تیسری سیاسی قوت کے لئے عمران خان کی پھرتیاں


عمران خان ملک میں ایک نئی سیاسی قوت کو متحد و متفق کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں تاکہ ملک کی سیاست پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی بالادستی کو ختم کیا جا سکے۔ ان کوششوں کا آغاز قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بدلنے کی کوششوں سے شروع ہو چکا ہے تاکہ پاکستان تحریک انصاف خود کو آئندہ انتخابات کے بعد جائز سیاسی وارث کے طور پر سامنے لا سکے۔ اگرچہ شاہ محمود قریشی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ رابطوں میں اس حوالے سے تعاون کرنے اور پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹانے پر متفق ہو چکے تھے۔ البتہ اس وقت تک وہ خود کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے لانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ تاہم یہ اتفاق رائے سامنے آتے ہی تحریک انصاف میں اس سوال پر سرپھٹول شروع ہو گیا کہ اس عہدہ پر شاہ محمود قریشی کو فائز ہونا چاہئے یا عمران خان کو اپوزیشن لیڈر بنایا جائے۔ اس لئے فی الوقت  اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے خلاف ”عدم اعتماد“ کا اظہار کرنے کی کارروائی کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ایک اہم سیاسی تبدیلی کے حوالے سے پارٹی کے اندر سامنے آنے والے بحران کے باوجود عمران خان بظاہر یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ وہ کن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور وہ اپنے سیاسی عزائم کے لئے ایسے خفیہ سیاسی ایجنڈا کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا سبب رہے ہیں جس کی تکمیل کے بعد عمران خان کا وزیراعظم بننے کا خواب کسی صورت پورا نہیں ہو سکے گا۔

پاکستان تحریک انصاف اور اس کے پرجوش چیئرمین عمران خان کی سیاسی سادہ لوحی کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ ایک طرف وہ ملک میں تیسری سیاسی قوت کو متحد کرکے آئندہ انتخابات کے بعد برسراقتدار آنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، جس کا باقاعدہ اعلان پارٹی اور اس کے چیئرمین کے ترجمان فواد چوہدری کر بھی چکے ہیں۔ تو دوسری طرف وہ ایسی قوتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں جو علی الاعلان ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کام کرتی ہیں۔ عمران خان اپنی ان کوششوں میں مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ سابق فوجی سربراہ کی آل پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ بھی رابطہ میں ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی کو بھی اس نئے سیاسی پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان سب قوتوں میں اس کے سوا کوئی بات مشترک نہیں ہے کہ وہ سیاست پر فوج کے غلبہ و تسلط کی حامی ہیں اور ماضی میں کسی نہ کسی صورت میں انہوں نے فوجی بالادستی کا ساتھ دیا تھا اور اس سے مفادات بھی حاصل کئے تھے۔ عمران خان کی سیاسی تحریک تبدیلی، نئے پاکستان اور بدعنوانی کے خاتمہ کے سہانے اور بلند بانگ نعروں سے شروع ہوئی تھی لیکن وہ جن عناصر کے ساتھ مل کر اس خواب کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں، ان کے اپنے ہاتھوں پر ان تمام علتوں کے نشان دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں یا تو عمران خان کے نزدیک ایک بار وزیراعظم بننا اتنا اہم ہے کہ وہ اس مقصد کے لئے کوئی بھی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں یا وہ واقعی اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ ایک بار حکمران بننے کے بعد وہ اقتدار کے کوڑے سے سب کو راہ راست پر لے آئیں گے۔

عمران خان کو یہ باور کر لینا چاہئے کہ نواز شریف بھی کچھ ایسے ہی خواب دیکھتے اور منصوبے بناتے تیسری بار ملک کے وزیراعظم بنے تھے۔ وہ بھارت کے ساتھ مفاہمت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور برصغیر سے عداوت اور سیاسی تصادم کو ختم کرنے کے خواہاں تھے تاکہ اس پورے علاقے میں اقتصادی خوشحالی اور سماجی بہتری کا ایک نیا دور شروع ہو سکے۔ تاہم وزیراعظم ہاﺅس پہنچنے تک ان کے عزائم کی راہ میں درجنوں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری تو دور کی بات ہے نواز شریف ڈان لیکس اور پاناما کیس کی بھول بھلیوں سے ہوتے ہوئے  بالآخر اپنی مدت اقتدار ختم ہونے سے ایک برس پہلے ہی نااہل قرار دیئے گئے۔

