ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری


احتساب عدالت میں پاکستان کے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے خلاف بیرون ملک آف شور کمپنیوں کے قیام، العزیزیہ سٹیل مل اور لندن فلیٹس کے حوالے سے ریفرنسز کی سماعت نو اکتوبر تک ملتوی ہو گئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پیر کو سماعت کے دوران عدالت نے سابق وزیراعظم پر فرد جرم عائد نہیں کی تاہم ان کے بچوں اور داماد کی عدم حاضری پر ان کے ناقابلِ صمانت گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل کرنے کے بعد عدالتی فیصلے کے تحت نیب نے نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنسز دائر کیے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سماعت کے موقع پر نواز شریف کے بچوں حسن نواز، حسین نواز ، مریم صفدر اور داماد کیپٹن صفدر کے قابلِ صمانت گرفتاری وارنٹ جاری ہوئے تھے۔

گذشتہ سماعت کی طرح اس بار بھی سابق وزیر اعظم اکیلے ہی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا گیا کہ نواز شریف کے بچے ان کی اہلیہ کلثوم نواز کی بیماری کی وجہ سے لندن میں مقیم ہیں۔

نواز شریف کو حاضری سے استثنیٰ دینے کے معاملے پر پیر کو دوران سماعت کوئی بات نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے سول انتظامیہ کے احکامات سے ہٹ کر رینجرز کی جانب سے نواز شریف کے وکلا، ساتھیوں اور میڈیا کے نمائندوں کو احتساب عدالت میں جانے سے روکنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہوں گی۔

پیر کی صبح جب احسن اقبال بھی احتساب عدالت پہنچے تو میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں رینجرز چیف کمشنر کے ماتحت ہیں، چیف کمشنر نے کہا کہ میں نے انھیں کہا کہ یہاں پر ایک انتظام طے ہوا ہے ہم نے اس کے تحت چلنا ہے، رینجرز کی جو کمانڈر کر رہے تھے انھوں نے چیف کمشنر کو انکار کر دیا کہ ہمارے اپنے حکم ہیں اور ہم نواز شریف کے علاوہ کسی کو اندر نہیں جانے دیں گے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’رینجرز کا مقامی کمانڈر روپوش ہو گیا، یہ ایسی صورتحال ہے جو قابل قبول نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ کٹھ پتلی وزیر داخلہ نہیں بن سکتے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیر داخلہ کے اس بیان کے بعد رینجرز حکام نے وزرا کو عدالت میں جانے کی اجازت دے دی تھی۔

احتساب عدالت نے ہی گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے ریفرنس میں فرد جرم عائد کی تھی جبکہ ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے مقدمے میں فیصلے پر نظرِ ثانی کے لیے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کی طرف سے دائر کی گئی درخواستیں 15 ستمبر کو مسترد کر دی تھیں۔

احتساب عدالت میں گذشتہ سماعت جو کہ 26 ستمبر کو ہوئی تھی کے دوران نواز شریف کے وکیل نے عدالت سے اپنے موکل کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی جس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فرد جرم عائد کرنے کے بعد اس درخواست کا فیصلہ کیا جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 597 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp