ریاست کے اندر ریاست: رینجرز نے وزیر داخلہ کو روک دیا


آپ نے کہیں سنا ہے کہ ایک ایسے ادارے کے اہلکاروں نے اسی وفاقی وزیر کو اندر جانے سے روک دیا جن کا ادارہ خود اس کی وزارت کے ماتحت کام کر رہا ہو۔ کہیں اور ہو نہ ہو لیکن ایسے معاملات پاکستان میں ضرور دیکھنے کو ملتے ہیں۔
اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس واقع ہے جہاں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہونا تھا۔ ان کی پیشی سے پہلے میڈیا اور وکلا کے علاوہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کی بھی ایک قابل ذکر تعداد وہاں پر موجود تھی۔
سابق وزیراعظم کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد ڈیوٹی پر موجود تھی۔
نواز شریف کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
ان پولیس اہلکاروں نے مرکزی دروازے پر اپنی پوزیشنیں سنبھال لی تھیں کہ اچانک اسی دوران رینجرز کے اہلکار وہاں پر آگئے اور انھوں نے پولیس اہلکاروں کو ایک جانب ہونے کو کہا جس کے بعد رینجرز کے جوانوں نے پوزیشنیں سنبھال لیں۔ جس وقت رینجرز کے اہلکار اپنی پوزیشنیں سنبھال رہے تھے اس وقت اسلام آباد پولیس کے افسران بھی وہاں موجود تھے لیکن انھوں نے کوئی مداخلت نہیں کی۔
حکمراں جماعت کے ارکان پارلیمان کے علاوہ وفاقی وزرا اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے چیئرمین اور سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے بھی کمرہ عدالت میں جانے کی کوشش کی تو وہاں پر موجود رینجرز کے اہلکاروں نے اُنھیں وہیں پر روک لیا اور کہا کہ جو فہرست اُنھیں دی گئی ہے اس میں تو ان کا نام شامل نہیں ہے۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے داخلہ امور کے وزیر مملکت طلال چوہدری آگے بڑھے اور کہا کہ دروازہ کھولیں تاہم وہاں پر موجود رینجرز کے کمانڈوز نے ان کی ایک بھی نہ سنی اور وہ تھوڑی دیر گیٹ پر کھڑا ہونے کے بعد واپس آگئے۔
یہ صورتحال نہ صرف طلال چوہدری کے لیے ندامت کا باعث بن رہی تھی بلکہ دیگر وفاقی وزارکے لیے بھی۔ پارٹی کے رہنماوں اور وفاقی وزار نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو ٹیلی فون کردیا جو فون سننے کے فوری بعد وہاں پہنچ گئے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد کی نہ صرف پولیس اور ضلعی انتظامیہ بلکہ رینجرز بھی وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں۔
احسن اقبال شاید یہ سوچ کر تیزی سے اپنی گاڑی سے اتر کر جوڈیشل کمپلیکس کے مرکزی دروازے کی طرف لپکے کہ اُنھیں دیکھ کر وہاں پر موجود رینجرز اور پولیس اہلکار فوری طور پر دروازہ کھول دیں گے۔ لیکن ایسا بالکل نہیں ہوا اور وہاں پر موجود اہلکاروں نے وزیر داخلہ کے آنے کے بعد گیٹ کو تالا لگا دیا۔ وزیر داخلہ اور وزیر مملکت برائے داخلہ امور گیٹ پر کھڑے ہو کر رینجرز کے کمانڈر کو آوازیں دیتے رہے لیکن گیٹ پر موجود نہ تو پولیس افسران اور نہ ہی رینجرز کے اہلکاروں نے ان کی صداؤں پر کان دھرے۔
وہاں پر موجود صحافیوں نے وزیر داخلہ سے سوال بھی کیے کہ کیا کراچی کی طرح اسلام آباد میں بھی رینجرز کو پولیس کے اختیارات دے دیے گیے ہیں۔ ان حالات میں احسن اقبال شدید برہم نظر آئے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے ماتحت ادارے ہی ان کی بات نہیں سن رہے اور ریاست کے اندر ریاست بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیر داخلہ نے وزیر اعظم کو بھی اس صورت حال سے آگاہ کردیا ہے۔ احسن اقبال کہتے ہیں کہ اگر ذمہ داروں کو سزا نہ دی گئی تو وہ ’کٹھ پتلی‘ وزیر داخلہ کے طور پر کام نہیں کریں گے۔
وزیر داخلہ کے جانے کے بعد رینجرز کے کمانڈر برگیڈئیر محمد آصف باہر آئے اور وہاں پر موجود وفاقی وزیر دانیال عزیز کو وضاحتیں دیتے لگے کہ کن وجوہات کی بنا پر وفاقی وزرا اور رہنماؤں کو کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس دوران وہاں پر موجود وکلا نے رینجرز کے خلاف شدید نعرے بازی کی جس کے بعد رینجرز کے کمانڈر واپس جوڈیشل کمپلیکس میں چلے گئے۔
رینجرز کے اہلکاروں کو اپنی ڈیوٹی سنبھالنے کو کس نے احکامات جاری کیے تھے اس بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔ خود احتساب عدالت کے جج محمد بشیر بھی اس سے انکاری ہیں جبکہ چیف کمشنر اسلام آباد جو رینجرز کو تعینات کرنے کے مجاز افسر ہیں ان کا بھی کہنا ہے اُنھوں نے نہ تو رینجرز کو بلایا ہے اور نہ ہی اُنھیں وہاں پر تعینات کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  انڈیا میں ’سیکس سے انکار پر خاوند نے بیوی کو مار ڈالا‘

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 876 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp