اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد


تقریباً چودہ سو سال پہلے امام حسین کو شہید کردیا گیا تھا۔ یہ صرف ایک ہی واقع ہے جس کے اندر آج تک نہ جانے کتنے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ ”ہو“ اس لیے رہے ہیں کہ واقع آج بھی تازہ ہے۔ سننے میں کبھی باسی نہیں لگتا۔ دس دن کا قصہ ہے جو چودہ سو سال سے سنایا جا رہا ہے۔ اور شاید اگلے دس ہزار سال تک بھی سنایا جائے گا۔

علی اکبر سے کڑیل جوان کی جواں مردی کا قصہ۔ علی اصغر سے معصوم بچے کی پیاس کا قصہ۔ شہزادے قاسم کی مہندی کا قصہ۔ حر اور جون کی جنتوں کا قصہ۔ غازی عباس کو اجازت نہ ملنے کا قصہ۔ پاک دامن بیبیوں کی چادروں کا قصہ۔ امام حسین کی وقتِ عصر شہادت کا قصہ۔ ایک ہی واقع ہے۔ مگر ہر دل رکھنے والا اس ایک واقع کے اندر سے اپنے مطلب کا آنسو ڈھونڈ لیتا ہے۔

میں یہ تو سمجھتا ہوں کہ کسی قریبی عزیز کی موت کے بعد اس کے لیے رنج و ملال ہونا فطری عمل ہے۔ مگر یہ بھی فطری عمل ہے کہ یہ رنج وملال گزرتے وقت کے ساتھ گزر ہی جاتا ہے۔ بعد کو کسی کے یاد کرانے پر بہ مشکل آنکھ عشق بار ہو جائے تو غنیمت ہے۔ پھر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ کیفیت بھی دم توڑ جاتی ہے۔ مگر آج بھی جب صرف نام حسین آجائے تو دل کروٹ لیتا ہے۔ آنکھ نم ہوتی ہے۔ کشش ہے اس ایک نام حسین میں کی سنتے ہی سوچنے اور سمجھنے کے پیمانے تبدیل ہوجاتے ہیں۔

آج بھی امام حسین کا چودہ سو سال پرانا واقع جب مجلس میں مصائب میں سنایا جاتا ہے تو آہوں اور سسکیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ میں یہ آج تک نہیں سمجھ سکا کہ کیا تو ہے اس ایک ہی بات میں جو مجلس میں بیٹھے سب کے سب لوگ کئی کئی سالوں سے سن رہے ہیں۔ وہی بات ہے۔ وہی لوگ ہیں۔ مگر آج بھی وہی بات سن کر وہی لوگ ویسے ہی رو رہے ہیں۔

چند دل قبل علم کا کچھ کام کروانا تھا۔ حیدرآباد کا مشہور علاقہ ہے ”فقیر کا پڑ“ جہاں آپ کو لوہار آسانی سے مل سکتا ہے۔ صبح صبح کا وقت تھا جب لوہار کی دکان پر پہنچا۔ لوہار چھوٹی سی دکان میں بوری بچھائے سگری پر اوزار گرم کر رہا تھا۔ میرے ہاتھ میں علم کا گنبد دیکھ کر بولا کچھ وقت ہے بیٹھ جاؤ اوزار گرم ہو رہے ہیں۔ میں آلتی پالتی مار کا بوری پر اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ چھوٹی سی دکان میں ہر جگہ علم کے پنجے۔ گنبد اور دیگر چھوٹا بڑا سٹیل کا علم سے ہی منصوب سامان نظر آرہا تھا۔ پان چباتے بغیر بٹن کے پھیکے ہرے رنگ کا کرتا پہنے لوہار نے مجھ سے گنبد لیا۔ کام پوچھا اور لگ گیا ٹانکا لگانے۔ چند لمحے بعد اسکوٹر پر ایک شخص آ کر اسی دکان کے عین سامنے رکا۔ لوہار سے بولا ”سٹیل کی ٹنکی ہے۔ تھوڑا سا کام ہے۔ کرو گے؟“۔ پان کی پچکاری تھوک کر لوہار سپاٹ لہجے میں بولا ”نہیں“۔ تیوری چڑھا کر سکوٹر والا دکان کے اندر جھانک کر بولا ”کیوں؟ “۔ لوہار بولا ”عاشور کے بعد۔ اگرعلم کا کام ہو تو بتاو؟ “۔ سکوٹر والا طنزیہ مسکرا کر بولا ”یہاں کسی سنی کی دکان ہے؟ “۔ لوہار میرے علم کے گنبد پر ٹانکا لگا کر بولا ”ہاں! ہے تم سنی کی دکان پر ہی کھڑے ہو“۔ سکوٹر والا منہ سے تو کچھ نہ بولا مگر غصے میں سکوٹر کو کک ماری اور آگے نکل گیا۔