اسی بارے میں: ۔  میڈیا ، سیاست اور پاکستان کا مستقبل

سپریم کورٹ یہ تو واضح کر چکی ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے لیکن یہ بتانے پر آمادہ نہیں ہے کہ آئین کی جس شق کے تحت انہیں نااہل قرار دیا گیا ہے وہ دائمی ہے یا وہ صرف ایک انتخابی مدت کے لئے کسی کو سیاست سے دور رکھ سکتی ہے۔ لیکن دوسروں کے تجربات سے سیکھنا انسان کی جبلت میں نہیں ہے اسی لئے عمران خان بھی نواز شریف کی حالت زار کے آئینے میں اپنے مستقبل کا نقش دیکھنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ انہیں تو بہرصورت وزیراعظم بن کر اس ملک کی اصلاح کرنی ہے۔

حالانکہ عدالتوں میں عمران خان کی نااہلی کے حوالے سے جو معاملات زیرغور ہیں، وہ دراصل تحریک انصاف کے قائد کے لئے بھی ویسا ہی پھندا تیار کرنے کی کوشش ہیں جو نواز شریف کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ عمران خان اور ان کے حامی لاکھ کہتے رہیں کہ کرکٹ کھیل کر محنت کے رزق حلال سے بنائے ہوئے ایک فلیٹ کا نواز شریف کے مشکوک وسائل سے حاصل کئے گئے پرتعیش قیمتی اپارٹمنٹس سے کیا مقابلہ۔ اور مسلمہ طور سے ایماندار مانے گئے عمران خان کو کیوں کر مالی بدعنوانی میں نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم عمران خان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اقتدار اور تسلط کے اس کھیل میں دلیل نہیں عذر درکار ہوتے ہیں۔ نواز شریف کے معاملہ میں پاناما نہیں تو اقامہ عذر بن گیا۔ اسی طرح عمران خان کے معاملہ میں لندن فلیٹ نہیں تو بنی گالہ کو بہانہ بنانا کون سا مشکل ہوگا۔

ملک کے متعدد مبصرین یہ سمجھ رہے ہیں کہ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلہ کو انصاف کی کسوٹی پر پورا ثابت کرنے اور یہ واضح کرنے کے لئے کہ عدالتوں میں قانون کی روشنی میں فیصلے ہوتے ہیں، ان کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، سپریم کورٹ بالآخر عمران خان کو بھی نااہل قرار دے گی۔ البتہ اس دوران اگر عمران خان ملک کی تیسری سیاسی قوت بننے کا خواب پورا کرنے کے لئے خود ہی اپوزیشن لیڈر بھی بن بیٹھیں تو سپریم کورٹ کا کام آسان ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم کو نااہل کرنے کے چند ماہ بعد ”اپوزیشن لیڈر“ کو بھی نااہل قرار دے کر عدالت عظمیٰ یہ واضح کر سکتی ہے کہ وہ حکومت ہو یا اپوزیشن، سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے۔ اس کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

ملک کی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے اکثر اسکرپٹ کی بات کی جاتی ہے۔ بتانے والے بتاتے رہتے ہیں کہ کون سی بات اسکرپٹ کے مطابق، کون سا واقعہ غیر متوقع ہے جس کی وجہ سے اسکرپٹ تبدیل ہو گیا ہے۔ اور آئندہ کے لئے کہانی لکھنے والے نے کون سے کرداروں میں رنگ بھرنا شروع کیا ہے۔ ایسے سیاسی نجومی اگر نواز شریف کو سیاست سے غیر متعلق قرار دے رہے ہیں تو وہ عمران خان کی نااہلی کو یقینی سمجھتے ہوئے ملک کی سیاست میں ان کے براہ راست کردار کو بھی مسترد کر رہے ہیں۔ ان خبروں کی فراہم کردہ معلومات سب بڑے غور سے پڑھتے ہیں لیکن کوئی یہ دریافت نہیں کرتا کہ ان کے پاس سیاسی مستقبل کے بارے میں یہ خبریں کیسے پہنچ جاتی ہیں۔ یہ سوال اس لئے نہیں پوچھا جاتا کہ یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ملک کی سیاست میں سیاسی پارٹیوں، سیاسی لیڈروں حتیٰ کہ قومی اسمبلی یا سینیٹ کی حیثیت بھی مہرے کی ہے۔ اصل فیصلے وہیں ہوتے ہیں جہاں حب الوطنی کے علاوہ عقل و شعور نے بھی ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ان فیصلوں سے کوئی بھی اختلاف کی مجال نہیں کرتا بلکہ اپنے اپنے طور پر ان کی تکمیل کے لئے کردار ادا کرنے میں پرجوش رہتا ہے۔ مشکل صرف اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے لئے ایک سے زیادہ کردار مدمقابل ہوں تودونوں کو اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے زیادہ مستعدی اور گرمجوشی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  وزیر داخلہ  کا بلا ناغہ ٹاک شو

ایک اچھے کہانی کار کی طرح ملک میں ”حب الوطنی اور عقل کل“ کے مرکز سے بھی قاری کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لئے انجام تک پہنچنے سے پہلے کرداروں کی نشست و برخاست سے اس بات کو اسرار کے پردے میں ہی رکھا جاتا ہے کہ آخرکار کون کامیاب ہوگا اور کسے مایوس ہونا پڑے گا۔ اسی لئے سارے کردار جو خود بھی پورے اسکرپٹ سے آگاہ نہیں ہوتے اور نہ دوسرے کردار میں ڈالی گئی کمزوریوں یا خوبیوں سے باخبر ہوتے ہیں، یہی گمان رکھتے ہیں کہ آخرکار اقتدار کا تاج انہی کے سر پر سجایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف سیاست سے باہر ہو کر بھی سیاسی کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کے مستقبل کو تاریک دیکھتے ہوئے سیاسی دشمنوں کے علاوہ ان کے اپنے ساتھیوں میں سے کئی لوگ خود کو مستقبل کا وزیراعظم سمجھتے ہوئے جوش کی بجائے ہوش سے کام لینے کی باتیں کر رہے ہیں۔ پنجاب کا ووٹرچوں کہ ابھی تک نواز شریف ہی کو ”شیر“ سمجھتا ہے، اس لئے کسی نہ کسی طرح انہیں بھی یقین دلایا جا رہا ہے کہ اگر وہ بعض درست چالیں چلنے میں کامیاب ہو جائیں تو بازی ان کے حق میں پلٹ بھی سکتی ہے۔ اس مقابلے میں شریک ہونے کی شرائط قبول کرنے کے بعد اس بات کا امکان باقی نہیں رہتا کہ کوئی کردار کسی اصول پر قائم رہ سکے۔ اس لئے سیاست کو دروغ گوئی،  مکرنے اور بات سے پھر جانے کا کھیل کہا جاتا ہے۔

پاکستان کی سیاست میں جھوٹ کو سیاسی رہنماﺅں کے کردار کا حصہ بنا کر جو قوتیں درپردہ اختیار و اقتدار کا کھیل رچاتی ہیں یا اسکرپٹ لکھتی اور تبدیل کرتی ہیں، انہیں اس بات کا اندیشہ نہیں ہوتا کہ ان کا کوئی جھوٹ پکڑا جائے گا۔ کیوں کہ اول تو ان قوتوں کا کوئی چہرہ نہیں ہوتا۔ دوسرے ہر سیاسی کردار کسی بھی جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے آلہ کار بننے پر آمادہ ہوتا ہے۔ عمران خان اگرچہ دو دہائیوں کی کوچہ گردی کے بعد سیاست کے داﺅ پیچ سیکھ گئے ہیں اور ملک کے مقبول لیڈر کے عہدے پر بھی فائز ہو چکے ہیں لیکن کیا وہ جان چکے ہیں کہ ان کے کردار میں رنگ بھرنے والا کون ہے یا وہ خود اپنی ہی صلاحیتوں کو مقبولیت کا سبب سمجھ کر خوش ہو لیتے ہیں۔ اور اب پٹے ہوئے مہروں کے ساتھ تیسری سیاسی قوت کی تشکیل کے خواب کو پورا کرنے نکلے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 686 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali