیر فطری ہے۔

پٹرول سے چلنے والی لوہے سے بنی گاڑی ہو یا سانسوں سے چلنے والی زندگی کی گاڑی، سٹیرنگ وہیل کا کنٹرول عورتوں سے دور رکھو ورنہ بربادی تمہارا مقدر بن جائے گی۔ گو کہ اس نیک کام میں کامیابی کی امید ہر روز پہلے سے کہیں کم نظر آتی ہے۔ دنیا بربادی کی طرف رواں دواں ہے۔ ہر نئے سال میں پہلے سے زیادہ عورتوں کے ہاتھ سٹیرنگ وہیل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہر اگلے سال یہ نافرمان عورتیں مردوں کی فرمانبرداری والا اپنا اصلی مقام بھول کر زندگی کو اپنی مرضی سے جینے کا حق منواتی جا رہی ہیں۔ کچھ مرد ہر اگلے سال انسانوں کی برابری کے دھوکے میں آ کر عورتوں کو ایک ناقص العقل جاندار سے زیادہ مقام دینے لگے ہیں۔ ساری دنیا کا مقدر بھی وہی ہو گا جو مغرب کے امیر ممالک کا ہے۔ توبہ توبہ خدا بچائے ان معاشروں سے۔ ان کی عوتوں کی کہانیاں سن کر گھن آتی ہے اور ان ممالک کا ویزا اپلائی کرنے کو دل کرتا ہے تاکہ ان ملعونوں کی تباہی کا حال بچشم خود ملاحظہ کر سکیں۔

سعودی عرب ہمارا فخر اور آخری امید تھی۔ پوری دنیا میں ایک ہی ملک رہ گیا تھا کہ جس نے عورتوں کو کامیابی سے زندگی اور گاڑی کے سٹیرنگ وہیل سے قانوناً دور رکھا ہوا تھا اور اپنی اس کامیابی پر بجا طور پر فخر بھی کرتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی گناہ اور بربادی کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ انہوں نے عورتوں کو گاڑی چلانے کی قانوناً اجازت دے دی ہے۔

جنید جمشید مرحوم آج زندہ ہوتے تو ضرور کوئی اہم بات کرتے اور سعودی عرب کو ایسا کرنے سے روکتے۔ انہوں نے تمام مردوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ کبھی بھی ”اپنی“ عورتوں کو گاڑی چلانا نہ سیکھنے دیں۔ وہ ایک نیک آدمی تھے اور سعودی عرب کا یہ قانون ان کے دل کے بہت قریب تھا۔ جنید جمشید مرحوم ایک متعصب آدمی نہیں تھے اس لیے وہ یورپ کو ناپسند کرنے کے باوجود پناہ یورپ ہی سے مانگتے تھے۔ یورپ میں رائج مارکٹنگ کے طریقے بھی انہیں اچھے لگتے تھے سوائے عورتوں کے چہرے کے۔ اسی لیے تو جے ڈاٹ کے سارے بے حد مہنگے زنانہ لباس سر کٹی عورتوں کے ذریعے ایڈورٹائز کیے جاتے ہیں۔

خیر واپس آتے ہیں لبرلوں کی ایک اور کامیابی اور اس دنیا کی بربادی کی جانب ایک اور قدم کی طرف جو حال ہی میں اٹھایا گیا ہے۔ سعودی عرب میں عورتوں کے حوالے سے قانون کی اس بنیادی تبدیلی کی جانب۔

میں بہت پریشان ہوں۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ عورت بہت ہوشیار اور لالچی جاندار ہے۔ یہ کہیں رک ہی نہیں رہی۔ اس کا انسانی حقوق کا ایک مطالبہ پورا ہوتا ہے تو وہ دوسرا اٹھا کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ سلسلہ یہاں رکنے والا نہیں ہے۔ یہ مرد کے برابر حقوق لے کر ہی رہے گی۔ اور یہ ایران اور سعودی عرب کی مذہبی غیرت اور پاکستان، بھارت اور افغانستان کی مردانہ غیرت کو تباہ کر کے ہی دم لے گی۔ وہ وقت دور نہیں جب ہماری عورتوں پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہو گا اور ہم سارے مرد حضرات بے غیرتی کی زندگی جی رہیں ہوں گے۔ اس سے ہمارے بچوں کی زندگیاں کافی بہتر تو ہو جائیں گی لیکن کیا فائدہ بچوں کی ایسی بہتر زندگی کا جب عورتیں ہمارے کنٹرول میں ہی نہ ہوں۔

میری پریشانی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم عقل مند، غیرت مند، رجعت پسند، نیک مذہبی لوگوں نے نئی آنے والی ہر ایجاد، ہر نئے نظریے اور ہر شخصی آزادی کو روکنے کی بھرپور کوشش کی لیکن روک ہم کچھ بھی نہیں پائے۔ ہوتا وہی جا رہا ہے جو یہ کم عقل، بدکار، مادر پدر آزاد، لادین، لبرل لوگ کہتے ہیں۔ صرف یہی نہیں جو شخصی آزادی کسی ایک معاشرے میں مل جاتی ہے وہ پھر جنگل کی آگ کی طرح ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے اور اس کا راستہ روکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ وقت کے دھارے کو ہم کبھی بھی واپس نہیں موڑ پائے۔ جو شخصی آزادی ایک دفعہ لوگوں کو مل گئی اس کو واپس لینا کسی کے بس میں نہیں رہتا۔ اسی لیے تو یہ لبرل ہمیشہ پر امید رہتے ہیں کہ آخری فتح تو شخصی آزادی ہی کی ہونی ہے۔

اسی لیے تو یہ بہت ضروری ہے کہ عورت کو سٹیرنگ وہیل کے کنٹرول سے دور رکھو۔ شخصی آزادی کے معاملات یہاں سے ہی آگے بڑھیں گے۔ ہم کبھی بھی انہیں روک نہیں پائیں گے۔ ظاہر ہے آج جو شخصی آزادی انسانوں (خاص طور پر عورتوں) کو حاصل ہے آج سے سو سال قبل بہت کم لوگ اس کا تصور بھی کر سکتے تھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 133 posts and counting.See all posts by salim-malik