حیدر آباد کا گم گشتہ محرم


دو تین دن سے ایسی تحاریر نظر سے گزریں جن میں عاشورہ محرم میں مذہبی رواداری جو آج سے تیس چالیس سال پہلے تک روا تھی اس کا ذکر تھا۔ زیادہ تر لکھنے والوں نے بچپن میں گزرے عاشورہ محرم کے احوال کو اتنی خوب صورتی سے بیان کیا کہ ہم بھی اپنے بچپن میں گم ہوگئے۔ کیسے حیدرآباد سندھ میں گھر کے سامنے سے حضرت قاسم کی مہندی، حضرت علی اصغر کا جھولا، اور ماتمی جلوس گزرا کرتے تھے، شعیہ سنی کی تفریق کہیں نہیں تھی۔ سنی بھی تعزیہ نکالتے تھے، حیدرآباد چونکہ چوڑیوں کی صنعت سے پہچانا جاتا ہے اس لیے چوڑیوں سے بنا تعزیہ اب بھی ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ ہے۔ صبح ہی سے ہم محرم کا جلوس علم اور تعزیہ دیکھنے ڈیڈی کے ساتھ نکل جاتے تھے، ان کے دوستوں کے ہاں۔ حلیم اور شربت کی نیاز بھی کھاتے تھے۔ اسی طرح کے محرم ہم نے کراچی میں بھی دیکھے ریگل چوک پہ، گھر میں بھی نذر نیاز ہوتی تھی۔

لڑکپن آیا تو وقت کا پہیہ ایسا گھوما کہ ہر چیز اس کی لپیٹ میں آگئی وہ وقت اور پاکستان کا بدلتا ہوا منظر نامہ، فضا میں تشدداور شدت پسندی کی ایسی لہر چلی کہ سارا نقشہ ہی بدل گیا، ایک دوسرے کو مسلمان ہوتے ہوئے کافر کہنا، اپنے آپ کو اصلی اور سچا مسلمان اور دوسرے کی جان کے درپے ہونا لازم ہوگیا۔ یہ نفرتیں اتنی بڑھیں کہ محبت اور رواداری کی فضا ختم ہو گئی۔

ٹی وی پہ خبریں چل رہی ہیں اور خبریں پڑھنے والی خاتون بول رہی ہیں، عاشورہ محرم روایتی جوش وخروش اور مذہبی رواداری سے منایا گیا، سکیورٹی کے بھرپور اقدامات کیے گئے۔ عزاداروں کے جلوسوں کی فضائی نگرانی کی گئی، جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس معطل، کراچی مین چھ ہزار رینجرز اہلکار تعینات، کراچی، راولپنڈی، لاہور اور بہت سےشہروں میں موبائل سروس بند، مرکزی جلوس کی نگرانی کے لیے سی سی کیمروں کی کو نصب کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  پاک امریکہ تعلقات: اعلان جنگ یا تعاون کا نیا دور

یہ کس طرح کی مذہبی رواداری ہے جو اتنی پابندیوں کے باوجود نظر نہیں آرہی۔ یہ کسے بے وقوف بنایا جارہا ہے، یہ کس طرح کا امن و سکون ہے جس میں ہم جیسے لوگ تو شریک ہی نہیں، ہم وہ لوگ جنھیں اپنی روایات، رسومات اور مذہبی رواداری سے پیار ہے اور ہم آج بھی ان دنوں کو یاد کرتے ہیں۔ جب کوئی تفریق ہی نہیں تھی، نہ کوئی شیعہ تھا نہ سنی، نہ کوئی بریلوی تھا نہ دیو بندی، سب مل جل کر ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے ہر تہوار پر ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ اس طرح زبردستی مصنوعی امن کی نوید نہیں دی جاسکتی جب تک دلوں کے فاصلے کم نہیں ہوں گے۔ ہم سب جو اچھے دنوں کو یاد کرتے ہوئے اپنی اپنی تحاریر میں رواداری اور محبت کا پرچار کر رہے ہیں تو ہم سب کو ہی آگے بڑھنا ہوگا۔

اپنے گھر، گلی، محلے اور شہر میں مذہبی رواداری قائم کرنی ہوگی اور نفرتکی دیوار توڑنی ہوگی۔ ان عوامل کا سدباب کرنا ہوگا جن کی وجہ سے تفرقے پھیل گئے ہیں۔ اکثریت اپنے دلوں میں اچھے دنوں کا انتظار چھپائے بیٹھی ہے، ہم ہی ہیں جو مل کر، متحد ہوکر دوبارہ وہ دن لوٹا سکتے ہیں تاکہ ہمارے بچے بھی اپنے بچپن کی خوشگوار یادیں اپنے بچوں کو سنا سکیں، جس طرح آج ہم بچپن میں گذارے محرم کا ذکر احترام اور خلوص سے کر رہے ہیں۔ ہر فرقے کو اپنی اپنی انتہاوں سے نیچے آکر نئے سرے سے محبت اور یگانگت کی فضا قائم کرنی ہوگی۔ ہر فرقے کے سربراہ اور بڑے آگے بڑھیں اورمحبت کے پھول کھلادیں۔ کاش ہم یہ دن دیکھیں اور ہماری اولادیں پر امن پاکستان میں رہیں

اسی بارے میں: ۔  کمرہ عدالت سے نکلتے ہوئے مجرموں کی خود کلامی

در حسین پہ ملتے ہیں ہر خیال کے لوگ
یہ اتحاد کا مرکز ہے آدمی کے لیے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