ڈارسی مبارک ہو، یہ امریکی ماں کا کارنامہ ہے۔۔۔


اے جی ٹی America’s Got Talent 2017 میں ایک بارہ سالہ بچی ڈارسی لینے فارمر کامیاب قرار پائیں ہیں۔ اِس ریٔلیٹی شو میں جب تک میں نے ڈارسی کی پرفارمنس نہیں دیکھی تھی، میں انجلیکا ہیلے کی فین تھی۔ نو سالہ انجلیکا کمال کی گلوکارہ ہیں۔ اگرچہ میں موسیقی کے معاملے میں دیسی لیڈی ہوں، لیکن انجلیکا کی پہلی پرفارمنس دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ بچی بڑوں بڑوں کو ٹف ٹائم دینے والی ہے۔ بارہ سالہ ڈارسی، کیا ٹیلینٹ ہے اِس بچی میں ، ventriloquist ، یعنی کہ ایسی آواز نکالنے والا کہ لوگوں کو پتا نہ چلے کہ بول کون رہا ہے یا آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ اِس ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لئے سخت ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے جو اِس بارہ سالہ بچی نے کی۔ ڈارسی کمال کی ventriloquist singer بھی ہے۔

امریکی خاندانی نظام کی بات ہو تو ہم ترقی پذیر ممالک کے رہنے والوں کے ذہن میں ایک ہی بات آتی ہے کہ ’’امریکی معاشرہ ۔۔۔ بد کردار ماؤں کی ہپی، شرابی اولاد‘‘۔ اگر ہماری ایسی ہی سوچ ہے تو 2017ء میں بھی ہم پسماندہ و ناخواندہ ذہنیت کے مالک ہے۔ 2017ء کے اِس شو میں ٹاپ 10 میں آنے والے ہاٹ فیورٹ کنٹیسنٹس کی عمریں 15 سے 9 سال کے درمیان تھیں۔ اِن میں 9 سالہ انجلیکا اور 12 سالہ ڈارسی شروع دِن سے ہی ہاٹ فیورٹ رہیں۔ یعنی کہ امریکہ کی اگلی نسل بھی دنیا پر حکومت کرنے کے لئے تیار ہے۔

یورپ میں مقیم ایک دوست سے امریکی خاندانی نظام کے بارے میں بات ہوئی تو اُنہوں نے بتایا کہ امریکی بچے کی ماں یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اُس کا بچہ کیا کھائے گا اور کس کس وقت کھائے گا، کس سکول میں جائے گا، اُس کے دوست کون ہوں گے اور دوستوں سے وہ کتنی دیر تک ملے یا اُن کے ساتھ کھیل کود میں کتنا وقت گزارے گا، کتنا وقت وہ پڑھائی کو دے گا اور کتنا وقت وہ نانو کے گھر میں رہے گا۔ غرض امریکی بچے کے ایک ایک منٹ کا فیصلہ اُس کی ماں کرتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اُس بچے کا باپ یا وہ خود امریکہ کی تعمیر و ترقی کے لئے جو خدمات انجام دے رہے ہیں، ہمیشہ نہیں دے پائیں گے، اِس لئے وہ اپنی آنے والی نسل کو تیار کرتی ہے۔ اور یہاں ہمارے بچے ہیں کہ کھانے پر ہی دو دو گھنٹے ضایع کر دیتے ہیں کہ یہ کھانا ہے اور وہ نہیں کھانا۔ آج امریکہ یوں ہی دنیا پر حکومت نہیں کر رہا۔

