کیا فحش فلمیں صحت کے لیے مضر ہیں


کچھ باتیں آفاقی ہوتی ہیں۔ لیکن جب تک دنیا بھر کے لوگ مختلف زبانیں بولتے رہیں گے، مختلف انواع کے کھانے کھاتے رہیں گے اور یہاں تک کے جذبات بھی مختلف قسم کے محسوس کرتے رہیں گے، فحش فلمیں دیکھتے رہیں گے۔ باوجود اس کے کہ فحش مواد کو اتنا زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے پھر بھی معاشرے کی برائیوں کے لیے اسے ہی مورد الزام ٹھرایا جاتا ہے۔ ایک امریکی ریاست نے تو فحش مواد کو صحت عامہ کےلیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

انٹرنیٹ کی دستیابی اور جدید قسم کے کیمروں کی فراہمی کی وجہ سے فحش مواد کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب اس کے موضوعات اور ان کی گہرائی میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر ورچوؤل ریالٹی (مجازی حقیقت) ہی کو لے لیجیے۔ اسی برس کے آغاز میں برطانیہ کی نیو کاسل یونیورسٹی کے ریسرچرز نے بتایا کہ ورچوؤل ریلیٹی کی وجہ سے اب فحش مواد دیکھنے والا صرف اُسے علیحدہ سامع کے طور پر دیکھ ہی نہیں رہا ہوتا ہے بلکہ وہ خود اس کا مرکزی کردار بھی بن جاتا ہے۔

انھوں نے انتباہ کیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ اس طرح حقیقت اور تصوراتی دنیا کے درمیان جو حد ہے وہ دھُندلا جائے جس کے نتیجے میں شاید آپس کے تعلقات خراب ہوں اور نقصان دہ رویے کی حوصلہ افزائی ہو۔

تاہم شواہد کیا بتاتے ہیں کہ فحش مواد لوگوں کی زندگیوں کو حقیقتاً کتنا متاثر کررہے ہیں۔ کیا کوئی ریسرچ اس کا جواب دے سکتی ہے؟ سچ بات تو یہ ہے کہ سائنسدانوں کے لیے اس کا مطالعہ کرنا مشکل ہے۔

فحش مواد کی نوعیت ایسی ہے کہ یا تو ریسرچرز لوگوں کی ان رپورٹوں پر بھروسہ کریں جو وہ فحش مواد دیکھنے کے بعد اپنے میں تبدیلی محسوس کر کے رضاکارانہ طور پر ریسرچرز کو بتاتے ہیں یا ان لوگوں کی ایک تعداد کو مصنوعی ماحول میں بیٹھا کر ان کا مشاہدہ کریں۔ لیکن یہ ایک غیر تحقیقاتی ریسرچ ہو گی (اور قدرے خفت کا باعث بھی ہوگی)۔

اس کے باوجود اب اتنا زیادہ تحقیقی مواد میسر ہے کہ جس کے مطالعے سے رجحانات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ بی بی سی فیوچر نے اس ان ریسرچرز کے تحقیقی مواد کا مطالعہ کر کے یہ نتائج مرتب کیے ہیں:

فحش مواد کے بارے میں جو بنیادی سوال سب کے سامنے کسی بھی تشدد کے واقعے کے بارے میں ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا اس واقعہ کا ذمہ دار شخص جو فحش مواد دیکھتا تھا کیا وہ اس سے متاثر ہوا تھا؟ کیا فحش مواد کی اتنی طاقت ہے کہ اسے دیکھنے کی وجہ سے ریپ یا جنسی تشدد کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے، یا وہ ایک نارمل شخص ہی کی طرح رہے یا فحش مواد دیکھنے کی وجہ سے یہ واقعہ ہوا ہو؟

کئی دہائیوں سے اس امکان پر تحقیقات ہوتی رہی ہے۔ مثال کے طور پر انیس سو ستر میں کوپن ہیگن یونیورسٹی کے جرمیات کے پروفیسر برل کچنسکی نے ڈنمارک، سویڈن اور جرمنی میں جنسی مواد کے حصول کو ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں قانونی قرار دینے کے بعد جنسی جرئم کے واقعات کو ماپا۔ انھیں فحش مواد کے قانونی قرار دیے جانے اور جنسی جرائم میں کوئی ارتباط نظر نہیں آیا۔ بلکہ انھوں یہ دیکھا کہ بعض جنسی جرائم مثلاً ریپ اور بچوں کے ساتھ ایذا رسانی اور زیادتی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی۔

انیس سو پچانوے میں چوبیس تحقیقی رپورٹوں کے اعداد و شمار کے تجزیے جس میں عمومی تاثر کہ فحش مواد کا جنسی جرائم اور ریپ سے کوئی تعلق ہے کو ماپنے کی کوشش کی گئی۔ اس مطالعے کے دوران ریپ کے اس تصوراتی پیمانے کو معیار کے طور پر لیا گیا جس کے مطابق ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ اگر کوئی لڑکی کسی لڑکے کے فلیٹ پر اس سے ملنے جاتی ہے تو وہ جنسی تعلق کےلیے راضی ہے۔

