فرق نہیں پڑتا کہ ماہرہ کی پشت پر ‘لو بائیٹ’ ہے یا آپریشن کا نشان


ماہرہ خان کو اپنے جسم، زندگی اور طرزِ عمل پر مکمل اختیار ہونا چاہیے۔ یہ ان کا حق ہے جسے نہ دفاع کی ضرورت ہے اور نہ ہی تشریح و تاویل کی۔

ماہرہ خان اور رنبیر کپور کی تصاویر پر کھڑے ہونے والے تنازعے نے مجھے بہت پریشان کیا ہے۔ مجھے ان لوگوں پر غصہ آ رہا ہے جنھیں ان تصاویر پر غصہ آیا تھا۔ مجھے ان لوگوں پر بھی غصہ آ رہا ہے جو سگریٹ نوشی، انڈین اداکار سے دوستی اور اپنی مرضی کا لباس پہننے جیسی چیزوں کا دفاع کر رہے ہیں کیوں کہ انھیں دفاع کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ میں ان لوگوں پر بھی برہم ہوں جو نیویارک میں وقت گزارنے والے بالغ افراد کی خلوت میں مخل ہوئے اور ان کی مرضی کے بغیر تصاویر کھینچ لیں۔

میرا خیال ہے کہ ماہرہ خان کے دفاع کے لیے سامنے آنے والے لوگ، بشمول میری اپنی اداکار برادری سے تعلق رکھنے والے، بنیادی طور پر غلط ہیں، چاہے ان کی نیت درست ہی کیوں نہ ہو۔ جب ہم کسی ایسی چیز کا دفاع کرتے ہیں جسے دفاع کی ضرورت ہی نہیں، جب ہم کسی ایسی چیز کی تاویل پیش کرتے ہیں جسے تاویل کی ضرورت ہی نہیں، جب ہم کسی ایسی چیز کی تشریح کرتے ہیں جسے تشریح کی ضرورت ہی نہیں، تو ہم اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں، اور ایک ایسی آگ کے لیے ایندھن فراہم کر رہے ہوتے ہیں جسے فوری طور پر بجھائے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ماہرہ کی پشت پر موجود نشان ‘لو بائیٹ’ ہے یا آپریشن کے زخم کا نشان۔ یہ کسی اور کی نہیں، ان کی اپنی پشت ہے۔ اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ سگریٹ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ ان کی اپنی صحت کا معاملہ ہے، کسی اور کی نہیں کیوں کہ وہ گھر سے باہر، دوسروں سے دور سگریٹ پی رہی ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ایک انڈین ادکار کے ساتھ دوستی کر رہی ہیں۔ اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ ان کا لباس کیسا ہے۔ یہ ان کا جسم ہے اور وہ فیصلہ کر سکتی ہیں کہ اسے کس حد تک چھپایا جائے یا دکھایا جائے۔

اسی بارے میں: ۔  کنکریٹ کے جنگل میں چیل کا گھونسلہ

ماہرہ خان کو اپنے جسم، زندگی اور برتاؤ پر مکمل اختیار ہونا چاہیے۔ یہ ان کا حق ہے، جس کا دفاع، تشریح یا تاویل نہیں ہونی چاہیے

اس کا احترام ہونا چاہیے، اور بس!

مجھے یہ تنازع مکمل طور پر گھناؤنا لگتا ہے۔ میں نے اپنی کراہت چند لوگوں سے شیئر کی جنھوں نے مجھ سے چند سوال پوچھے:

کیا میں اس لیے برہم ہوں کہ ماہرہ خان میری دوست ہیں؟

ماہرہ خان میری گہری دوست ہیں، لیکن اس برہمی کا تعلق میرے اور ماہرہ کے درمیان تعلق سے نہیں ہے۔ ان کی جگہ کوئی بھی شخص ہوتا تو میں اتنا ہی برہم ہوتا، چاہے میں اسے ناپسند ہی کیوں نہ کرتا ہوں۔