اسی بارے میں: ۔  فردوس عاشق اعوان: ہاؤس جاب سے پارلیمنٹ ہاؤس تک

نپولین نے کہا تھا کہ ’’ تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو اور میں تم کو بہترین قوم دوں گا‘‘۔ ہم پاکستان میں یہ بہانا کر سکتے ہیں کہ کہاں امریکہ اور کہاں ہماری مائیں، وہاں کا تعلیم یافتہ معاشرہ، عورت کی آزادی اور وہاں کے مردوں کا عورت کو عزت کے ساتھ مقام دینا ہمارے نصیب ہے کہاں۔ ایک حد تک یہ بات درست ہے، لیکن اگر آپ نے کبھی انڈیا کے ریٌلیٹی شوز دیکھے ہوں تو آپ کو پتا چلے گا کہ ٹیلنٹ کے معاملے میں انڈیا اگرچہ امریکہ سے آگے نہیں تو کسی طور پر کم بھی نہیں ہے۔ انڈیا کا خاندانی نظام ہمارے خاندانی نظام سے مماثل ہے۔ آپ نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ انڈیا کے شوز میں اکثر غریب گھرانوں سے بچے آتے ہیں اور کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے والدین خصوصاً باپ بچوں کے ٹیلنٹ کو سپورٹ بھی نہیں کرتے۔ اِن شوز میں آپ نے یہ بات بھی نوٹ کی ہو گی کہ جن بچوں کے والدین اپنے بچوں کے ٹیلنٹ کو سپورٹ کرتے ہیں وہ اکثر بازی لے جاتے ہیں۔ اِس بات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بچوں کی تربیت میں والدین یعنی ماں اور باپ دونوں کی سپورٹ بہت ضروری ہے اور جو اعتماد بچے کو ایسے موحول میں ملتا ہے وہ کہیں اَور سے نہیں مل سکتا۔

آپ نے یو ایس ماسٹر شیف جونئیر دیکھا ہو گا جس کا موازنہ اگر ماسٹر شیف پاکستان سنئیر سے کیا جائے تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یو ایس کے ماسٹر شف جونئیرز پاکستان کے سینئرز سے بہت آگے ہیں۔ غرض امریکہ کی اگلی نسل ہر فیلڈ میں دنیا پر حکومت کرنے کے لئے تیار کھڑی ہے اور اِس دوڑ میں انڈیا بھی شامل ہے اگرچہ ماں کو وہاں بھی اُتنے حقوق حاصل نہیں جتنے امریکی ماں کو ہیں۔ ادھر ہم ہیں کہ ہماری موجودہ ماں اور مستقبل کی ماں کو تعلیم و عزت جیسی بنیادی سہولت بھی حاصل نہیں ہے بلکہ ارضِ پاک پر تو عورت کا استحصال اب انوکھے طریقے سے ہونے لگا ہے یعنی کہ زبردستی تبدیلی مذہب اور پھر نام نہاد نکاح نامے کی صورت میں جبری زنا کرنے کا قانونی لائیسنس۔ جب تک ہم عورت کو عزت، تعلیم اور اعتماد نہیں دیں گے تب تک ہماری مائیں انسان نما ڈمی (dummy) پیدا کرتی رہیں گی اور اِس طرح دنیا پر حکومت کرنے کا خواب تو کجا ہماری اپنی پہچان و بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ ماں اور باپ گاڑی کے دو پہیے ہیں ہماری بقا اِسی میں ہے کہ ہماری اگلی نسل کو اپنی ذمے داریاں اُٹھانے کے لئے تیار کیا جائے اور ایسا گود سے شروع کرنا ہو گا۔ اب اِس میں کسی حکومتی پالیسی کی اِتنی ضرورت نہیں جنتی خاندانی سطح پر گھر کے سربراہ یعنی کہ مرد حضرات کو اپنی ذہنیت تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کی تربیت بہترین انداز سے اُسی وقت ہو سکے گی جب ماں اور باپ دونوں اچھی تربیت کرنے کے قابل ہوں گے اور جب مرد خواتین کو تعلیم، عزت، اخترام اور ذمے داری کے ساتھ اعتماد نہیں دیں گے ایسا ممکن نہیں ہو سکتا۔

اسی بارے میں: ۔  کالکی کی 'نیم برہنہ' تصاویر اور سنی کی شہرت


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