میں نے دل میں سوچا غریب آدمی ہے۔ کیوں آئی ہوئی روزی کو ٹھکرا رہا ہے۔ مگر پھر دوسرا خیال یہ آیا کہ شاید یہ اس غریب کی امام حسین سے عقیدت دکھانے کا اپنا ہی انداز ہے۔ جب میں علم کا کام کرو اکر دکان سے اٹھ رہا تھا تو میرے اٹھنے سے پہلے تین لوگ دکان کے باہر اس انتظار میں علم سے منسوب کوئی نا کوئی سامان لیے کھڑے تھے کہ میں اٹھوں تو لوہار ان کا کام شروع کرے۔ گاڑی تک جانے کے لیے گلی میں ہی تھا کہ اسکوٹر والا وہاں سے ہارن بجاتا میرے برابر سے نکل گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ غصے میں ہے۔ آگے بیٹھے لوہار نے بھی شاید اسے منع کردیا ہوگا۔
کہتے ہیں پاکستان میں شدت پسندی کا ماحول پروان چڑھ رہا ہے۔ آئے دن دھماکوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ کچھ خوف اور ہو کا عالم بنا ہوا ہے۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر اور کافر سب مسلمانوں کو مسلمان سمجھ کر مار رہا ہے۔ مگر ان سب کے بیچ ہمارا اپنا ایک ماحول بھی ہے جو پروان چڑھ رہا ہے۔ اور شاید چڑھتا ہی جائے گا۔

ان دھماکوں کی علاوہ ہمارے ملک میں ایک خاص قسم کا ماحول شروع سے چلتا آرہا ہے۔ میں حیدرآباد کی بات اس لیے کروں گا کیوں کہ میرا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ شہر میں نکلتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ یہاں کی زیادہ تر آبادی سنی ہے۔ مگر یہ سنی محرم میں کالے کپڑے پہنتے ہیں۔ نیاز کرتے ہیں۔ گھر پر علم سوار کرتے ہیں۔ امام حسین کے مصائب سن کر روتے ہیں۔ مگر پھر نماز ہاتھ باندھ کر پڑھتے ہیں۔ محرم کے بعد گیارہویں شریف بھی مناتے ہیں۔ میلاد شریف بھی مناتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کو اس بات سے غرض ہی نہیں کہ ان کا فرقہ کیا ہے۔ یہ لوگ تو اہل دل ہیں۔ اگر مجھے ان جیسے لوگوں کو نام دینا ہو تو میں انہیں حنفی شیعہ کہوں گا۔ اسی قسم کے لوگ ہمارے ملک کے ہر کونے میں بستے ہیں جو صرف امام حسین سے محبت کرتے ہیں۔ خدا کرے کے کسی مخصوص فرقے کے مولوی صاحب کی نگاہ ان پر نہ پڑے

ہر کوئی اپنے طریقے سے کربلا والوں سے عقیدت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ حنفی شیعے۔ یہ لوہار۔ اور اسی طرح کے بیشتر اہل دل سب ایک ہی بات بار بار سمجھاتے ہیں۔
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