آسٹریا، لوگوں نے سیکس ڈول کو بھی نہ بخشا


انسان کب کس حد تک پہنچ سکتا ہے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ آسٹریا میں ایک واقعے کے بعد کم سے کم ایسا ہی کہا جائے گا۔

یہاں ایک ٹیکنالوجی میلے میں لوگ ایک سیکس ڈول کو دیکھ کر اتنے جذباتی ہو گئے کہ انھوں نے اسے بری طرح توڑ پھوڑ دیا۔

آسٹریا کے شہر لنز میں منعقدہ ’آرٹ الیکٹرانکس فیسٹیول‘ میں 3000 پاؤنڈ مالیت کی سیکس ڈول سامنتھا بھی نمائش کے لیے رکھی گئی تھی۔

یہ توقع کی جاتی تھی کہ لوگ اس کے بارے میں جان سکیں گے اور سیکس ڈول کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے اور وہ ایسی مصنوعات خریدنے پر غور کریں گے لیکن معاملہ کچھ آگے بڑھ گیا۔

لوگوں نے اسے بہت برے انداز میں چھوا اور اسے کچل دیا۔ سامنتھا کی ایسی خراب حالت ہو گئی کہ اب اس کی مرمت کی جائے گی۔

سیکس ڈول بنانے والے سرگئی سنتوس نے کہا کہ لوگ اس کے سینے، ہاتھ اور ٹانگوں پر چڑھ گئے۔ انھوں نے کہا کہ ’لوگ اتنے برے ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے اس کے ساتھ بہت برا برتاؤ کیا۔‘

اب اسے صفائی اور مرمت کرنے کے یئے سپین میں واپس لے جایا جا رہا ہے۔ سامنتھا کے ساتھ اس ظالمانہ رویے نے لوگوں کے رویے اور سوچ پر سوال اٹھائے ہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح لوگوں میں شعور اجاگر کیا جا سکتا ہے اور خواتین پر جنسی حملے کرنے والے کس قدر درندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اس سے قبل بھی سیکس روبوٹس اور سیکس ڈول پر تنازعات ہوتے رہے ہیں۔ کچھ عرصے سے ’فریجڈ فرا‘ نامی سیکس روبوٹ پر بہت تنازع ہوا تھا۔

یہ ایک سیکس روبوٹ ہے جو کسی شخص کو چھونے پر اس سے اختلاف کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے روبوٹ ریپ کو فروغ دیتے ہیں۔

اسی دوران جو لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر انسان اپنی جسمانی خواہشات کو سیکس ڈول اور روبوٹ کے ذریعے پورا کر سکتے ہیں تو جنسی تشدد کے معاملات میں کمی آسکتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 597 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp