ہری اوم۔۔۔ چولی نہیں ہٹاؤ، دکھ دور کرو


شہر کے باسیوں کا دعوی ہے کہ شہر مذہبی رواداری کی مثال ہے۔ کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہتے۔ اسٹیڈیم روڈ پر جنوب کی جانب چلیں تو داہنے ہاتھ پر شہید بھگت سنگھ پارک کے سامنے سنگھ سبھا گوردوارہ ہے۔ ذرا توقف کریں تو کسی بوڑھے سکھ کی لزرتی آواز میں گرنتھ صاحب کی گربنی (گورو بانی) کی پرسوز لے کانوں میں پڑتی ہے۔ سڑک کے دوسرے کنارے پر بائیں جانب سید شاہ کی مسجد ہے۔ مؤذن صدا دے رہا ہے ’ آﺅ فلاح کی طرف‘۔ یہاں سے دو کوس آگے چلیں توعین چوک کے وسط میں آریہ سماج مندر میں شام کا منترا ’ صبحم کرو تو کلیانم‘ گایا جا رہا ہے۔ مندر سے دس گھروں کے فاصلے پر درگاہ حضرت تحسین رضا خان واقع ہے۔ قریب جائیں گے تو صحن میں بیٹھا کوئی فقیر خواجہ کو آواز دے رہا ہو گا کہ ’خواجہ میرے خواجہ دل میں سما جا‘ ۔ ساتھ ہی درگاہ سبطین رضا خان کے پاس والی نورانی مسجد کے صحن میں اب نماز کھڑی ہو چکی ہے۔ چلتا مسافر جان نہیں پاتا کہ انسان فلاح پانے آئے ہیں یا صلوة پڑھنے۔ یہ اترپردیش کا بریلی ٹاﺅن ہے۔

بریلی ٹاﺅن میں ایک گاﺅں گنیش پور پڑتا ہے۔ جون 2017 کے کسی تپتی دوپہر کا ساعت ہے۔ ایک بے نام لڑکی محلے کی دکان سے کچھ لینے جاتی ہے تو راستے میں ہری اوم ملتا ہے۔ ہری اوم ایک دھارمک انسان ہے۔ روز صبح جب وہ پتاجی کے ساتھ مندر جاتی ہے تو ہری اوم مندر سے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ ہری اوم نے اس کے ماتا پتا کی خیریت دریافت کی۔ اسے آئس کریم لے دینے پیشکش کی۔ جاتے سمے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اسے گلے لگایا۔ اسے ہری اوم کی صورت میں اپنے پتا جی نظر آئے۔ تب ہی اسے محسوس ہوا جیسے اس کے سینے کو کوئی چیز مسل رہی ہے۔ اس نے دیکھا تو یہ ہری اوم کا ہاتھ تھا۔ اس کا دل اچھل کر حلق میں در آیا۔ وہ جان چھڑا کر گھر کی طرف بھاگی۔ حواس بحال ہوئے تو اس نے فیصلہ کیا کہ اسے چپ نہیں رہنا۔ وہ گھر سے نکلی اور سیدھی ہری اوم کے گھر میں داخل ہوئی۔ سامنے ہری اوم کی بہن لکشمی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے لکشمی کو سارا واقعہ سنایا۔ گھر پہنچی تو بے چینی سے پتا جی کا انتظار کرنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد کسی نے دروازہ بجایا۔ اسے لگا کہ پتا جی آگئے۔ اس نے بھاگ کر دروازہ کھولا۔ سامنے ہری اوم کھڑا تھا۔ تھوڑی دیر بعد محلے والوں نے چیخوں کی آواز سنی۔ وہ گھر میں داخل ہوئے تو نونی رام کی بیٹی کے جسم سے آگ کے شعلے لپٹے ہوئے تھے اور وہ چلا چلا کر ہری اوم ہری اوم پکار رہی تھی۔ اب مندر کی ٹوٹی سڑھیوں پر بیٹھے نونی رام کے سامنے اس کی اٹھارہ سالہ بیٹی کی جلی ہوئی لاش دھری ہے۔ نونی رام اس سماج کا باسی ہے جہاں لڑکیاں بڑی ہو کر لکڑیوں کی طرح چولہے میں جل جایا کرتی ہیں۔ نونی رام نہیں جانتا کہ وہ اس جلی ہوئی لاش کا ماتم کرے یا اپنی اٹھارہ سالہ بیٹی کے عزت کے تار تار ہونے کا ماتم کرے۔

اسی بارے میں: ۔  اپنی موم بتی جلاؤ اپنی شمع جلاؤ دوسروں کے چراغ مت بجھاؤ

بچپن میں نانا جی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ دسمبر کے کسی سرد رات کی بات ہے جب نانا جی نے کہا، ’ بیٹیاں تو پریاں ہوا کرتی ہیں‘۔ نانا جی نے ایک بہادر سپاہی کی کہانی سنائی تھی۔ دور دیس میں ایک سپاہی محمد دین رہتا تھا۔ جب وہ پہلی مرتبہ محاذ پر گیا تو اس کے سینے میں چار گولیاں لگیں مگر محمد دین بچ گیا۔ آٹھ سال بعد جنگ کا طبل بجا تومحمد دین کو ایک بار پھر محاذ پر جانا تھا۔ محاذ پر لڑنے کے لئے سپاہی کی مرضی نہیں پوچھی جاتی ۔ اسے بس حاضری کا حکم ملتا ہے۔ محمد دین نے وردی پہنی۔ کمرے سے باہر آیا توصحن میں اس کی سات سالہ بیٹی کھڑی تھی۔ محمد دین نے اسے گلے لگایا۔ اس کے ماتھے کو چوما اور تیز قدموں سے باہر نکلا۔ باہر سپاہی لال سنگھ، محمد دین کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے محمد دین کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو قہقہہ لگا کر پوچھا؟ کیوں محمد دینا! تو جنگ سے ڈرنے لگا ہے کیا؟ محمد دین نے سسکتی آواز میں کہا، ’ اس سینے میں چار گولیاں لگی ہیں، اتنا درد محسوس نہیں ہوا جتنا آج بیٹی کے دو آنسوﺅں نے دیا۔ میرے سینے پر ہاتھ پھرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں التجا تھی کہ بابا واپس ضرور آنا، مجھے ڈر لگتا ہے‘۔ نانا نے جی کہانی ختم کی اور کہا، ’ بیٹیاں تو پریاں ہوتی ہیں‘۔

سوشل میڈیا پر ایک وڈیو گردش میں ہے۔ مقام کا تعین مشکل ہے مگر کردار واضح ہیں۔ گیارہ بارہ سالہ ایک بیٹی ہے ،جانے نونی رام کی بیٹی ہے یا محمد دین کی، ایک کریانے کی دکان پر کچھ لینے آئی ہے۔ ایک ہاتھ اس کے سینے کی جانب بڑھتا ہے اور اس کی سینے کو مسلنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ پیچھے ہٹتی ہے۔ ہاتھ واپس ہوتا ہے۔ لمحے بعد وہ ہاتھ پھر اس سینے کی جانب بڑھتا ہے۔ اس بار وہ سینے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ وہ سینے کو مسلتا ہے تو بچی کی چیخ بلند ہوتی ہے۔ ہاتھ پیچھے ہٹتا ہے اور ہاتھ کا مالک آگے جھکتا ہے۔ اس کا چہرہ نظر آتا ہے۔ بنی ہوئی داڑھی۔ سر پر جالی دار سفید ٹوپی۔ داڑھی اور اور سر کے بال مہندی سے رنگے ہوئے۔ مہندی لگانے کی اور کیا وجہ رہی ہو گی کہ کالے رنگ کو کچھ احباب مذہبی طور پر درست نہیں سمجھتے ۔ ایک دھارمک ہری اوم ہے جس کا نام کچھ بھی ہو، بس اس کا مذہب مختلف ہے۔