کیا میں اس لیے برہم ہوں کہ ماہرہ سگریٹ پیتی ہیں اور میں نہیں پیتا؟

میں سگریٹ نہیں پیتا اور میں چاہتا ہوں کہ دوسرے بھی نہ پییں۔ لیکن میں ایسی جگہ رہتا ہوں جہاں 36 فیصد مرد اور نو فیصد عورتیں باقاعدگی سے سگریٹ پیتے ہیں۔ ان کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے کوئی ہنگامہ کھڑا نہیں ہوتا۔ اس لیے جب کسی اداکار پر ایک ایسے کام کے لیے حملہ کیا جائے جسے ہماری قوم ویسے قبول کرتی ہے تو وہ ناقابلِ قبول ہے۔ کسی کو صرف اس کی شہرت کی بنیاد پر ہدف بنانا نفرت انگیز ہے۔

کیا میں اپنی بیوی کو اس قسم کا لباس پہننے کی اجازت دوں گا؟

میں اپنی بیوی کو کوئی چیز پہننے یا نہ پہننے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسے کیا پہننا ہوتا ہے، وہ خود فیصلہ کرتی ہے جس کا انحصار موسم، فیشن، سٹائل، سہولت، ذاتی اقدار اور بہت سی دوسری وجوہات پر ہوتا ہے۔ میرے خیال سے ماہرہ خان نے انھی وجوہات کی بنا پر اپنے لباس کا انتخاب کیا ہوگا۔ انھیں اپنے لباس کے انتخاب کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

کیا انڈیا کے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھا غلط نہیں؟

بالکل نہیں!

اسی بارے میں: ۔  فاٹا اصلاحات کے لیے ریفرنڈم کے مطالبے کا پس منظر

یہ سوال ایسے ملک میں پوچھا ہی نہیں جانا چاہیے جہاں بالی وڈ کی فلمیں کسی بھی دوسری قسم کی تفریح سے زیادہ مقبول ہیں۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کو کسی قسم کا ذمہ دار نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر مشہور شخصیات کو، جنھیں لوگ تقریباً ہمیشہ پسند کرتے ہیں۔ لوگ ان کے طرزِ عمل سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کے طور طریقوں پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ان مشہور شخصیات پر دوسروں کی نسبت معاشرے کی طرف سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس کی اپنی حدود و قیود ہیں جن کا پاس کیا جانا چاہیے۔

ماہرہ کا کام اچھی اداکاری کرنا ہے۔ ان کی اداکارانہ صلاحیتوں پر بات ہو سکتی ہے، ان کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، اور تنقید ہو سکتی ہے۔ ماہرہ کو اچھی ماڈلنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب وہ ایسا نہیں کرتیں تو ان کی ماڈلنگ پر تنقید ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ماہرہ کو عوامی مقامات پر وقار اور رکھ رکھاؤ سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔ جب وہ ایسا نہ کریں تو ان پر تنقید کی جا سکتی ہے۔ وہ خلوت میں جو کرتی ہیں، وہ ان کا اپنا معاملہ ہے، نہ کہ اور کسی کا۔

میں ماہرہ کو تقریباً دس برسوں سے جانتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ انھیں خوش تدبیر، قابل اور ذمہ دار اداکارہ پایا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ بہت اہل ماڈل ہیں۔ میں نے ہمیشہ انھیں عوامی مقامات پر وقار، عزت اور رکھ رکھاؤ سے پیش آتے دیکھا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں انھوں نے دس برس تک بطور سلیبرٹی اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں اور اس دوران ایک بار بھی اپنے مداحوں، دوستوں، خاندان کے افراد اور ہم وطنوں کو مایوس نہیں کیا۔

ہمیں ایسا کرنے پر ان کی تکریم کرنے کی ضرورت ہے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

احسن خان کی دیگر تحریریں
احسن خان کی دیگر تحریریں

احسن خان

احسن خان اداکار، ماڈل، اور میزبان ہیں جو سماجی، اخلاقی اور سیاسی معاملات میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔

ahsan-khan has 1 posts and counting.See all posts by ahsan-khan