اس تجزیے کے مطابق، جو فحش مواد دیکھتے تھے وہ ریپ کے قصے کہانیوں کو صحیح کہتے تھے لیکن یہ وہ لوگ تھے جن کی رائے ایک مصنوعی ماحول میں لی گئی تھی۔ البتہ وہ لوگ جن کی رائے ان کے رضاکارانہ تاثرات پر مشتمل تھی، نے فحش مواد اور ریپ کے واقعات میں کوئی ارتباط نہیں پایا۔ لہٰذا یہ تجزیہ کسی بھی نتیجے تک نہ پہنچ سکا۔

تاہم حالیہ چند برسوں میں فحش مواد میں تشدد دکھانے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ فحش فلموں کے ایک سینئیر اداکار نے ایک دستاویزی فلم میں بتایا کہ پہلے یعنی1990 کی دہائی تک، فحش فلموں میں بستر پر جنسی محبت کرتے دکھایا جاتا تھا یا جنسی تعلق کے دوران ایک خوشگوار تاثر دکھایا جاتا تھا۔

پھر ریسرچرز نے2010 میں تقریباً تین سو ویڈیو فلموں کے جنسی مناظر کا تجزیہ کیا۔ ان کے مطابق تقریباً اٹھاسی فیصد مناظر میں جارحیت دکھائی گئی تھی اور اس جارحیت کا ارتکاب کرنے والے زیادہ تر مرد تھے اور ان کا نشانہ عورت تھی، اور ان مناظر کے آخر میں یہ دکھایا جاتا تھا کہ جارحیت کے بعد نشانہ بننے والی عورت جارحیت پر مبنی جنسی تعلق سے لطف اندوز ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ تازہ ترین تحقیقات کیا کہتی ہیں؟ دو ہزار نو میں اسی سے زیادہ تحقیقی مطالعوں کے ایک جائزے کے مطابق، فحش مواد اور جنسی تشدد کے واقعات کے درمیان ایک معمولی سا ارتباط ہے، اور ان کے درمیان ارتباط میں جو مبالغہ آرائی نظر آتی ہے وہ یا میڈیا یا سیاستدان بناتے ہیں۔ اس جائزے کے مصنف کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس مفروضے کو جس کے مطابق جنسی تشدد کے واقعات کا فحش مواد سے کوئی ارتباط بنایا جاتا ہے اُسے مسترد کر دیا چاہیے۔

اسی بارے میں: ۔  ریڈیو والی صائمہ جی اور ایزی لوڈ والی صبا

لاس اینجیلس کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے نیل میلامیتھ نے فحش مواد اور جنسی تشدد کے واقعات پر تحقیق کی ہے، ان میں انھوں نے تین سو مردوں سے بھی بات کی، ان کا کہنا ہے کہ جو مرد جنسی طور پر جارح ہوتے ہیں اور جارحیت والا فحش مواد بہت زیادہ دیکھتے ہیں، ان کے جنسی تشدد ارتکاب کرنے کےامکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ فحش مواد کے جنسی تشدد کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دو ہزار تیرہ میں انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ فحش مواد کے دیکھنے کی عادت کا شراب نوشی سے تقابلی جائزہ لیا جا سکتا ہے، اور یہ کہ یہ خطرناک عادتیں ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے جن میں خطرے کے دوسرے عوامل پہلے سے موجود ہیں۔

انیس سو چودہ کی ایک تحقیق کے مطابق، فحش مواد کے دیکھنے سے دماغ کا وہ حصہ سُکڑ سکتا ہے جس میں لذت محسوس کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ برلن کے ایک تحقیقی ادارے میکس پلینک انسٹیٹیوٹ کے ریسرچرز نے ساٹھ ایسے مردوں کے دماغوں کا جائزہ لیا جب وہ فحش مواد دیکھ رہے تھے اور ان سے اس دوران ان کی فحش مواد دیکھنے کی عادات کے بارے میں سوالات بھی کیے۔

اس تحقیق کے مطابق دماغ کا ایک حصہ جو لذت کے ذریعے انعام سے نوازتا ہے یعنی لذت کا احساس دلاتا ہے جسے سٹریاٹیم کہتے ہیں وہ ان لوگوں کے دماغ میں چھوٹا تھا جو کثرت سے فحش مواد دیکھتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں جنسی خواہش بیدار کرنے کےلیے اور ایستادگی کے لیے اور بھی زیادہ فحش مواد دیکھنے کی ضرورت ہے۔