اسی بارے میں: ۔  خدا کے لیے اب آ جاؤ

ہم ایک ایسے سماج کے باسی ہیں جس پر پارسائی کا خبط سوار ہے۔ پانچ سال کی عمر سے گھر کے آنگن میں زبردستی نماز پڑھاتے والدین سے لے کر جامعہ کے کینٹین میں تبلیغی تعلیم تک اور منبر کے خطبہ سے لے کر پارلیمان میں اسلام نافذ کرنے تک، ہر پارسا کو دعوی ہے کہ اس کے منہ سے جو صادر ہو رہا ہے دراصل وہی خدا کا منشا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ان جینیاتی مذہبی رویوں کے باوجود یہی سماج ہے جہاں بیٹیاں چولہوں میں جلتی ہیں۔ جہاں بیٹیاں غیرت کے نام قتل ہوتی ہیں۔ جہاں ان کی شادیاں نہیں کرائی جاتیں تاکہ وراثت پر قبضہ کیا جا سکے۔ جہاں ان کے چہرے تیزاب سے جلائے جاتے ہیں۔ جہاں ایک پچاس سالہ دھارمک ہری اوم ایک گیارہ سالہ بچی کا سینہ مسلنا چاہتا ہے۔ اورہم اس مجرمانہ شرم کا شکار ہیں کہ بچوں کو بنیادی جنسی تعلیم بھی نہیں دیتے۔ ہمیں مجرمانہ شرم کو پرے رکھ کر کم ازکم اپنے بچوں کو یہ ضرور بتانا چاہیے کہ ان کو کہاں ہاتھ لگایا جائے تو یہ بری بات ہوتی ہے اور اگر کوئی ان کو وہاں ہاتھ لگاتا ہے تو انہیں اپنے والدین کو آگاہ کرنا چاہیے۔ ابلتی پارسائی اور کالے کرتوتوں پر یہاں سوال اٹھانا جی جلانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

 گنیش پور مندر کے سڑھیوں کے سامنے پڑی ایک جلی لاش نے جلتے ہوئے ہری اوم پکارا تھا۔ ہری اوم ہندو مذہب کا ایک سنسکرت منترا ہے ۔ ہری کا مطلب ہے ’ ہٹانے والا یا دور کرنے والا‘۔ اوم ،ہندو اساطیر میں حفاظت کرنے والے بھگوان وشنو کا نام ہے۔ ہری اوم کرب میں مبتلا مجبور انسانوں کا نوحہ ہے جو دکھ، درد اور تکلیف دور کرنے کی فریاد ہے۔ دکھ یہ ہے کہ جب اس نے ہری اوم پکارا تھا تو اس کا اشارہ انسان کے بھیس میں ملبوس جانور ہری اوم کی طرف تھا اور سماج کی ابلتی پارسائی کو خیال ہوا کہ ایک دھارمک بچی درد میں بھگوان وشنو کو آواز دے رہی ہے۔ خود سے یہ سوال پوچھ لینا چاہیے کہ سپاہی محمد دین کی بیٹی جب باپ سے واپس آنے کی التجا کر رہی ہو گی تو لاشعور میں کس ہری اوم کا خوف موجود رہا ہو گا؟ اپنے سماج کے ان درندے ہری اوموں کو پہچان لیجیے جو دکھ دور نہیں کر سکتے مگر بیٹیوں کی چولی ہٹانے کے درپے ہیں۔ بیٹیاں تو پریاں ہوتی ہیں۔ یہ لکڑیاں نہیں جو ساری عمر تن یا من کے چولہے میں سلگتی رہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 151 posts and counting.See all posts by zafarullah