تاہم ریسرچرز یہ نہیں جان سکے جو مرد جن کے دماغ کے سٹریاٹیم چھوٹی تھی ان کی فحش مواد دیکھنے کی زیادہ خواہش تھی یا تکرار سے فحش مواد دیکھنے کی وجہ سے ان کی سٹریاٹیم سُکڑ گئی تھی۔ تا ہم یہ ریسرچرز فرض یہی کرتے ہیں کہ مردوں کی سٹریاٹیم کثرت سے فحش مواد دیکھنے سے سکڑتی ہے۔

جسم پر پڑنے والے فحش مواد کے دیگر اثرات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے کثرت سے دیکھنے سے حساسیت کم ہو جاتی اور ایستادگی ہونے میں مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس بات کی حمایت میں کوئی زیادہ تحقیقی مواد نہیں ہے۔

جبکہ لاس اینجیلس کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی کورکوڈیا یونیورسٹی کے ریسرچرز کا کہنا ہے کہ فحش مواد دیکھنے سے جنسی بیداری پیدا ہوتی ہے۔ ان کی تحقیقی کے مطابق فحش مواد دیکھنے والے مردوں میں جنسی بیداری زیادہ نظر آئی۔

’میرے ایک دوست کی خواہش تھی کہ اس کی گرل فرینڈ فحش فلموں کے کردار کی طرح کا لباس پہنے اور اسی طرح کی حرکتیں کرے۔ فحش فلمیں تو اب بہت آسانی سے مل جاتی ہیں۔ اب تو لڑکے انھیں کلاس روم میں یا بسوں میں دیکھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔‘

سکولوں میں جنسی تشدد پر حکومت کی تحقیقی رپورٹ میں یہ بات جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافے کے ایک ثبوت کے طور پر بیان کی گئی ہے۔ فحش مواد کو مرد اور عورت کے باہمی تعلقات پر اثر انداز ہوتے دکھایا گیا ہے خاص کر نوجوان مرد اور عورتوں کے۔ لیکن ان کی توجہ نوجوانوں پر رہی ہے اور اس میں ایک جیسے نتائج دیکھنے میں نہیں ملے۔

1979ء کی ایک تحقیق میں ڈگلس کینریک کا کہنا ہے کہ فحش مواد دیکھنے والے مردوں میں اپنی ساتھی عورت میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔ یونیورسٹی آف ویسٹ اونٹاریو کی ایک پی ایچ ڈی کی طالبہ رہنڈا بلسرینی کا کہنا ہے کہ ڈگلس کی اس تحقیق کا اپنے وقت کے علم نفسیات پر گہرا اثر پڑا تھا۔ مگر رہنڈا کا کہنے ان کی اپنی اور اس سے بڑی ریسرچ سے یہ معلوم ہوا کہ ڈگلس کی ریسرچ غلط تھی۔

ان ریسرچز کے برعکس، اس برس مئی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، فحش مواد کے دیکھنے سے طلاقوں میں بعض حالتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق، امریکہ میں فحش مواد دیکھنے والے مردوں کی طلاقوں میں دگنا اضافہ ہوا۔

تاہم اس تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ طلاق صرف فحش مواد دیکھنے کی وجہ سے ہوئیں یا اس جوڑے تعلقات میں پہلے سے ہی تناؤ تھا۔ اسی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو جوڑے دن میں ایک مرتبہ فحش مواد دیکھتے ہیں ان میں طلاق کے امکانات ان جوڑوں سے کم ہیں جو جوڑے فحش مواد بالکل ہی نہیں دیکھتے ہیں۔

فحش مواد پر ایک یہ بھی الزام رہا ہے کہ ان کی وجہ سے شادی شدہ جوڑوں کی زندگیاں خراب ہوتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ایسا ہونے کی وجہ فحش مواد کی نوعیت ہوتی ہے۔ لیکن عورتوں میں فحش مواد کے اثرات مردوں سے مخلتف ہیں۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ عورتیں اپنے مردوں کے ہمراہ جب فحش مواد دیکھتی ہیں تو وہ راضی با رضا جنسی تعلق دیکھتی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  میرا وطن میرا جرم نہیں

مگر جب مرد فحش مواد تنہا دیکھتا ہے تو وہ جارحیت والے مناظر پسند کرتا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق جب ایک جوڑا اکٹھا بیٹھ کر فحش مواد دیکھتا ہے تو ان میں تنہا دیکھنے والوں کی نسبت باہمی جنسی اطمینان اور محبت زیادہ ہوتی ہے۔

فحش مواد دیکھنے کے حوالے سے جو بات زیادہ ہوتی ہے اس میں ایک بات یہ بھی ہے کہ اس کو دیکھنے والے اس کے دیکھنے کے نشے میں پڑ جاتے ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تحقیق نے تو فحش مواد کے دیکھنے کو منشیات کے نشے جیسا قرار دیا ہے۔ کیونکہ اس کے مطابق فحش مواد کے دیکھنے اور منشیات کے استعمال سے دماغ میں ایک جیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس نے بھی جنسی نشے کو منشیات کے نشے کو ایک جیسے کہا ہے اور اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بیماری والے بغیر کسی کنٹرول کے فحش مواد دیکھنے کی عادت میں مبتلا ہوسکتے ہیں جس کے بارے وہ سوچتے ہیں کہ یہ ان کے کنٹرول سے باہر ہے۔ بہر حال فحش مواد دیکھنا ایک نشے جیسی عادت تو بن سکتی ہے مگر یہ ابھی ثابت ہونا باقی ہے کہ فحش مواد یہ عادت پیدا کرسکتے ہیں یا نہیں۔

عمومی خیال ہے کہ فحش مواد دیکھنے والے جنسی معاملات پر کھل کر بات کرسکتے ہیں مگر کئی ایسی بھی باتیں سامنے آئی ہیں کہ فحش مواد دیکھنے والے ان موضوعات پر بات کرنے سے پریشان ہوجاتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق، ہم جنس مرد جو ایسی فحش مواد دیکھتے ہیں جن میں مانع حمل کونڈوم استعمال نہیں ہوتا ہے، وہ خود بھی جنسی بیماریوں سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ ہاں اگر ان کی دیکھی ہوئی فحش فلم میں کونڈوم استعمال کیا گیا ہے تو ان کےکونڈوم استعمال کرنے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔

فحش مواد بنانے والی صنعت میں کونڈوم زیادہ مقبول نہیں ہیں کیونکہ وہاں اداکار جنسی بیماریوں کے ٹیسٹ کرواتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس جب فحش فلموں کے اداکاروں کےلیے کونڈوم استعمال کرنا لازمی قرار دینے کی بات کی گئی تو کیلیفورنیا کی فلمی صنعت کے لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔ کونڈوم کے استعمال کی مخالفت کرنے والوں نے یہ کہا کہ اگر یہ پابندی لگائی گئی تو فحش فلمیں بنانے والے اس ریاست کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

فحش مواد کو آزاد جنسی تعلقات کے فروغ کے بھی ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ ایک تحقیقی کے مطابق، فحش مواد دیکھنے والوں کے کسی بھی اتفاقی جنسی تعلقات کے بنائے جانے کے سات گنا زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ تاہم ایسا ان لوگوں کے ساتھ ہوا تھا جن کے بارے میں یہ رائے تھی کہ وہ ناخوش تھے۔

2002 اور 2004 کے اعداد و شمار کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ فحش مواد دیکھتے ہیں ان کے ایک شخص سے زیادہ جنسی ساتھی ہوتے ہیں، ان کے معاشقے زیادہ ہوتے ہیں اور اس بات کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ وہ رقم ادا کرکے کسی کے ساتھ جنسی تعلق استوار کریں۔ تاہم دیگر رپورٹوں کی طرح اس میں بھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا فحش مواد سے ایسے ہوا یا جن لوگوں کے متعلق کہا جا رہا ہے ان میں پہلے بھی ایسا کرنے کے رجحانات تھے۔

فحش مواد پر یہ بھی الزام ہے کہ اس کی وجہ سے مرد اور عورت کے فرق میں پیدا کرنے والا رویہ بڑھتا ہے اور جنسی توقعات غیر حقیقی قسم کی پیدا ہوتی ہیں۔

فحش مواد کو دیکھنے کی عادت کو کئی ایک انفرادی اور معاشرتی مسائل کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اگر ایک تحقیق ان مسائل کو فحش مواد سے جوڑتی ہے تو دوسری اس کے برعکس رائے پیش کرتی ہے۔ اکثر شواہد ملے جلے ہیں۔ اور جو تحقیقات ہوئیں ہیں ان کی اپنی اپنی حدود و قیود ہیں۔

یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ مزید عمیق اور جدید قسم کا فحش مواد خطرات میں اضافہ کرے گا۔ علت و معلول کا سوال فحش مواد کے بارے میں تحقیقات کا بنیادی حصہ ہے: کیا فحش مواد جارح طبعیت والے لوگوں کے لیے زیادہ کشش رکھتا ہے، جو اپنے تعلقات سے ناخوش ہیں، جو اپنے دماغ میں لذت کا چھوٹا حصہ رکھتے ہیں اور جو جنسی نشے کا شکار ہیں یا کیا فحش مواد ان باتوں کی علت ہے؟ یہ ریسرچ کا ایک نازک حصہ ہے۔

لیکن جب تک ایک حتمی جواب نہیں ملتا ہے تب تک موجودہ شواہد کی روشنی میں یہ بات کہہ جاسکتی ہے کہ فحش مواد کے منفی اثرات کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ایک فرد انھیں کس طرح استعمال کرتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 876 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp